کالم/مضامین

عنوان:مسلمان کی عزت و حرمت جہاد میں ہے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:مسلمان کی عزت و حرمت جہاد میں ہے

جہالت کے اندھیروں میں جب عرب ڈوبا ھوا تھا اس وقت طاقتور قبیلہ حکمرانی کرتا تھا یہ طاقت دولت سے ہتھیار سے اور محافظ جتھے سے ہوا کرتی تھی اس زمانے میں غریب کمزور ہونا باعث شرم اور اذیت تھا طاقتور عورتوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے تھے عورت ذلت کی علامت تھی بے وقعت اور حقیر سمجھی جاتی تھی لیکن جب دین اسلام آیا تو اس نے نہ صرف عورتوں کو بلکہ حیات کے تمام رشتوں کی تمیز اور مقام اور سے نوازا اور پاک و صاف شفاف و مطہر دین اسلام کے فروغ میں مشرکین و کفار کیخلاف جہاد کیئے۔ جہاد کا حکم الله نے اس لیئے دیا کہ وہ بہتر جانتا ہے کہ انسان سرکش بھی ہے اور انکسار بھی اور نافرمان بھی مگر وہ انسان جو شیاطین کے کاموں کے عادی نہیں بنتے وہ رحمٰن کی جانب چلے آتے ہیں ایسے انسانوں کیلئے سلامتی ہے لیکن جومنافقت اور دین محمدی دشمنی میں غرق ہوتے ہیں بشمول غیر مسلم ہونے کے ساتھ ساتھ شرانگیزی اور فتنوں سے باز نہیں آتے ان جیسوں کے خلاف جہاد کا بار ہا بار حکم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتی میں فروغ اسلام اور دین کی ترویج کیلئے کفار و مشرکین کیخلاف کئی غزوات لڑیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد آجتک دین اسلام کی سلامتی اور فروغ کیلئے جہاد جاری و ساری ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تک جاری رہیں گے۔انہی جہادی سلاسل میں آرما گیڈن، ملحمتہ الکبریٰ، ہرمجدون (ہرماجیدون) کے بارے میں احادیث اور دیگر کتب کی نظر میں جو بیان آیا ہے وہ یہ کہ وہ جہاد یعنی جنگ ضرور ہوگی۔ہزاروں سال سے اسکی پشینگوئیاں کی جاتی رہی ہیں۔ تمام مذاھب والوں کو اسکے بارے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔ آسمانی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔۔۔ معزز قارئین!! ہرمجدون کیا ہے؟ کہاں ہے؟۔ ہرمجدون، دو عبرانی الفاظ ” ہر” پہاڑ اور ” مجید” وادی کا مجموعہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کے درمیان ایک ایسا پہاڑی سلسلہ جو شمال سے مغرب اور جنوب مغرب میں اردن اور بحیرہ متوسط تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے انتہائی جنوب مغرب میں کارمل کا پہاڑ جبکہ جنوب مشرق میں کوہ گلبوہ ہے اور درمیان میں مجدون کا پہاڑ ہے۔ اس کے شمال میں وادی یزرعیل ہے جس سے دریائے کشن نکلتا ہے،اس کے جنوب میں شیرون کا میدان ہے۔پہاڑوں کے اس مکمل علاقے کے مرکز مجیدو کوہرمجدون کہتے ہیں۔(البرٹ ایچ بلیڈنگر عہد جدید کی آخری کتاب) بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس علاقے کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ڈاکٹر دانی ایل کے الفاظ ” یہ وہ میدان جنگ ہے جہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کی بڑی بڑی جنگیں لڑی گئی ہیں”۔ (ڈاکٹر دانی ایل ۔ کتاب جلالی کلیسا ۔ صفحہ 249)۔عہدنامہ قدیم میں کئی مرتبہ یہاں ہونے والی جنگوں کا ذکر آیا ہے۔ "بادشاہ آکر لڑے تب کنعان کے بادشاہ تعناک میں مجدون کے چشموں کے پاس لڑے” (قضاۃ 5:19) "شاہ مصر نکوہ شاہ اسور پر چڑھائی کرنے کیلئے دریائے فرات کو گیا اور یوسیاہ بادشاہ اس کا سامنا کرنے نکلا سو ، اس نے اسے دیکھتے ہی مجدون میں قتل کیا” (سلاطین ۔2 23،29،30) ” اس روز بڑا ماتم ہوگا، ہدرمون کے ماتم کی مانند جو کہ مجدون کی وادی میں ہوا”۔ (زکریاہ11:12)
” ہرمجدون کا میدان فلسطین میں اسوری شہنشاہ نبوکدنزر کے دور سے لے کر نپولین بونا پارٹ کی مصر سے شام کو تباہ کن پیش قدمی تک، فوجوں کے پڑاؤ کیلئے پسندیدہ جگہ رہی ہے”۔ (ابرٹ ڈی ڈی)
