*عنوان: رسمیں اہم یا فرائض و سنت اہم *

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: رسمیں اہم یا فرائض و سنت اہم *
*کالمکار: جاوید صدیقی*
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر قیامت کے دن فخر کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا ترجمہ:”تم کو جو عورتیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو۔“۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الرعد آیت 38 میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے متعلق فرمایا ترجمہ” آپ سے پہلے ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور انھیں ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا“۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا معاشرہ مسلسل دین الہٰی دین محمدی ﷺ سے دانستہ و غیر دانستہ، شعوری و لا شعوری طور پر دور سے دور ہوتے چلے ہوتے جارھے ہیں اس بابت ہمارے معاشرے کے والدین کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی شدید ضرورت ھے، ہمارے معاشرے کا اس وقت سب سے بڑا مسلہ نکاح کا بنادیا ھے اس عمل کو آسان اور احکام خداوندی کے تحت لازماً رکھنا ہوگا کیونکہ اس بابت معافی نہیں۔ آج کے زمانے میں ایک بیٹی کا نکاح یعنی شادی اس قدر مہنگی بنادی گئی ھے کہ نکاح مشکل زنا آسان ہوگیا ھے یہ عمل قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ھے جو اس عمل کا بلواسطہ یا بلاواسطہ حصہ داربنیں گے وہ اللہ کے غضب سے بچ نہیں سکتے کیونکہ نکاح میں مشکلات پیدا کرنے والے دجالی و ابلیسی گروہ میں شمار ہوتے ہیں۔ نکاح میں بھاری شرائط بت پرستوں، مشرکوں اور غیر مسلموں میں برسوں سے رائج رھا ھے جبکہ اسلام نے ان رسومات اور شرائط کی سخت ترین منع کیا بلکہ اس عمل کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! آج کے زمانے میں تیس لاکھ کا جہیز، پانچ لاکھ کا کھانا، گھڑی پہنائی، انگوٹھی پہنائی، مکلاوے کے دن کا کھانا، ولیمے کے دن کا ناشتہ، پھر بیٹی کو رخصت کیا تو سب سسرالیوں، میں کپڑے بھیجنا، برآت کو جاتے ہوئے بھی ساتھ میں کھانا بھی بھیجنا، بیٹی ہے یا کوئی سزا ہے اور یہ سب تب سے شروع ہوجاتا ہے جب منگنی کردی جاتی ہے کبھی نند آرہی ہے، کبھی جیٹھانی آرہی ہے، کبھی چاچی ساس آرہی ہے، کبھی ممانی ساس آرہی ہے، ٹولیاں بنا بنا کے آتی ہیں اور بیٹی کی ماں ایک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے سب کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا پیش کرتی ہے اور سب کو اچھے طریقے سے ویلکم کرتی ہے۔ باپ کا ایک ایک بال قرضے میں ڈوب جاتا ہے اور ایسے میں بیس لوگ گھیرے میں لے کے کہتے ہیں جی کتنے بندے برآت میں ساتھ لے کر آئیں سو یا دو سو بندے تو ہمارے اپنے رشتے دار ہی ہیں اور باپ جب گھر آتا ہے شام کو تو بیٹی سر دبانے بیٹھ جاتی ہے کہ اس باپ کا بال بال میری وجہ سے قرضے میں ہے۔ خدا کا واسطہ ہے آپ کو خدارا ان ہندوؤں کی رسموں کو ختم کردو تاکہ ہر باپ اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کرسکے۔ روز محشر ایسے امت مسلہ بلخصوص پاکستانی قوم سے آپ ﷺ منہ موڑ لیں گے افسوس کہ ہماری پڑھی لکھی خواتین جب اپنے بیٹوں کے رشتوں کیلئے ہر خواہش جائز و ناجائز کے بہانے کمزور سفید پوش پر بوجھ ڈال کر اپنی خواہشات کی تکمیل کرکے خوش ہوتی ہیں اور جب یہی اپنی بیٹی کی شادی کرتی ھیں تو انہیں سادگی اللہ و رسول خوب یاد آجاتا ھے منافقت اس قدر کہ ابلیس بھی پریشان نظر آئے ویسے بھی پاکستانی معاشرہ شیطان و ابلیس اور دجال کا پسندیدہ بن چکا ھے کیونکہ پاکستانی معاشرہ انتہائی منافق جھوٹا ریاکار بد دینت و بد دیانت کی عروج پر قائم ھے سب استغفار پڑھیں اور اپنے قول و فعل کو مکمل دین محمدی ﷺ پر استوار کریں بصورت اللہ کے غضب کیلئے تیار ہوجائیں۔ استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ ۔۔۔۔۔!!




