جرمن ادارے جی آئی زی اور صباؤن کے حکام نے پیراپلیجک سنٹر کا دورہ کیا

جرمن ادارے جی آئی زی اور صباؤن کے حکام نے پیراپلیجک سنٹر کا دورہ کیا۔
ڈاکٹر الیاس سید کی شاندار خدمات کو خراج تحسین اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی۔
پشاور(نمائندہ قائم علی شاہ)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق حکومت جرمنی کی مالی امداد سے پاکستان میں عوامی فلاح و بہبود کیلئے مصروف عمل ادارے جی آئی زی اور اسکے پارٹنر صباؤن کے حکام نے پیراپلیجک سنٹر پشاور (پی سی پی) کا دورہ کیا وہ حرام مغز کی جوٹ سے متاثرہ افراد کی جامع جسمانی و نفسیاتی بحالی کے اس منفرد ادارے کی کارکردگی سے بیحد متاثر ہوئے نیز سنٹر کی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے اس شاہکار پراجیکٹ کو مثالی قرار دیتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا انہوں نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ پی سی پی حکومت خیبر پختونخوا کے زیر سرپرستی گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے علاؤہ ہمسایہ ملک افغانستان میں مختلف حادثات کے شکار مریضوں کو بلا معاوضہ خدمات مہیا کرتی رہی ہے جبکہ یہ کام انتہائی محدود بجٹ میں سرانجام دیا جا رہا ہے جو ترقی پذیر ممالک کیلئے رول ماڈل ہے لہٰذا اسکی ہر سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ جی آئی زی کے سینئر ایڈوائزر محمد ہاشم خان اور چیف ایگزیکٹیو صباؤن طارق خان کی معیت میں دونوں ٹیموں کو دورے کے دوران سنٹر کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر سید محمد الیاس نے ادارے کی خدمات، ضروریات اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق بریفنگ دی جس کے بعد پی سی پی کے ڈائریکٹر ریہیبلٹیشن امیر زیب، ڈپٹی ڈائریکٹر اسسٹیو ٹیکنالوجی منصور گولڑہ اور کنسلٹنٹ انور پانیزئی نے مہمانوں کو پی سی پی کے تمام سیکشنز اور وارڈز کا دورہ کرایا جہاں انہوں نے مریضوں کے علاج، بحالی اور فلاح و بہبود میں مصروف عمل ماہرین اور معالجین سے ان کے طریقہ ہائے کار سے آگاہی حاصل کی۔ جی آئی زی حکام کا کہنا تھا کہ پی سی پی کا ایک چھت تلے جامع جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی بحالی کیلئے خدمات قابل قدر ہیں مہمانوں نے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں پی سی پی کے زیر انتظام چلنے والا کسٹمائزڈ ویل چیئرز اور معاون آلات تیاری یونٹ کا دورہ بھی کیا جہاں نہ صرف اسسٹیو ڈیوائسز کے حوالے سے ریسرچ اور ڈیزائننگ کا کام ہوتا ہے بلکہ افراد باہم معذوری کی عمر، جنس اور ضروریات کے مطابق وہیل چئیرز اور دیگر آلات تیار کیے جاتے ہیں۔ معزز مہمانوں نے ڈاکٹر الیاس سید، اس کی ٹیم اور حکومت خیبر پختونخوا کے اس منفرد پراجیکٹ کو سراہتے ہوئے انہیں نہ صرف شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا بلکہ پی سی پی کے ساتھ دونوں اداروں کے ساتھ شراکت اور مل کر کام کرنے کا عزم دہرایا۔



