سندھ

کراچی کے پسماندہ علاقے میں مچھروں کی یلغار، انسانی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق

کراچی کے پسماندہ ترین علاقوں میں شامل عیسیٰ نگری کے رہائشی ایک سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، ڈینگی اور چکنگنیا کے کالے سیاہ بادل علاقہ مکینوں پر بری طرح منڈلا رہے ہیں ۔ علاقے میں صفائی، ستھرائی کی بد ترین صورتحال کے پیش نظر مچھروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب علاقے میں کچرا ٹھکانے لگانے کا کوئی نظام موجود نہیں، گلیاں غلاظت کا ڈھیر بنی ہوئی ہیں، جا بجا گٹر رس رہے ہیں جس کی وجہ سے مختلف مقامات پر جمع ہونے والا گندا غلیظ پانی مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں جگہ بن چُکا ہے۔ مزید برآں، مچھروں کی افزائش کو قابو میں رکھنے کے لیے اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ مزید سنگین ہوگیا ہے، جس سے علاقہ مکینوں کو صحت کے حوالے سے مزید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر بچوں پر اس کے اثرات تشویشناک ہیں، جو تیز بخار، پیٹ میں درد اور الٹیوں (Vomiting) جیسی علامات کا شکار ہو رہے ہیں۔ علاقہ مکین غربت کے باعث نجی ہسپتالوں کا رخ نہیں کرتے اور سرکاری ہسپتال وہ جانا نہیں چاہتے، لہذا اس صورتحال میں ڈینگی اور چکنگنیا نے علاقے کو کس حد تک اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے؟ وبائی امراض پھیلنے کی شرح کیا ہے؟ کتنے افراد اس کا شکار ہیں؟ بخار، پیٹ درد اور اُلٹیوں کی نوعیت اور حساسیت کیا ہے؟ کچھ اتا پتا نہیں۔

عیسیٰ نگری کے رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بیماریاں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You