کالم/مضامین
آج کل ہم اپنی معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے دور ہو گئے ہیں

آج کل ہم اپنی معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے دور ہو گئے ہیں۔
تحریر فاطمہ بلوچ
شراب کو "نشہ” یا "مست” سمجھا جا رہا ہے، حالانکہ یہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اسی طرح زبان کی بے ادبی اور بد تمیزی کو "دل لگی” یا "محبت” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک غلط فہمی ہے۔ سود کو "منافع” اور فائدہ سمجھا جا رہا ہے، جبکہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور معاشرتی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ بے پردگی کو "فیشن” یا جدیدیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ ایک اخلاقی اور مذہبی مسئلہ ہے۔ مفاد پرستی کو سیاست کا نام دیا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ صرف ذاتی فائدے کے لیے قوم کی تباہی ہوتا ہے۔
آج ہم اپنی اقدار اور معاشرتی اصولوں سے بہت دور جا چکے ہیں، اور اس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ اخلاقی اور روحانی طور پر کمزور ہو رہا ہے۔



