کالم/مضامین

عنوان: حکمت و دانائی سے مزین حکمران یا جرنیل ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: حکمت و دانائی سے مزین حکمران یا جرنیل ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی

دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پزیر کسی بھی ملک اور ریاست میں اس قدر بے چینی عدم تحفظ عدم اعتماد عدم استحکام نہیں پایا جاتا جو ھمارے ملک میں عرصہ دراز سے چلا آرھا ھے۔ ھم پہلے پہل برطانوی کالونی تھے وقت کیساتھ ساتھ ھمارے حکمرانوں نے امریکی کالونی بھی بناڈالا کہنے کو تو ھم آزاد ملک ھیں مگر عملاً اس کے برخلاف کیونکہ ھمیں معاشی معاشرتی اور ذہنی غلامی کی زنجیروں میں ھمارے سابقہ و موجودہ حکمرانوں اور چند ایک جرنیلوں نے اس قوم کو مغلوب بناکر رکھ دیا۔ تاریخ شاہد ھے کہ ھمارے ازلی دشمن بھارت میں کبھی نہیں سنا اور دیکھا کہ وہاں مارشلاء نافذ کردیا گیا ھے اور عوام کے مینڈیٹ کو کچل دیا ھو، وہاں کی عدالتوں میں ججز نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ھوئے فیصلے صادر کیئے ھوں اگر مذیب کی بات کی جائے تو اس پر مکمل ناانصانی اور انسانی حقوق کی حق تلفیاں جاری رھیں لیکن اگر ریاست اور ملک و قوم کی نظر سے دیکھیں تو بھارت اٹھائیس ریاستوں اور آٹھ یونین پر مشتمل ھونے کے باوجود جے ہند کا ایک ہی نعرہ تمام بھارتی لگاتے ھیں ان سب میں بناء تفریق مذہب و نسل و قبیلہ محب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری نظر آتی ھے مگر دوسری جانب وہ ملک جو نظریہ اسلام پر معروضِ وجود میں آیا کہیں بروہی کہیں بلوچی کہیں پنجابی کہیں پٹھان کہیں سندھی کہیں مہاجر کہیں سرائیکی کہیں مکرانی کہیں ہزاروی کہیں سواتی کہیں گلگتی کہیں تھری کہیں پوٹھوہاری اور کہیں سنی کہیں شیعہ کہیں وہابی کہیں اہلحدیثی کہیں دیوبندی زبانوں میں قبیلوں میں نسلوں میں فرقوں میں گوکہ پاکستانیوں کو تقسیم در تقسیم کررکھا ھے۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ پاکستانیوں کو کس نے تقسیم در تقسیم کیا؟؟ ظاہر ھے بااختیار اور مقتدر لوگوں نے ہر اس نے جس کے ہاتھ اقتدار کی دوڑ تھی اور ھے۔ اس ریاست کو آگے لیجانے کی ذمہ داریوں میں جہاں سیاستدانوں کا کردار مسخ رہا ھے وہیں سابقہ جرنیلوں کی بیوقوفیاں اور غیر سنجیدگی بھی شامل ھیں۔ وطن عزیز کو جس قدر اشرفیہ بیوروکریٹس تاجر جاگیردار زمیندار صنعتکار نے نچوڑا اور برباد کیا اللہ انہیں کبھی معاف نہیں کریگا۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ حقیقت مسلمہ ھے کہ سابق وزیراعظم نواب لیاقت علی کی شہادت کے بعد اسٹبلشمنٹ یعنی افواج پاکستان نے سیاست و حکومت پر شب خون مارا جبکہ فوج کا کام صرف اور صرف ملک و قوم اور ریاست کی حفاظت کرنا ھوتا ھے۔ اسے نہ سیاست و تجارت میں آئینی و قانونی حق حاصل ھے اور نہ ہی عوامی رائے سے منتخب ھونے والے سیاستدانوں کی حکومت گرانے اور بنانے کا ذمہ ھے۔ پاکستان جب تک اس موجودہ نظام ریاست اور اس کے طریقہ کار سے خود کو الگ نہیں کرتا تب تک ملک و قوم اور یہ رہاست اور عوام شدید پستی و تنزلی کا شکار رھیں گے۔ دوسری جانب اگر سیاستدانوں کا کردار دیکھیں تو سب کے سب ایک ہی رنگ میں رنگے ھوئے نظر آئیں گے، کوئی دودھ کا دھلا نہیں صاف و شفاف نہیں سب کے سب منافق جھوٹے دھوکہ باز بددیانت اور خائن ھیں کیونکہ یہ سب سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما اسٹبلشمنٹ کے سائے میں پیدا ھوئے ھیں جو پہلے سے موجود تھے وہ خود جاکر ان کی گود میں بیٹھ گئے، ھر مارشلاء اور ایمرجنسی کے دور میں انہی سیاستدانوں نے اپنی اپنی جیبیں بھریں وزراتوں کے مزے لیئے۔ قومی خذانے کو لوٹنے کا عمل سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کرنے کے بعد سے جو شروع ھوا وہ تاحال جاری ھے گویا آپ کو شہید ہی اسی سبب کیا تھا کہ ایک ایماندار دیانتدار سچا مخلص رہبر حکمران کی موجودگی میں پاکستان کو کمزور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جو لوگ من پسند سیاستدانوں کے گیت گاتے ھیں خدارا کبھی حقیقت کی آنکھ سے تحقیق و مشاہدہ کرلیں پھر آپ لوگ ان کیلئے نعروں جلسہ و جلوس میں شریک ھوتے ھیں کہ نہیں یقیناً کبھی بھی ان سب سیاستدانوں کے ساتھ کھڑے نہیں ھونگے۔ اب تو ان سب کے سب لٹیروں میں میڈیا بھی شامل ھوگئی جو جھوٹ کو پھیلانے اور پروپیگنڈہ کرنے میں کوئی موقع نہیں چھوڑتی۔ یاد رھے کہ امن کے وقت جنگ کی تیاری رکھنی چاہئے جنگیں ہر وقت روز روز نہیں ھوتیں لیکن حکمت و دانائی اور تدبیریں ہر وقت ہر لمحہ کی جاتی ھیں۔ مستعدی چاق و چوبند اور ذہانت و ماہرانہ صلاحیت کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے کم وقت میں بار بار مشقیں جاری رکھنی چاہئیں یہ اسی وقت ممکن ھوسکتا ھے جب ملک اور ریاست معاشی طور پر مستحکم و مضبوط ھو لیکن ھمارے ہاں چور اچکے ڈاکو لٹیرے ہر طرف ہر مقام پر پھیلے ھوئے ھیں۔ پاکستان ذہنی و جسمانی غلاظت کے ڈھیر میں چلا گیا ھے ہر ایک بااختیار نے گند پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پاکستان کوڑا کرکٹ غلاظت میں اس قدر پھیل گیا ھے کہ کہیں خدانخواستہ دشمن ماچس کی تیلی لگاکر خاکستر نہ کردے اس وقت سے پہلے ان تمام گند غلاظت کو صاف کرنا ناگزیر بن چکا ھے۔ حالیہ دنوں میں یہ بدکردار سیاستدان بندر کا تماشا لگائے بیٹھے ھیں اور عوام کو مسلسل اپنے جال میں پھنسانے کیلئے کوئی نہ کوئی جاہلیت کا مظاہرہ کرتے ھیں یہ سب خبیث ہیں اور آپس میں نورا کشتی کھیلتے ھیں۔ میں نے اپنی قوم کو بیدار کرنے کی کوشش جاری رکھی ھوئی ھے کہ اس نظام سے جان چھڑائیں اور شرعی نظام کو نافذ کرنے کیلئے متحد ھوجائیں اپنے اندر اتحاد یقین پیدا کریں اور نظام مصطفیٰ ﷺ کو رائج کرنے کیلئے مقتدر قوتوں کو مجبور کردیں۔ ھماری اسٹبلشمنٹ ایک بہترین مسلم ھیں انہیں بھی نظامِ مصطفیٰ ﷺ سے لگاؤ ھے اور چاہتے ھیں کہ پورے ملک میں نافذ ھو مگر قوم کے شیزازے بکھرنے کے سبب چپ سادھ لی ھے۔ پاک افواج کے کور کمانڈرز سمیت تمام جنرلز منتظر ھیں کہ کب قوم میں اسلام اور دین سے والہانہ محبت جاگتی ھے کب وہ ان مورثی خداؤں کی سیاسی پرستی سے باز آتے ھیں کب قوم قرآن سے عشق میں مبتلا ھوتے ھیں اگر قوم نے عملاً مظاہرہ پیش کردیا کہ وہ ان منافقین جھوٹے عیاش ایلیٹ جماعت اشرفیہ سیاسی حکمران و سیاسی جماعتوں سے کنارہ کش ھوگئے ھیں اور ان نام نہاد مذہبی جماعتوں کو بھی رد کرچکے ھیں تو اگلے ہی روز پاکستان اپنے نظریہ کے مطابق اسلامی مملکت پاکستان کے نام سے ابھر جائیگا یاد رھے کہ دینِ محمدی ﷺ اور نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں ھی کامیابی و کامرانی پہناں ھیں۔ خلفائے راشدین کا دور ھو یا مسلم سپہ سالار نور الدین زنگی صلاح الدین ایوبی سلطان التمش سلطان ارطغرل غازی سلطان عبدالحمید محمد بن قاسم ٹیپو سلطان تیمور لنک و نواب سراج الدولہ سمیت بیشمارمسلم سپہ سالاروں نے اسلام کی ترویج و تبلیغ اور فروغ کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ پاکستانی جرنیلز کیلئے یہی کافی ھے کہ وہ ذہن نشین کرلیں کہ مسلم سپہ سالار میں سب سے پہلے اور عظیم ترین سپہ سالار آپ ﷺ تھے آپ ﷺ کے بعد اصحاب کرام تابعین و تبع تابعین اسی لیئے آپ پر فرض اور لازم ھے کہ آپ اسلام اور پاکستان کے محافظ ھیں آپ سب کا عمل سنتِ رسول ﷺ اطاعتِ رسول ﷺ ھونا چاہئے۔ مسلم سپہ سالار ہتھیار پر نہیں بلکہ اللہ و رسول ﷺ پر بھروسہ و اعتماد و یقین کیساتھ لڑتا ھے اور ایسے ایمان یافتہ جنگجوؤں مجاہدوں کو اللہ کامیابی سے ہمکنار ضرور کرتا ھے۔ عوام کو چاہئے کہ اپنی افواج کا مورل بلند کرے اور دشمنوں کی زبان بولنے والوں کے خلاف ڈٹ جائے کیونکہ دشمن کو یہی خائف ھے کہ پاکستانی اپنی افواج سے والہانہ عشق رکھتے ھیں کسی ایک جرنیل کی غلطی کو پوری افواج پر ہرگز نہ تھونپیں جو افواج پاکستان کی قدر نہیں کرتا وہ ھم میں سے نہیں۔ غزوہ ہند بہت قریب ھے یہی ھمارے سپاہی اور جرنیل میدان جنگ میں کود پڑیں گے کیونکہ یہ جنگِ عظیم ھے جو شہید ھوگا وہ شہید عظیم اور جو غازی ھوا وہ غازی عظیم اس ملک سے محبت کریں نفرتوں تعصب فرقہ بندی کی زنجیر کو توڑ کر ایک مسلم ایک پاکستانی بنیں تاکہ روزِ قیامت محبت والوں میں اٹھائے جائیں دعا ھے اللہ مجھے غزوہ ہند کا مجاہد بناکر شہادت نصیب فرمائے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You