شوبز

*مہدی حسن کی یاد میں*

*مہدی حسن کی یاد میں*

*✍️نبیل انور ڈھکو*

کل چکوال میں شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی یاد میں "شامِ غزل” منعقد ہوئی جس کا اہتمام چکوال میں کلاسیکل میوزک کی روایت شروع کرنے اور اس کو خوبصورتی سے نبھانے والے چوہدری محسن حسن خان اور ان کے دوست سید اسد علی شاہ نے کیا تھا۔ مہدی حسن کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے ان کے بیٹے کامران مہدی آئے ہوئے تھے۔ کامران مہدی خود توامریکہ میں مقیم ہیں لیکن آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں اور اپنے حالیہ دورے میں ملک کے مختلف شہروں میں اپنے فن کا جادو جگا چکے ہیں۔ رات کو چکوال میں ان کا آخری پروگرام تھا۔ کامران مہدی نے اپنے فن سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔

میرے دوست علی خان صاحب شام کو ہی میرے گھر آ گئے تھے۔ انہوں نے میرے ابو کو بھی اس غزل نائیٹ میں جانے کا کہا اور ابو جھٹ سے تیار ہوگئے کہ انہوں نے زندگی اپنی دھن میں ہی گزاری ہے اور پھر دل کب بوڑھا ہوتا ہے۔ جب ہم پنڈال میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ گزشتہ کئی برس سے ہونے والی موسیقی کی ان محفلوں میں پہلی دفعہ ایاز امیر، سابق ایم پی اے و تحصیل ناظم چکوال سردار آفتاب اکبر، ایڈوکیٹ سردار ناجی خان (نواز خان) بھی موجود تھے۔ چکوال کے گلوکار رجب علی خان نے”میں ہوش میں تھا تو اس پر مر گیا کیسے” گا کر اور چکوال کے معروف ٹوٹا ماسٹر استاد لیاقت علی نے ٹوٹا (شہنائی) پر "اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں” گا کر مہدی حسن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ استاد لیاقت تو ہیں ہی ایک جادو گر۔ ٹوٹا پر کیا کمال عبور رکھتے ہیں۔ رات بہت یادگار گزری۔ اس محفل کے بعد رات دو بجے بھون چوک کے پاس کھانا کھایا۔ چکوال میں آج کل بار بی کیو فرنٹیر فاسٹ فوڈز سے زیادہ لذیذ شاید ہی کسی اور جگہ سے ملتا ہو۔ کھانے کے بعد الائنس ٹریولز کے سامنے کوئٹہ ہوٹل سے چائے پی کر گھر روانہ ہوئے۔

