جہلم : (رپورٹ : ملک وسیم اختر )ناجائز تجاوزات پر مذہبی کارڈ کے استعمال کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت

جہلم : (رپورٹ : ملک وسیم اختر )ناجائز تجاوزات پر مذہبی کارڈ کے استعمال کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت: انتظامیہ اور علما کرام کا کردار اہم
جہلم: ناجائز تجاوزات ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ ہے جو شہریوں کے لیے مشکلات اور سرکاری اراضی کے غلط استعمال کا باعث بنتا ہے۔ تاہم، ایک تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض عناصر مذہبی کارڈ استعمال کرکے سرکاری زمینوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، جس سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ مذہب کے تقدس کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کچھ مقامات پر مذہب کے نام پر مساجد، مدارس، اور درباروں کی آڑ میں سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے کیے جا رہے ہیں۔ پارکوں، گلیوں اور نالوں کے اوپر سیڑھیاں، تھڑے، اور باتھ رومز تعمیر کرنا، جنریٹر رکھنا اور مدارس کے دروازے سرکاری اراضی کی طرف نکالنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ ان تمام معاملات میں مذہبی کارڈ استعمال کر کے انتظامیہ کی کارروائی سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسلام کا اصول اور ناجائز تجاوزات
علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے مطابق اسلام میں حرام مال یا ناجائز قبضہ شدہ زمین پر دینی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ ایسی جگہوں پر نماز کی ادائیگی، مدارس میں تعلیم و تربیت، یا مذہبی رسومات کا انعقاد شرعی اصولوں کے منافی ہے۔ اسلام صاف طور پر حلال ذرائع سے کام کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور حرام طریقوں سے حاصل کی گئی جگہوں پر عبادات کو قبولیت کی نظر سے نہیں دیکھتا۔
انتظامیہ کی ذمے داری اور علما کرام کا کردار
ناجائز تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن ایک احسن قدم ہے، لیکن اس میں ان جگہوں کو بھی شامل کرنا ناگزیر ہے جہاں مذہبی کارڈ استعمال کرکے قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو مذہب کے نام پر کی جانے والی تجاوزات کے خلاف بھی بغیر کسی دباؤ کے کارروائی ہونی چاہیے۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان تمام مقامات کی نشاندہی کرے اور بلا امتیاز کارروائی کرے تاکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ علما کرام کو بھی آگے بڑھ کر ناجائز تجاوزات کے خاتمے میں انتظامیہ کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ عوام کو یہ پیغام ملے کہ اسلام حلال کمائی، حق اور انصاف کا مذہب ہے اور کسی بھی ناجائز عمل کی اجازت نہیں دیتا۔
ناجائز تجاوزات کے خلاف عملی اقدامات ضروری
یہ وقت کی ضرورت ہے کہ مذہبی کارڈ کے استعمال کی آڑ میں ناجائز قبضے کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ انتظامیہ کی جانب سے اگر ان عناصر کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اس کے منفی اثرات معاشرے میں قانون کی عملداری پر مرتب ہوں گے۔
اگر علما کرام اور انتظامیہ نے اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والے وقت میں ایسے تمام مقامات کی تفصیلی نشاندہی کی جائے گی جہاں مذہب کے نام پر ناجائز تجاوزات کی جا رہی ہیں، تاکہ حق اور سچ عوام کے سامنے آ سکے اور معاشرے میں قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جا سکے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو حلال اور حرام کی واضح حدود متعین کرتا ہے۔ لہٰذا ناجائز تجاوزات، چاہے کسی بھی نام پر ہوں، ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں قانون اور انصاف کا بول بالا ہو اور مذہب کے نام پر ہونے والی قانون شکنی کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔



