سندھ

عنوان : رمضان، مہنگائی اور ھماری ذمہداریاں

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*

*عنوان : رمضان، مہنگائی اور ھماری ذمہداریاں ۔۔۔۔!!*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

گزشتہ چند دنوں سے ڈیجیٹل میڈیا میں رمضان کی آمد کی مبارکباد کا لا متناہی سلسلہ جاری ھے وہیں دوسری جانب ہوشربا اضافہ کے سبب عوامی غم و غصہ اور حکومت و ریاست کو سخت تنقید کی زنجیروں میں گھسیٹا جارھا ھے لیکن کبھی ایک متاثر فرد نے اپنا کبھی بھی احتساب نہ کیا اور نہ ہی کرنے پر آمادہ نظر آیا، اپنا احتساب کی وضاحت کیلئے بتاتا چلوں کہ میرے والد محترم ہمیشہ مجھے نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ کبھی بھی اپنے پاؤں چادر سے زیادہ مت پھیلاؤ یعنی کفایت شعاری اپناؤ نہ بخیل بنو اور نہ ہی شاہی خرچ گرچہ تم نے ان اصولوں کو اپنالیا تو تمہیں کبھی بھی پریشانی و مصیبت کا سامنا ہرگز نہیں کرنا پڑیگا۔۔۔ معزز قارئین!! آج پاکستان میں پیاز کا ریٹ مسلسل بڑھ رہا ہے لہٰذا چھوٹی سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اکٹھا پانچ کلو یا دس کلو خریدنے کی ضرورت نہیں، اس طرح کرنے سے ریٹ اور اوپر چلا جائیگا کیونکہ ڈیمانڈ بڑھ جائیگی اور ڈیمانڈ کیساتھ ریٹ بھی۔ آپ اس موقع پر اس ریٹ کو کنٹرول کرنے کیلئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آپ نے کرنا صرف یہ ہے کہ روزمرہ اشیاء میں سبزی کیساتھ ایک پیاز یا دو پیاز خریدیں یعنی جتنا آپ سبزی میں ڈالتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد تھوڑا تھوڑا خرید لیا کریں۔ انشاءاللہ چند دن کرکے دیکھیں ریٹ ٹوٹ جائیگا کیونکہ جب دکاندار ہی پیاز نہیں بیچ پائیگا تو بوریوں کی یا منوں کے حساب سے ڈیمانڈ نہیں رہیگی، جس سے پیاز کے بڑے ذخیرہ اندوز متاثر ہونگے، کیونکہ پیاز کو زیادہ عرصے تک اسٹور نہیں کیا جاسکتا۔ بسم اللہ تو کریں، پھر دیکھیں، ذخیرہ اندوز کیسے بلبلاتے ہیں۔ جب آپ نے پیاز زیادہ خریدنی ہو تو اس وقت خریدیں جب ریٹ کم ہو، اس خریداری سے کسان کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن جب ریٹ حد سے زیادہ بڑھے ہوں اس وقت زیادہ خریداری سے فائدہ کسان کو نہیں بلکہ زخیرہ اندوز کو ہوتا ہے کوشش ضرور کجیئے گا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! دانشمندی کا تقاضہ ہیکہ روزمرہ ضروریات زندگی کی ہر اس شے کے استعمال اور خریداری پر خصوصی توجہ دیں جو زخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں، چوروں اور معاشرے کے ناسوروں کی تقویت کا باعث بنتے ہیں، لہٰذا مہنگائی کو قصداً اپنے اوپر مسلط نہ ھونے دیں اور فالتو غیر ضروری اشیاء بلخصوص، پیاز، ٹماٹر، ملاوٹ زدہ دودھ، انڈے، مرغی، سبزیاں، پھل کیساتھ ساتھ پیٹرول اور پیٹرولیم اشیاء کی خریداری بھی محدود کرلیں اور کم از کم، وقفے وقفے سے شیڈول بناکر دس دس دن تک مکمل بائیکاٹ کریں۔ مہنگائی کا کنٹرول سوئچ خود عوام کے یاتھ میں ھے اور عوام ہی اسے بہتر انداز میں لاسکتے ھیں کیونکہ جہاں حکومتوں کی پالیسیاں ناکام رہیں جہاں ریاست فیل ھوجائے جہاں عدالتوں کے فیصلے ہوا میں اڑا دیئے جائیں جہاں مافیا کرپشن رشوت لوٹ مار کا راج قائم ہوجائے وہاں پر عوام ہی اپنے فیصلے اور اپنے احکامات اپنے اعمال سے جاری کرسکتے ھیں اس کیلئے ملک بھر کے عوام کو اپنا اتحاد اتفاق اور منظم رہنا اور اپنے اوپر ظلم و زیادتی کا بائیکاٹ کے ذریعہ ہی مقابلہ کرنا شرط زندگی بن جاتا ھے۔ کمزور بزدل ڈرپوک عوام ظلم و بربریت سہتی رہتی ھے لیکن زندہ بہادر خوشحال ترقی یافتہ باشعور قوم بھرپور مقابلہ آئیں مافیا کو اپنی حیثیت اور اہمیت بتائیں ان کے ہر ظالم عمل کو اپنے بائیکاٹ سے شکست دیں مہنگی اشیاء کا بائیکاٹ اپنی زندگی کی عادت بنالیں پھر دیکھئے گا کہ پاکستان کس تیزی سے ترقی خوشحالی امن و سکون کی جانب بڑھے گا۔۔۔۔۔ !!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You