سندھ

سیلاب متاثرہ سکولز کی بحالی کے ٹھیکوں میں بے قاعدگیاں، عدالت نے کام رکوا دیا

سندھ میں سیلاب متاثرہ سکولز کی بحالی کے ٹھیکوں میں بے قاعدگیاں، سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کو سکولز کی بحالی سے متعلق ٹھیکے دینے کا عمل روک دیا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق آئندہ سماعت تک سکولز بحالی کے متعلق ٹھیکے دینے سے متعلق کوئی کارروائی نہ کی جائے، عدالت نے حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں سے تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 2022 میں سیلاب متاثرہ سکولز بحالی کے لئے حکومت نے ٹینڈرز دینے کے لئے کارروائی شروع کر دی ہے، حکومت نے ایسا طریقہ کار اپنایا ہے جس سے چھوٹے ٹھیکیدار بولی میں حصہ ہی نہیں لے سکتے۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق اس حکومتی پالیسی سے صرف منظور نظر ٹھیکیدار کو ٹھیکہ مل سکتا ہے، حکومت نے بحالی کے لئے ایک سے زائد سکولز ملا کر ٹھیکے دیئے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ علیحدہ علیحدہ سکول کی بحالی کیلئے ٹھیکے دیئے جاتے تو چھوٹے ٹھیکیدار بھی بولی میں شریک ہو سکتے تھے، سکول بحالی ٹینڈرز کے لیے انٹرنیشنل بڈرز کو بھی شامل نہیں کیا۔

عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد 21 نومبر تک ٹینڈرز پر کارروائی روک دی، کے این شاہ کے مکین کانبھو خان اور محمد سعید جتوئی نے حکومتی پالیسی کو چیلنج کیا تھا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You