مسیحی مذھب میں یہ لفظ یوحنا کے مکاشفا میں ملتا ہے۔ ” اور انہوں نے ان کو اس جگہ جمع کیا جس کا عبرانی میں ہرمجدون ہے "۔ (یوحنا۔ 16:16) ” ایسا مقام جہاں شیطان اور دو مخالف مسیح، زمین کے بادشاہ کو نیکی کی قوتوں سے فیصلہ کن جنگ کیلئے بلائیں گے”۔ ( نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا۔ جلد1۔ صفحہ 823)۔ ” اسے دنیا کے اختتام پر فیصلہ کن جنگ کا نام دیا گیا ہے”۔ (سین پی کی لے۔) سابق صدر ریگن کے الفاظ میں” موجودہ نسل ہر صورت میں ہرمجدون دیکھے گی۔ یہ جنگ کل بھی شروع ھوسکتی ھے۔ کچھ سالوں میں ہرچیز اپنے انجام تک پہنچ جائے گی۔ عنقریب بہت بڑا عالمی معرکہ ہوگا۔ ہرمجدون کا مقام اس کا میدانِ جنگ بنے گا”۔ "عیسائیوں کی طرح ہمارا ایمان ہے کہ کچھ عرصہ بعد تاریخِ انسانی ہرمجدون نامی معرکے کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔ اس معرکہ کے اختتام پر حضرت مسیح واپس آ کر زندوں اور مردوں پر ایک ساتھ حکومت کریں گے۔”۔(گریس ھالسل ۔ خوفناک صلیبی جنگ۔ صفحہ 92)
بہت سے حوالہ جات ہیں، مغربی مصنفین کی بہت سی کتابیں ہیں جو اس عظیم ترین جنگ کی ہولناکیوں کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ ہرمجدون کے بارے میں اہل مغرب بہت سنجیدہ ہیں اور اس کی تیاری میں مسلسل مصروف ہیں۔ تباہ کن ہتھیار تیار کئے جارہے ہیں۔ یہ جنگ اچانک اور آناً فاناً شروع ہوگی ۔ہر طرح کا اسلحہ آزادانہ استعمال ہوگا۔ لاتعداد افراد اس خونی جنگ میں مارے جائیں گے۔ جب اقوام اپنے نقصان کا اندازہ لگائیں گی تو نوے فیصد سے زائد لوگ اس جنگ میں لقمہ اجل بن چکے ہونگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں اس جنگ کی تباہ کاریوں کا نقشہ اس طرح ملتا ہے کہ اگر ایک شخص کے سو بیٹے ہونگے تو اسے معلوم ہوگا کہ سو میں سے نناوے مارے جاچکے ہیں۔ زمین انسانی لاشوں سے اس طرح اٹی ہوگی کہ ایک پرندہ زمین پر خالی جگہ تلاش کرنے کیلئے اڑے گا تو اسے زمین پر کہیں خالی جگہ نظر نہیں آئے گی آخر ایک جگہ تھک کر اور بے دم ہو کر گرے گا تو وہاں بھی لاشوں کا ڈھیر ہوگا جس پر وہ گرا ہوگا۔ اسی حدیث کے مزید الفاظ ہیں کہ لوگوں کا دکھ اور غم کا ایسا عالم ہوگا کہ کسی کو مال غنیمت حاصل ہونے کی بھی خوشی نہیں ہوگی۔ (مسلم7281) اس جنگ میں تباہی اس قدر ہوگی کہ انسان ایک بار پھر گھوڑوں اونٹوں پر سفر کیا کریگا۔ یہ جنگ صرف مجیدون کی وادی تک نہیں رھے گی بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
اس جنگ میں مسلمان بھی شریک ہونگے مسلمانوں کی بہت ہی بڑی تعداد شہید ہوگی لیکن آخری فتح مسلمانوں کی ہوگی انشاء الله تعالیٰ۔ اس آرماگیڈن یا ہرمجدون سے پہلےمسلمانوں کے حالات بہت اچھے ہونگے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوچکا ہوگا اوراس وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی پورے عالم اسلام پر حکومت ہوگی۔ احادیث کیمطابق آپ کی آمد کیوجہ سے بکھری ہوئی اور منتشر امت مسلمہ معجزانہ طور پر راتوں رات ایک لڑی میں پروئی جائے گی۔ تمام اہل اسلام آپکو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیں گے۔ ہر قسم کے باہمی اختلاف ختم ہوجائیں گے۔ آپکے دورِ حکومت میں عدل و انصاف خلفائے راشدہ کے دور جیسا ہوگا۔ حکومت کے پاس بے حساب مال و دولت ہوگی جسے آپ اہل اسلام میں بلا حساب تقسیم فرمائیں گے جس سے کوئی مسلمان تنگدست نہیں رہے گا۔ ایک طرف تو اہل مغرب اپنی مذھبی کتابوں کی روشنی میں اس عظیم جنگ کی تیاریوں میں دن رات مصروف ہیں افواج کے متحدہ لشکر ترتیب دئیے جارہے ہیں دوسری جانب امت مسلمہ احادیث میں بیان کردہ ان سچائیوں سے بے نیاز اور مستقبل وریب میں ہونے والی عظیم دنیاوی جنگ کی تیاریوں سے بے خبر خواب غفلت میں سوئی پڑی ہے۔ ہم میڈیا کی حد تک جنگ لڑرہے ہیں ایک جانب فلسطین خاکستر ہوگیا تو دوسری جانب جنت النظیر مقبوضہ جموں کشمیر سلگ رہا ہے یہ یہودی کفار و مشرکین امت مسلمہ کی تعداد طاقت کو ختم کرنے پر کہیں مسلک تو کہیں عصبیت کی نفرت کی آگ میں جھونک رہے ہیں۔ ایمان اور ضمیر فروشی کے بازار کھل چکے ہیں ریاست پاکستان کئی دہائیوں سے کرپشن بدعنوانی اقربہ پروری لوٹ مار کے دلدل میں دھستی جارہی ہیں ہر حکمران جھوٹ فریب مکار منافقت سے مزین چلے آرہا ہے کب اور کون اس وطن عزیز کو ان ظالموں دشمنوں سے نجات دلائے گا اب تو یہی دعا کرتا ہوں کہ اے رب مجھے شہید کا درجہ عطا کر اور مجھے مجاہد غزوہ ہند بنا آمین ثما آمین

کالمکار: جاوید صدیقی

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You