سوہاوہ

اسلامی نقطہ نظر سے بیٹی کا جہیز یہ جملہ درست نہیں ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے

اسلامی نقطہ نظر سے بیٹی کا جہیز یہ جملہ درست نہیں ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے

اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر ادھار لے کر جہیز دیں۔ ہم دونوں طرف افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ایک طبقہ کہتا ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے،ایک طبقہ جہیز میں اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لئے قرض لیتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اعتدال ہے، توازن ہے۔ کائنات کاسارا نظام، یہ زندگی موت،یہ گرمی سردی، یہ رات دن،ہر چیز میں ایک اعتدال ہے،ایک توازن ہے۔یہ سارے ستارے سیارے،زندگی توازن سے قائم رہتی ہے۔عدم توازن،زندگی کو ڈسٹرب Disturbکرنے کی طرف لے جاتا ہے۔جہیز میں بھی توازن ہے۔
نبی کریم ﷺنے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کو جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم کے نکاح میں دیا تو ضروریاتِ زندگی کی بنیادی چیزیں آپ ﷺنے انہیں عطا فرمائیں۔پانی کے لئے ایک مشکیزہ عطافرمایا،اس عہد میں مشکیزے ہوتے تھے۔جہیز میں آٹابنانے کے لیے ایک چکی عطا فرمائی۔اسی طرح ایک بستر،ایک تکیہ،گدایااس طرح کی کچھ چیزیں عطا فرمائیں۔جومادّی چیزیں اس وقت خانہ نبوی ﷺ پر موجود تھیں۔یہ نہیں کہا کہ میں توپوری انسانیت کا نبیﷺ ہوں،اللہ نے مجھے سب سے افضل بنایاہے تو پھر میرا جہیز بھی بے مثل وبے مثال ہو،بولا نہیں۔جو مادّی چیزیں آپﷺ آسانی سے اپنی بیٹی کو دے سکتے تھے،و ہ ضرور دیں۔بعد میں انہیں رہنے کے لیے اپنے حجرات مبارکہ میں سے ایک حجرہ مبارک بھی عطا کردیا۔جہاں روزہ اطہرﷺ ہے، اس کے پیچھے وہ حجرہ مبارکہ ہے جس میں حضرت علی ؓاور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رہتے تھے۔یہ حجرات نبیﷺ میں سے تھا۔آپ نے شادی کے بعد عطا فرمایا، یعنی جہیز پر بات ختم نہیں ہو جاتی۔ اگر بعد میں بھی اولاد کی مددکر سکتے ہیں تو بچیوں کا حق بنتا ہے۔جس طرح ہم بیٹوں کا دھیان رکھتے ہیں اور زندگی بھر مدد کرتے ہیں لہٰذا بیٹیوں کا بھی وہی حق ہے۔ حضور ﷺنے شادی کے بعد حجرہ مبارک بھی عطا کردیا تو ایک معیار بن گیا کہ جو چیز یں اپنی حیثیت کے مطابق ضروریات زندگی کی ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو دے سکتے ہیں۔اگرآپ زیور اچھا دے سکتے ہیں اور آپ کسی سے ادھار لینے پر مجبور نہیں ہیں تو ضرور دیں،وہ ایک سرمایہ ہے یعنی زیور صرف زینت ہی نہیں ہوتی،یہ ایک Balanceہے کہ اس کے پاس کچھ پیسے ہوں،ضروریات زندگی کی چیزیں، لباس کی قسم سے،ضرورت کے برتنوں کی قسم سے،آپ دیتے ہیں تو ضرور دیں لیکن یہ شان وشوکت کے اظہار کے لئے نہ ہوجس کی جتنی حیثیت ہے اس کے مطابق اسے دے اوریہی نہیں ہے کہ جہیز دے کر فارغ کردیا پھر ان کی وراثت میں بھی کوئی حصہ نہیں رہا، نہیں یہ نہیں ہوتا۔ہم نے ایسے زمیندار قسم کے لوگ بھی دیکھے ہیں جواپنی بیٹیوں کو جائیداد سے حصہ نہیں دیتے کیونکہ ان کی بیٹی اپنے حصے کا مال جہیزکی صورت میں لے جا چکی ہے۔بھائی! جہیز آپ نے جائیداد کا حصہ تقسیم کر کے تو نہیں دیاتھا۔وہ تو آپ نے اپنی شان وشوکت کے لیے،اپنا نام بنانے کے لئے، بہت بڑا جہیز دیا تھا۔ والدکی وفات پر جائیداد میں مقرر شدہ حصہ یعنی بچے کی نسبت آدھا اسے ملے گا، جائیداد میں بھی ان کا حق ہے،وہ انہیں دی جانی چاہئے۔مکان ہے،زمین ہے،کوئی غیر منقولہ جائیداد جو کچھ بھی ہے اس میں بھی ان کا حصہ برقرار رہتا ہے۔ ہم افراط وتفریط کا شکار ہو گئے ہیں کچھ لوگ تو بلکل اس کے خلاف چلے جاتے ہیں کہ کچھ دینا ہی نہیں چاہئے اور کچھ لوگ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں کہ میری بڑی شان وشوکت ہو گی۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔اپنی حیثیت سے بڑھ کر دینا اور اپنے اوپر بوجھ بنانا بھی ناجائز ہے۔ کس کی شان نبی کریم ﷺ کی شان سے میل کھاتی ہے؟جب آپ ﷺنے اسے اپنی آنر Honourکا سبب نہیں بنایابلکہ ضروریات زندگی کی جو چیزیں کاشا نۂ نبویﷺ پر موجود تھیں،وہ عطا کر دیں۔ اس میں توازن چاہئے۔ ہر بندے کی ایک مالی حیثیت ہے ہر بندے کی ایک قوت ہے، دینے یا نہ دینے کی۔ اس کے مطابق دے۔
اس سلسلے میں شادی کرنے والے یعنی سسرال یا دولہا کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے،وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جہیز میں گاڑ ی بھی ہو، جہیز میں وہ چیز بھی ہو۔وہ شرط نہیں لگا سکتے،جورواج آج کل ہے کہ شرط لگائی جاتی ہے۔جہیز میں گاڑی بھی آئے،ہمیں وہاں سے بھی حصہ ملے،ہمیں نقد بھی اتنا چاہئے، نہیں۔ یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ان کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔جتنے بھی حقوق ہیں وہ بیٹی کے ہیں اور والد کے ہیں۔اس کے سسرال والے، یادامادکا حق نہیں ہے کہ وہ مطالبہ لے کر بیٹھ جائیں کہ آپ اتنے امیر ہیں۔ مجھے وہ بھی دیں، مجھے وہ بھی دیں، یہ ناجائز ہے۔انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ بہو کودنیاوی ا عتبار سے اور دینی اعتبار سے پرکھ لیں۔ باعمل ہے باکردار ہے،شریعت کے دائرے میں رہنے والی ہے، نیک ہے۔اس کے بعد باپ کا اور بیٹی کا معاملہ ہے،اس میں ان کا کوئی لین دین نہیں۔ خاوند اگر کہہ دے کہ مجھے جہیز میں کچھ نہیں چاہئے توکوئی حرج نہیں،یہ بہت اچھی بات ہے۔
