*ایک ماہ میں ایک بار پانی؟*

*ایک ماہ میں ایک بار پانی؟*
*سنی ایونیو کے مکین سراپا احتجاج!*
*سنی ایونیو پانی کو ترس گیا—ذمہ دار کون؟*
*صاف پانی نایاب، ٹینکر مہنگے—سنی ایونیو کے مکین دہائی دینے پر مجبور*
*سنی ایونیو میں پانی کا بحران جاری *
*18سال سے بنیادی حق نظر انداز!*
*پانی نہیں تو ٹینکر ہی سہی؟*
*سنی ایونیو کے مکینوں کا ہفتے میں 2 دن پانی کا مطالبہ*
*سنی ایونیو کے مکین پوچھتے ہیں: پانی آخر کہاں ہے؟*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ سنی ایونیو کے مکینوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور چیئرمین یو سی نارتھ ناظم آباد عاطف خان سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ھے۔ سنی ایونیو، سیکٹر 14-B، شادمان ٹاؤن نمبر 2 کے مکینوں نے پانی کی انتہائی ناقص فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کو ہفتے میں کم از کم دو دن باقاعدہ اور صاف پانی فراہم کیا جائے۔
مکینوں کے مطابق تقریباً 18 سال قبل ناگن چورنگی تا انڈہ موڑ کے علاقے میں واقع سنی ایونیو کو روزانہ کی بنیاد پر پانی فراہم کیا جاتا تھا، تاہم گزشتہ 18،19 برسوں کے دوران صورتحال بتدریج خراب ہوتی گئی اور اب بعض اوقات ماہ میں صرف ایک مرتبہ پانی کی فراہمی تک محدود ہوچکی ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ فراہم کیا جانے والا پانی گدلا اور سیوریج کے پانی سے آلودہ ہوتا ہے، جس کے باعث وہ قابلِ استعمال نہیں رہتا۔ پانی کی قلت کے باعث شہریوں کو مہنگے واٹر ٹینکر خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جو متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ ہے۔ مکینوں نے سوال اٹھایا کہ جب کراچی کے آبی ذخائر میں پانی موجود ہے تو شہریوں کو بنیادی ضرورت، یعنی صاف پینے کے پانی سے مسلسل محروم کیوں رکھا جا رہا ہے؟ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سنی ایونیو کی پانی کی لائنوں، والوز، پریشر اور سپلائی شیڈول کا فوری معائنہ کرایا جائے، آلودہ پانی کی فراہمی کا مستقل سدباب کیا جائے اور علاقے کو کم از کم ہفتے میں دو دن باقاعدہ صاف پانی فراہم کرنے کا عملی نظام بنایا جائے۔
مکینوں کا کہنا ہے: پانی کوئی رعایت نہیں، بنیادی شہری حق ہے۔




