سندھ

خواتین رہنماؤں کو اکثر پیشہ ورانہ کامیابی اور خاندانی ذمہ داریوں کی دوہری توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

*خواتین رہنماؤں کو اکثر پیشہ ورانہ کامیابی اور خاندانی ذمہ داریوں کی دوہری توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پروفیسر سارہ ولیم*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) برطانیہ کی بکنگھم شائر یونیورسٹی کی اسکول آف بزنس اینڈ لاء کی سربراہ پروفیسر سارہ ولیم نے کہا کہ صنفی کردار سماجی اصولوں اور توقعات سے تشکیل پاتے ہیں۔ خواتین رہنماؤں کو اکثر پیشہ ورانہ کامیابی اور خاندانی ذمہ داریوں کی دوہری توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے کیریئر کی ترقی اور فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے۔ کام کی جگہ کی تشخیص اور فروغ کے عمل میں صنفی تعصب قابل خواتین لیڈروں کو اعلیٰ تنظیمی عہدوں پر جانے سے روک سکتا ہے۔ صنفی اختلافات پرتوجہ دینے کے بجائے اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ قیادت کا سیاق و سباق جنس سے قطع نظر قیادت کے انداز کو کیسے بدلتا ہے۔ قائدانہ کردار کے لئے مساوی مواقع کو یقینی بنانا ناگزیر ہے کیونکہ اس سے ملازمین کی تخلیقی صلاحیتوں اور اطمینان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلیہ نظمیات و انتظامی علوم جامعہ کراچی کے کانفرنس ہال میں منعقدہ لیکچر بعنوان:”مختلف انداز سے قیادت کرنا:قیادت میں خواتین“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی بھی موجود تھے۔ پروفیسر سارہ ولیم نے مزید کہا کہ خواتین قائدین عام طور پر جذباتی ذہانت، ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کرتی ہیں جو ایک معاون کام کی ثقافت کو فروغ دیتی ہے اور ٹیم کی ہم آہنگی کو بڑھاتی ہے۔ مرد رہنما اکثر جارحیت، مسابقت اور خطرہ مول لینے پر زور دیتے ہیں۔ یہ فیصلہ کن اقدامات کا باعث بن سکتے ہیں لیکن باہمی تعاون کے مواقع کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ پروفیسر سارہ ولیم نے ممتاز پاکستانی خواتین رہنماؤں کا ذکر کرتے کہا کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کو خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کی وکالت کرتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ سلطانہ صدیقی پاکستان کی واحد خاتون ہیں جو ایک ٹی وی چینل کی مالک ہیں۔ کراچی فلم سوسائٹی اور فیشن انکورڈ کے ساتھ ان کا کام پاکستانی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔ صحت اور غربت کے خاتمے میں ثانیہ نشتر کی قیادت نے ایسا اثر ڈالا کہ انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خواتین رہنما کس طرح اہم سماجی تبدیلی لا سکتی ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You