سندھ

*جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں کیرئیرکنیکٹ 2024 ء کا انعقاد*

*جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں کیرئیرکنیکٹ 2024 ء کا انعقاد*

*ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آج بھی تحقیق معاشرتی اور صنعتی مسائل کے حل کے لئے نہیں بلکہ تحقیقی پرچوں میں اضافے کے لئے کررہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی*

*افراد کی تربیت کا بہترین معیار یہ ہے کہ ہر شخص خود احتسابی کی طرف آجائے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی*

*موجودہ دور ڈگریوں کا نہیں بلکہ ہنر، جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتوں کا ہے۔سیکریٹری سندھ ایچ ای سی معین الدین صدیقی*

*آج بھارت کی آئی ٹی کی ایکسپورٹ تقریباً 150 ارب ڈالرز ہیں جبکہ پاکستان کی ایکسپورٹ صرف تین ارب ڈالرز تک محدود ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحمن*

*پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ ایماندار، ٹیکنالوجیکلی اہل اور ویژنری لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحمن*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہم آج تک صنعتوں اور اکیڈیمیاء کے مابین تعلقات کو استوار کرنے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ ہم ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ ہم ادارہ جاتی ایکسلینس کی بات نہیں بلکہ انفرادی ایکسیلینس کی بات کرتے ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ انفرادی ایکسیلینس کے بجائے ادارہ جاتی ایکسیلنس پر زور دیا جائے۔ اپنے طلباوطالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر دیکھنا چاہیئے کہ ہم اپنے طلبہ کی پروفیشنل گروتھ میں کتنے کامیاب ہوئے ہیں۔ کیا ہم بحیثیت استاد اپنے فرائض منصبی ادا کررہے ہیں اس پر ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔ افراد کی تربیت کا بہترین معیار یہ ہے کہ ہر شخص خود احتسابی کی طرف آجائے کیونکہ تربیت یافتہ افراد سے مزین معاشرہ ہی ایک صحت مند قوم اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے زیر اہتمام شعبہ ہذا کی سبزہ زار پر منعقدہ کیرئیرکنیکٹ دو ہزار چوبیس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کیرئیر کنیکٹ میں تیس مختلف کمپنیوں نے حصہ لیا اور اپنے اسٹالز لگائے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آج بھی معاشرتی اور صنعتی مسائل کے حل کے لئے تحقیق نہیں بلکہ اپنے تحقیقی پرچوں میں اضافے کے لئے کررہے ہیں، ہمیں یہ سوچ بدلنے اور صنعتی اور معاشرتی مسائل کے حل پر مبنی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعتیں اکیڈیمیاء کے ساتھ اشتراک چاہتی ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم صنعتوں کے مسائل کا حل تلاش کریں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن میں اختراعی خیالات، تخلیقی صلاحیتیں، قوت ارادی اور اعتماد ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں اور فیکلٹی ممبران کو ایسی افرادی قوت تیار کرنے کے لئے کلیدی کردار کرنا ہوگا تاکہ اس کو مارکیٹ کا حصہ بنایا جاسکے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے اس طرح کے ایونٹس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے طلبہ کو دوران تدریس ہی ملازمت کے مواقع اور صنعتی ضروریات سے آگاہی کے مواقع میسر آتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر خالد عراقی نے چیئرمین شعبہ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر صادق علی و دیگر اساتذہ کے ہمراہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے لگائے گئے اسٹالز کا بھی دورہ کیا۔ سیکریٹری سندھ ایچ ای سی معین الدین صدیقی نے کہا کہ ہمیں باتیں بہت زیادہ کرنے کی عادت ہے لیکن ڈیلیور بہت کم کرتے ہیں، طلباء ہمارا مستقبل ان کے روشن چہرے بہتر مستقبل کے لئے بے تاب ہیں۔ طلباء کی ایک بڑی تعداد ملازمت کے حصول کے لئے کوشاں رہتی ہے اور بہت کم طلبہ انٹر پرینیور شپ میں داخل ہوتے ہیں۔ موجودہ دور ڈگریوں کا نہیں بلکہ ہنر، جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتوں کا دور ہے، یہ جامعہ کے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تدریسی معیار کو بہتر بنائیں اور اپنے طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ معین صدیقی نے طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے مستقبل والدین اور اپنے پیارے وطن پاکستان کے لئے محنت کریں۔ اگر ہم باہر کی دنیا سے اپنا موازنہ کریں تو ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم سب کو مل کر کام کرنے اور معاشرے کی بہتری کے لئے محنت کرنے اور اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ ایچ ای سی تمام جامعات کی ہمہ وقت مدد کے لئے موجود ہے۔ ملازمت کے بجائے کاروبار کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملازمت حاصل کرنے کے بجائے دوسروں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرسکیں۔ سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور پروفیسر امریطس ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج صنعتی مسائل کا حل ہے جس کے لئے طلبہ کو مسائل کے حل پر مبنی تربیت فراہم کرنا ناگزیر اور اس کے لئے طلبہ کا صنعتوں میں کچھ وقت گزارنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر عطاءالرحمن نے مزید کہا کہ آج بھارت کی آئی ٹی کی ایکسپورٹ تقریباً ایک سو پچاس ارب ڈالرز ہیں جبکہ پاکستان کی ایکسپورٹ صرف تین ارب ڈالرز تک محدود ہے۔ آبادی کا چھ گناہ فرق ہے اس کے مطابق پاکستان کا ایکسپورٹ کم ازکم 25 ارب ڈالرز ہونا چاہیئے لیکن ہماری ایکسپورٹ آج بھی تین سے ساڑھے تین ارب ڈالرز تک محدود ہے۔ آج کی دنیا چار پانچ دہائیوں سے قبل کی دنیا سے بہت مختلف ہے، آج وہ ہی ممالک ترقی کررہے ہیں جنہوں نے سمجھ لیا ہے کہ ان کی اصل دولت ان کی افرادی قوت میں پوشیدہ ہے اور سب سے زیادہ ترجیح اپنی منصوبہ بندی میں تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو دے رہے ہیں جس کی ایک مثال چھوٹا سا سنگاپور ہے جس کی آبادی کراچی سے ایک چوتھائی اور کوئی قدرتی وسائل نہیں ہے لیکن اس کی ایکسپورٹ تین سو نوے ارب ڈالرز جبکہ پاکستان کی ایکسپورٹ تینتیس سے چونتیس ارب ڈالرز ہیں۔سنگارپور کی اتنی بڑی ایکسپورٹ کی وجہ ویژنری، ایماندار اور ٹیکنالوجیکلی اہل لیڈرشپ اور یہی چیز آپ کو چین، کوریا اور دیگر تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں نظر آئے گی۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ایماندار، ٹیکنالوجیکلی اہل اور ویژنری لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس چیئرمین ڈاکٹرصادق علی خان نے کہا کہ کیرئیر کنیکٹ اکیڈیمیاء اور صنعتوں کے مابین پل کا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس سے صنعتوں کو ان کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت اور ملازمت کے خواہشمند افراد کو ملازمت کے مواقع میسر آجاتے ہیں۔ انہوں نے کیرئیر کنیکٹ میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے لگائے اسٹالز اور اس کے اغراض و مقاصد پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب میں نظامت کے فرائض شعبہ کمپیوٹر سائنس کے استاد ڈاکٹر سید خالد جمال نے انجام دیئے۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر عطاءالرحمن کو اے آئی اسمارٹ کلاس رومز کا دورہ بھی کرایا گیا۔

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You