اسی طرح بیٹی جو جہیز لے کر جاتی ہے یا جو اس کا حق مہر مقرر ہوتا ہے، اس کا ذاتی حق ہے۔جب نااتفاقی ہو جاتی ہے اورنوبت طلاق تک چلی جاتی ہے تو اس کا جو مہر ہے اورجہیز کی جو ذاتی چیزیں وہ ساتھ لائی ہے۔ اس کا حق ہے وہ لے جاسکتی ہے۔ اللہ کریم فرماتے ہیں وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً ط فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْٓءًا مَّرِیْٓءًا (النِّسَآءِ:4)کہ اگر عورت معاف کردے،بے شک مہر بھی معاف کردے،جو جہیزلائی ہے وہ بھی معاف کردے،تو بندہ آرام سے لے سکتا ہے۔ وہ معاف نہ کرے تو طلاق دینے والے کوچاہیے کہ پہلے اس کا مہر ادا کرے۔جو چیزیں اس کی ذاتی ہیں، جو اپنے والد کی طرف سے ساتھ لائی ہے، وہ واپس کرے اور خوبصورت اوراچھے طریقے سے طلاق دے۔ایسے طریقے سے نہیں کہ آئیندہ کے لیے تعلقات میں دشمنی کی بنیاد بن جائے۔ ایک مجبوری ہے کہ ہم اکھٹے نہیں رہ سکتے۔مزاج نہیں ملتے، خیالات نہیں ملتے،کردار نہیں ملتا،سوچوں میں فرق ہے،کوئی بھی وجہ ہو، ایسی وجہ ہے کہ ہم زندگی بھر اکھٹے نہیں رہ سکتے۔ جس کا اظہارشادی کے بعد ہوا تو اس کا حل طلاق ہے۔حالانکہ اللہ کے نزدیک جائز اور حلال کامو ں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ کام طلاق ہے۔لیکن زندگی کو عذاب بنانے کے بجائے طلاق دینا مناسب ہے یا تو اتنی برداشت ہوکہ اسے برداشت کرلے تو اس کا اجر الگ ملے گا۔نہیں کر سکتا تو پھر طلاق دے دے لیکن طلاق پر دشمنی نہ بنائے، اس میں بھی خوبصورتی ہے۔ارشاد بار ی تعالیٰ ہے کہ وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاع’‘م بِالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ (الْبَقَرَۃ:241) جوجواس کا حق ہے، وہ اسے دے کر خاوند کچھ اپنی طرف سے بھی دے کہ بھئی ہم تم جدا ہورہے ہیں، میرے پاس دس لاکھ ہیں، پانچ لاکھ تم لے جاؤ تاکہ وہ کام جو بڑا ناپسندیدہ اور خراب ہے،جس پر ناراضگی یا دشمنی کی بنیاد بنتی ہے،کم از کم دوستی نہ رہی تو دشمنی بھی نہ بنے۔احسن طریقے سے عزت کے ساتھ اور طلاق میں یہ بھی ہے کہ اسے پھر لٹکائے نہ رکھو کہ اس کی زندگی عذاب کردو۔ وہ کہتے ہیں ہم نے ڈھنگا تو ڈالا ہوا ہے، گھر میں آباد نہیں ہے لیکن اب دوسری شادی تو نہیں کرسکے گی۔ یہ جائز نہیں ہے یاتو احسن طریقے سے گھر میں رکھو یا آزاد کردوپھر وہ بیٹی کا اپنا مال ہے جو اس کے والدین نے اسے دیا تھااور جو اس کا حق مہر ہے۔ہاں وہ سارا معاف کردے تو خاوندکا ہے کھائے موج کرے۔اس میں عورتوں کے لیے بھی قائدہ یہ ہے کہ وہ فراخ دلی سے کام لے اور دلائل سے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں بھئی یہ یہ ہم میں فرق ہے۔ہم اکھٹے نہیں رہ سکتے اور چونکہ ہماری سوچوں میں، ہمارے کردار میں، ہمارے قول میں، گفتار میں یگانگت نہیں ہے تو یہ ساری زندگی کا عذاب، میں تمہارے لیے درد سر، تم میرے لیے فتنہ۔تو اس مصیبت سے بچنے کے لیے کہ آؤ ہم الگ ہوجائیں۔یہ ایک راستہ ہے لیکن حسن سے، اچھے طریقے سے الگ ہوں کہ آگے وہ دشمنی میں تبدیل نہ ہو۔ایسے میں دونوں سمجھوتہ کر کے ساتھ رہتے ہیں،اگر بیوی کی طرف سے زیادتیاں ہوتی ہیں،ناپسندیدہ حرکات ہوتی ہیں اورشوہر برداشت کرتا ہے تو اس کا بہت بڑا اجر ہے۔اس کا عنداللہ بہت بڑاثواب ہے۔
