کالم/مضامین

*عنوان: موجودہ دور میں سور اور دیگر حرام کا استعمال ۔۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: موجودہ دور میں سور اور دیگر حرام کا استعمال ۔۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آج کا کالم ایک اہم ترین موضوع پر ھے جس کا تعلق ایک جانب ہماری صحت تو دوسری جانب ہمارے ایمان سے براہ راست تعلق رکھتا ھے اس بابت بات کرنے سے قبل ڈاکٹر ایم امجد خان، میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تحریر آپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ھوں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ یورپ سمیت تقریباً تمام امریکی ممالک میں گوشت کیلئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کیلئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں، پگ فارمز کا حصہ بیالیس ہزار سے زیادہ ہے۔ کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں چربی ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔ اسے ختم کرنے کیلئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ ساٹھ سال بعد انہوں نے پھر اسکے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جاسکیں۔ صابن بنانے میں اسکا تجربہ کامیاب رہا۔ شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر فہرست کی تفصیل میں سور کی چربی واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔ چونکہ انکی مصنوعات کے بڑے خریدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کیطرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کردی گئی، جس سے انکو تجارتی خسارہ ہوا۔ سنہ اٹھارہ سو ستاون عیسوی میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہوگئیں۔ اسکے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا، جو آخرکار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان حقائق کو پہچان لیا اور سور کی چربی لکھنے کے بجائے انہوں نے ایف آئی ایم فم لکھنا شروع کردیا۔ سنہ انیس سو ستر کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے…؟ تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کیلئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔ اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔! آخرکار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ صرف انکے اپنے محکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیا استعمال کررہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اسطرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ ای انگریڈینٹس کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں، ان مصنوعات میں دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس، بسکٹ، کارن فلاکس، ٹافیاں، کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔ سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔ لہٰذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے آئٹمس کی خریداری کرتے وقت ان کے کنٹینٹس کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں، کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔ E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E904۔۔۔ معزز قارئین!! آپ سب مسلمان ہیں اور حکومت وقت کو بآور کرائیں ان وزراء و مشیران اور بیوروکریٹس کو کہ چند ذاتی حرام دولت کمانے کے بدلے میں پوری قوم کو حرام مت کھلوائیں۔ آج جدید دور میں کچھ نہ پوشیدہ رہ سکتا ھے اور نہ ہی جھوٹ غالب رہ سکتا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسی درآمد پر خود حکومت پابندی عائد کردے کیونکہ آپ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ریاست میں غیر شرعی اور حرام کی فروخت جرم اور ریاست کیساتھ غداری ھے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے وزیراعلیٰ اور متعلقہ وزراء دھڑلے سے یہ مزموم غیر شرعی غیر آئینی کام کررھے ہیں انکے ان امور پر پاکستان بھر کی اسلامی سیاسی و غیر سیاسی جماعتیں اور تبیلغی ہر مسلک کے مراکز نے آنکھیں بند کرلیں چپ سادھ لی ہیں تاکہ چندہ عطیات و دیگر ذرائع سے آمدن نہ رک جائے ان سب مردودوں منافقوں اور دین کے ٹھیکیداروں کو رتی برابر احساس نہیں۔ ریاست و حکومت نے کافر ہونے کا پورا پورا ثبوت پیش کردیا ھے اور یہی عمل ان مذہبی ٹھیکیداروں کا رھا ھے۔ اس قوم کو سور تو سور کتا گدھا بلی چوہے اور نجانے کون کون سے حرام نجس جانور کھلا چکے ہیں۔ اگر اب بھی عوام بیدار نہ ہوئی تو ہماری نسلیں حرام سے بھی بدتر ہونگیں جو مکمل دین اور ایمان سے خالی اورشیطانی و ابلیسی عوامل سے لبریز۔ آنکھیں کھولو اور ہوش کے ناخن لے لو ان چند مافیاؤں کا قلع قمع عوام نے ہی کرنا ھوگا وگرنہ روز محشر اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کو کیا چہرہ دکھاؤ گے۔۔۔۔۔ !!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You