اسلام اور عورت عورت کا انفرادی تشخص

اسلام اور عورت عورت کا انفرادی تشخص
تحریر۔۔۔۔ بشریٰ جبیں کالم نگار
اسلام کے نزدیک ایک عورت اپنی نوع کے اعتبار سے مردکی تابع محض نہیں بلکہ اس کی اپنی علحٰیدہ مکمل شحصیت ہے۔ وہ دین ودنیا دونوں اعتبارات سے اپنا پورا وجود رکھتی ہے۔ اسے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے ،دین کی خدمت کرنے ، تعلیم حاصل کرنے ، ملازمت یا کاروبارکرنے ، ملکیت حاصل کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے اور کسی تخلیقی کام میں اپنی صلاحیت ظاہر کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ایک مرد کو ہے۔اس کا دین اور اس کی دنیا دونوں کسی کی تابع نہیں ۔ وہ ہر اعتبار سے اپنی شحصیت مالک ہے۔
سورۃ نساء میں بنیادی طور پر ان دنیوی مالی امور اور دوسرے معاملات پر بحث کی گئی ہے جو مردوں اور عورتوں مثلاً میاں بیوی یاخاندانی رشتہ داروں کے مابین وجود میں آتے ہیں۔ درج بالا آیت کے معاًبعد قانون وراثت کی ایک شق بیان ہوئی ہے اور اس کے بعد میاں بیوی کے آپس کے تعلقات کے ضمن میں یہ ہدایت دی گئی ہیں۔گویا سیاق وسباق (context) سے یہ بات واضح ہے کہ اس آیت کا تعلق اصلاً دنیوی زندگی سے ہے۔ اور اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایک خاتون کو تعلیم حاصل کرنے ،ملازمت یاکاروبار کرنے ، جائیداد کی خرید وفروخت غرض یہ کہ اپنی شحصیت کے تعمیر کرنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ کسی مرد کو ہے یہی وجہ ہے کہ دور نبوی ؐ میں عورتیں دین کا علم بھی حاصل کرتی تھیں ، دنیا کا علم بھی حاصل کرتی تھیں۔ زراعت بھی کرتی تھیں ۔ تجارت اور صنعت و حرفت کاکام بھی کرتی تھیں اور اپنی جائیداد اور مال و اسباب کا انتظام بھی سنبھالتی تھیں۔حضرت عائشہؓ کے متعلق تو سبھی جانتے ہیں کہ ان سے ہزاروں کی تعداد میں احادیث روایت کی گئی ہیں۔
دور صحابہ میں خواتین کا لکھنا پڑھنا اور دنیاوی علم حاصل کرنا بالکل عام تھا۔اس ضمن میں گنتی کے حوالے سے اگر ہمیں عورتوں کی تعداد کم نظر آتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں تعلیم اس طرح عام نہ تھی جیسے آج ہےاس زمانے میں خواتین اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور خود زراعت کاکام بھی کرتی تھیں۔
پس درج بالابحث سے یہ بات ثابت ہوتاہے کہ عسائیت اور یہودیت کے برعکس اسلام میں اس بات کاکوئی تصور نہیں کہ عورت، مردکی پسلی سے پیداہوکر روزاول سے ہی اس کے تابع ،زیرنگیں اور زیردست ہے۔
لہٰذا ان تعلیمات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے جو عزت و عظمت اور بلند مقام عطا فرمایا ہے اس کی مثال دنیا کا کوئی دوسرا معاشرہ پیش نہیں کر سکتا ہے…..