مرزا مظہر جان جانانؒ شہید دہلی کے نامور صوفیاء میں سے اور بہت پائے کے اولیاء اللہ اور بہت نازک مزاج تھے۔اس قدر نازک مزاج تھے کہ ان کے سامنے دوسرا بندہ اگر بے تحاشا کھاناکھارہا ہے تو ان کا دیکھنے سے پیٹ خراب ہوجاتا، نزاکت کی حد ہے۔ان کی اہلیہ محترمہ (اللہ اس پر بھی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے) سخت مزاج تھی، بڑا، بھلابراکہتی تھیں اور چلاتی تھیں۔ان کا ایک افغانی مرید تھا، اسے انہوں نے گھر سے کوئی چیز لانے کا حکم دیا۔ اس نے دروازے پر دستک دے کرعرض کی اماں جی! حضرت جی فلاں چیز مانگ رہے ہیں تو وہ بھڑک اٹھیں، انہوں نے حضرت کو بھی اور مانگنے والے کو بھی صلواتیں سنائیں۔ وہ بھی ولائتی پھٹان تھا،اس نے کہا میں حضرت سے پوچھ کرآتا ہوں میں تمہیں گولی مارد دں گا۔ جب اس نے ساری بات عرض کی توآپ نے فرمایاتم آج تھوڑی دیر کے لیے گئے ہو تو اتنے گرم ہو رہے ہو، میں اپنی اس نازک مزاجی کے باوجود اسے عمر بھرسے برداشت کر رہا ہوں۔ کسی نے عرض کی حضرت آپ کی تو نازک مزاجی؟ فرمایا یہ میری ترقی درجات کا سبب ہے،میرے منازل میں ترقی ہوتی ہے، کیفیات میں ترقی ہوتی ہے میں جب برداشت کرتا ہوں۔
بندہ اگر برداشت کرتا ہے تو بہت بڑے درجات عطا ہوتے ہیں۔آج اسی چیز کی ہماری ضرورت ہے،آج ہم میں قوت برداشت ہی نہیں رہی۔ میں حیران ہوتا ہوں،جی حادثہ ہوگیا بس نے رکشے کو ٹکر مار دی۔اب جو بڑا ہے جرم اس کے ذمے ہے۔یہاں تک کہیں گے ریلوے نے ٹرک کو ٹکر مار دی، اب ریلوے تو پٹری سے اُترتی نہیں۔یہ کوئی نہیں کہے گا کہ اس نے کار پٹری پر کیوں چڑھائی؟ کہیں گے ریل نے کار کو ٹکر ماردی،ریل کا اس میں کس کا کیا قصور؟ قصور تو اس کار کا ہے جو پٹری پر جاکر کھڑی ہو گئی۔کل کی خبر تھی کہ رکشے کو ٹکر لگی، دو بچے مر گئے، لوگوں نے بس جلا دی۔اللہ کا خوف کرو،بس جلانے سے کیاوہ بچے زندہ ہو گئے؟ یاکیا رکشہ ٹھیک ہوگیا؟ وہ قوتِ برداشت Patience ہی نہیں رہی۔بس پتہ نہیں کس کی تھی؟ چند سو کا ملازم، بس کا ڈرا ئیورچلا رہا ہے۔ جس کی بس ہے، اس نے ماں کے، بیوی کے زیور بیچ کر بس کی ابھی آدھی قسطیں اس نے دینی ہونگی۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟ چلان تو ڈرائیور کا ہوتا ہے، بس کا تو کوئی قصورنہیں۔غلطی تو ڈرائیور کی ہے ہم میں قوتِ برداشت ہی نہیں رہی۔

تحریر: امیر محمد اکرم اعوان

MKB Creation

Mehr Asif

Chief Editor Contact : +92 300 5441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

MKB Creation
Back to top button

I am Watching You