عنوان: اردو زبان اور ہماری ذمہداریاں

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: اردو زبان اور ہماری ذمہداریاں ۔۔۔ !!*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
زمانہ طالبعلمی سے ہی مجھے انگریزی زبان ناپسند تھی گویا اسے اپنے اوپر بوجھ سمجھتا تھا، پرائمری سے میٹرک تک تمام مضامین جن میں سائنس ، جغرافیہ ، زراعت ، اسلامیات ، معاشرتی علوم ، مطالعہ پاکستان ، طبعیات ، کیمیا اور بائیولوجی سمیت ریاضی کو پڑھنے اور سمجھنے میں بہت آسانی محسوس ھوتی تھی کیونکہ یہ مضامین اردو زبان میں تھے یہی سبب تھا کہ سوائے انگریزی تمام مضامین میں عبور رکھتا تھا اور ان مضامین میں ذہین طالبعلم کہلاتا تھا لیکن اس وقت بھی چند ایک اساتذہ کرام تمام مضامین سے زیادہ صرف انگریزی میں عبور کو ہی کامیابی اور ذہانت سمجھتے اور کہتے تھے انکے مطابق اسکی سب سے بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ، ریاستی نظام اور معاشرے کی ذہنی پختہ غلامان سوچ تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ آپ سب نسلیں دیکھیں گے کہ یہ آپکے جاہل ان پڑھ بے شعور حکمران اور وزراء آپکو اپنی غلامان سوچ کے تحت اس نسل کو ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد اور ناکارہ کرکے ہی دم لیں گے، خیر اس وقت انکے کلمات کا احساس نہ ہوتا تھا لیکن اب بہت زیادہ شدت سے محسوس کرتا ھوں کہ ھماری قومی زبان تمام زبانوں میں بہترین زبان ھے مگر اسے عصبیت ، تعصب اور بغض کے بناء جس قدر اسکا استحصال کیا جاتا رھا ھے ، شائد ہی کسی ریاست میں ایسا ھوتا ھو لیکن تاریخ کے تمام اوراق الٹ پلٹ اور سمیٹ کر دیکھ لئے یہ زیادتی و ظلم صرف اردو زبان پر ہی ھوا ھے وہ بھی ریاست پاکستان میں جہاں کے بانی اور قائدعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے معروض وجود میں آتے ہی اسمبلی میں قانون پاس کیا کہ پاکستان کی قومی زبان "اردو” ہی ھوگی آپکے انتقال اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اردو کو جس قدر لپیٹ کر قید خانہ کے کوزے میں بند کردیا گیا اس پر جس قدر افسوس اور دکھ کیا جائے کم ھے۔ پچھہتر سال بعد سپریم کورٹ نے اردو زبان کے نفاذ کے عدالتی احکامات جاری کرکے ہوئے ریاست پاکستان اور وفاق و صوبائی حکومتوں کو پابند کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی وصیت اور حکم کے مطابق فی الفور پاکستان کی قومی زبان "اردو” کو سرکاری و نجی سطح پر رائج کیا جائے لیکن اس عدالتی حکم نامہ کے باوجود کئی سال ہوگئے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! دﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻟﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻗﻮﻡ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﮨﻮ۔ دﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻠﮏ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ھے جبکہ اﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ۔ کم ﻣﺪﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ملک ﺟﺮﻣﻨﯽ ھے اور جرمنی ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ انگریزی ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ دﻧﯿﺎﺋﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻠﮏ ﺗﺮﮐﯽ ھے جبکہ ترﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺳﮯ لیکر ﭼﯿﻒ ﺟﺴﭩﺲ ﺗﮏ ﺳﺎﺭﺍ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﺮﮎ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ۔ چین ﻣﯿﮟ آپکو ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﯾﺎ ﻧﺠﯽ ﻋﮩﺪﮦ ﺩﺍﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ آئیگا۔ انڈیا ﺟﯿﺴﺎ ﻗﺪﺍﻣﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﻣﻠﮏ ﺍﻗﻮﺍﻡ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ آپکو ﮨﻨﺪﯼ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ایران ﮐﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﮨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺩیئے ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ اور ﺍﯾﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﻧﻮﺑﻞ ﺍﻧﻌﺎﻡ کیلئے ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔ پتا ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﺎﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺮﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ؟؟ عجب ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺭﺩﻭ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﻟﮧ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮬﮯ اور ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍﺩﺏ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ "ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ "ساری ﺩﻧﯿﺎ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺮﮔﺌﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ اور ہم ﻧﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﻋﻤﺮ ﮔﻨﻮﺍﺩﯼ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ زبان ﺳﯿﮑﮭﺘﮯ اور ﺳﯿﮑﮭانے میں۔ قومی زبان اُردو کے نفاذ کیلئے انفرادی طور پر کرنے کے کام جو ہم کرسکتے ہیں ان میں اپنی گفتگو میں انگریزی کے الفاظ کا استعمال ترک کریں۔ سماجی ابلاغ سمیت ہر مقام اور موقع پر قومی زبان استعمال کریں۔ انگریزی میں ملنے والے پیغامات پر اپنا ردعمل دیں تاکہ آئندہ آپکو انگریزی میں پیغامات نہ بھیجے جائیں، اپنے تعارف نامے اردو میں شائع کرائیں، گھروں کی تختیاں نام، مکان نمبر اردو میں لکھوائیں۔ اپنی تقریبات کے دعوت نامے اردو میں جاری کریں اپنے دستخط سرکاری، و نجی دستاویزات، بینک اکاونٹ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ سمیت ہر جگہ اردو میں کیجئے۔ رومن اردو قومی زبان کے رسم الخط کو بگاڑنے کی ایک مذموم اور منظم سازش ہے۔ اسکا ہر مقام اور موقع پر تدارک کرنے کیلئے اسکی مذمت کریں تاکہ اسکا استعمال بتدریج ختم کیا جاسکے۔ اپنے حلقہ تعارف میں سب کو نفاذ اردو کی جدوجہد میں شمولیت کی ترغیب دیں۔ غیر ملکی زبان کے ناجائز تسلط کی تباہ کاریوں سے ہر فرد کو آگاہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔ موبائل فون اور کمپیوٹر میں اردو استعمال کرنے کی رہنمائی کرتے رہیں۔ حکومت بالخصوص نوکر شاہی کی انگریزی کی پشت پناہی کی دستور شکن منظم سازش کی ہر سطح پر مذمت کریں۔ ہم بذاتِ خود نفاذ اردو کیلئے یہ سب تو کرسکتے ہیں تو آ ج سے ہی شروع کیجیے۔
نفاذ اردو کیلئے من حیث القوم ہر فرد کی ذمہداری ھے کہ وہ اپنی اپنی زندگی کے تمام معاملات کی ترویج، ترسیل اور ابلاغ میں اردو زبان کو ہی استعمال کریں اور زندگی کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اردو کا استعمال لازم و ملزوم بنالیں۔ چند دنوں قبل کراچی میں واقع ادارہ قومی مقتدر اردو پاکستان کے زیر اہتمام ایک تقریب میں جامعات سے تعلق رکھنے والی ماہر شعبہ اردو زبان کے پروفیسرز اور ڈاکٹرز سے شرف ملاقات نصیب ھوئی، چائے کی میز پر اردو زبان کی زبوں حالت پر تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس مشکل سے اردو زبان کو نکالنے کیلئے ایک آزادانہ مشاورت کی گئی، ان بڑی شخصیات کے درمیان ہمت کرکے ھم نے اپنا مشورہ بھی پیش کردیا کہ اردو کی ترویج، رغبت اور ترغیب کیلئے اردو دان بلخصوص اردو زبان کے تحفظ کی تنظیمیں اور گروہ کو اردو ٹائپنگ کی تربیت کیلئے اسکول و کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر متواتر ورکشاپ کے انعقاد کو جاری رکھنا چاہئے تاکہ رومن اردو کا جڑ سے خاتمہ ممکن ھوسکے۔ ہمارے پیارے دوست طارق بن آزاد ہیں یہ ادارہ مقتدر قومی اردو میں ایک افسر ھیں انھوں نے بھی یقین دلایا کہ وہ اس بابت اسلام آباد ہیڈ آفس کو ھم سب کی مشاورات بھیجیں گے تاکہ اردو کے فروغ اور ترویج میں ادارہ قومی مقتدر اردو بھی اپنا موثر کردار ادا کرسکے، یہاں میں بحیثیت صحافی و لکھاری اپنے ملک بھر کی تنظیموں اور کلبس کے عہدیداران سے بھی امید اور گزارش کرتا ھوں کہ وہ اردو زبان و ٹائپنگ کی تربیت کیلئے ورکشاپس کے انعقاد کے سلسلے کو جاری کریں تاکہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا میں انٹرنی یعنی حالیہ فارغ التحصیل طلباء و طالبات کیلئے ایک بہترین تربیت کا عمل مل سکے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بھی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اردو کی ترویج، ترغیب اور فروغت کیساتھ ساتھ گاہے بگاہے ورکشاپ کے انعقاد کو یقینی بنائیں تاکہ ہماری نسلیں اور آنے والی نسلیں درست اور صحیح سمت میں ترقی و کامرانی اور خوشحالی کی جانب تیزی سے بڑھ سکیں۔۔۔۔۔!!