چوہدری محسن حسن خان اور سید اسد علی شاہ موسیقی کی یہ محفلیں گزشتہ کئی برس سے منعقد کروا رہے ہیں۔ ان محفلوں میں حسین بخش گلو، حامد علی خان, شفقت سلامت علی خان, استاد رئیس خان، عارف فیروز خان, تحسین سکینہ جیسے گلو کار آ چکے ہیں۔ چکوال میں سنگیت کی یہ محفلیں ڈاک (دھن آرٹس اینڈ کلچر) کے پلیٹ فارم سے منعقد کرائی جاتی ہیں۔
18 جولائی 1927کو راجستھان کے گاؤں لونہ میں پیدا ہونے والے مہدی حسن نے کم عمری میں ہی گانا شروع کر دیا تھا کہ ان کے خاندان کا پیشہ ہی یہی تھا۔ اٹھارہ سال کی عمر تک مہدی حسن کو کلا سیکل میوزک کے دھرپد، ٹھمری، دادرا اور خیال جیسی اصناف پر عبور حاصل ہوچکا تھا۔ راجستھان میں راجاؤں کے محلات میں مہدی حسن اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن 1947 کے بٹوارے نے مہدی حسن اور ان کے خاندان کو راجستھان چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور یہ خاندان چیچہ وطنی کے ایک گاؤں میں اپنی ایک رشتہ دار خاتون کے گھر مقیم ہوگیا۔ نئے وطن میں اس خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مہدی حسن چیچہ وطنی شہر میں "مغل سائیکل ہاؤس” پر بطور سائیکل مکینک کام کرنے لگ پڑے۔ یہ سائیکل مکینک پھر ٹریکٹر مکینک اور کار مکینک بنا۔ دن کو یہ مکینک گاڑیاں ٹھیک کرتا اور راتیں موسیقی کی نذر کرتا۔ 1957 میں ریڈیو پاکستان پر بطور ٹھمری گلوکار گانے کا موقع ملا۔ مہدی حسن نے جلد ہی بھانپ لیا کہ پاکستان کی اشرافیہ غزل سننا پسند کرتی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کا عرق ریزی سے مطالعہ کیا اور ایک کے بعد ایک غزل گائی۔ مہدی حسن کے فن کا یہ عالم تھا کہ 1977 میں لتا منگیشکر نے ایک کنسرٹ کے دوران مہدی حسن کے بارے میں یہ کہا کہ ایسا لگتا ہے ان کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں۔ مہدی حسن نے پچاس ہزار کے لگ بھگ غزلیں اور گیت گائے اور دنیا میں "شہنشاہِ غزل” بن کر ابھرے۔ مہدی حسن نے لتا کے ساتھ پہلا اور آخری گانا 2009 میں ریکارڈ کروایا۔ یہ گانا، "تیرا ملنا بہت اچھا لگے ہے/ مجھے تو میرے دکھ جیسا لگے ہے”, مہدی حسن نے پاکستان میں اور لتا نے بھارت میں بیٹھ کر ریکارڈ کروایا تھا۔

رات کو ہونے والی محفل کے دوران مجھے بار بار سولہ سال پہلے ڈان اخبار میں شائع ہونے والا اپنا خط یاد آتا رہا۔ 2008 میں مہدی حسن شدید بیمار تھے اور ان کے پاس علاج کروانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ میں نے اس وقت ڈان اخبار میں یہ خبر پڑھی تھی کہ ہندوستان کی حکومت نے مہدی حسن کو مفت علاج کی پیشش کی ہے۔ اس خبر پر میں نے خط لکھا تھا کہ ہم اپنے فن کاروں کے ساتھ کیا کررہے ہیں۔ غزل کے اس شہنشاہ پر مشہور کالم نگار آصف نورانی نے ایک کتاب لکھی تھی۔ آصف نورانی کے مطابق مہدی حسن کو نہ صرف ٹی وی والوں اور موسیقی کے کنسرٹ کروانے والوں نے لوٹا بلکہ ان کے اپنے گھر والوں نے بھی ان کے ساتھ برا سلوک روا رکھا۔ ہر کسی نے ان کا خوب استحصال کیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اپنے علاج کے لیے ان کے پاس پیسے تک نہ تھے۔ مہدی حسن باقاعدگی سے شراب نہیں پیتے تھے لیکن جب پیتے تھے تو بہت بے قاعدگی سے پیتے تھے۔ تمباکو والا پان کھاتے تھے۔ ان کو کئی بیماریاں لاحق تھیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل میں ان کے علاج کا پچاس لاکھ روپے کا بل جو کئی عرصے سے ادا نہ ہوا تھا، سندھ حکومت نے ادا کیا۔

غزل کا یہ بے تاج بادشاہ 13 جون 2012 کو زندگی کے دکھوں سے آزاد ہو گیا۔ مہدی حسن کی وفات پر آصف نورانی نے ڈان میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا کہ مہدی حسن کی وفات کا سن کران کو انہوں نے سکون محسوس کیا ہے کیونکہ موت نے ان کی ایک عشرے پر محیط تکلیف کو ختم کر دیا ہے۔

مہدی حسن نے دو شادیاں کی تھیں اور دونوں بیویاں ان سے پہلے ہی چل بسیں۔ ان دو بیویوں سے مہدی حسن کے نو بیٹے اور پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ نو بیٹوں میں سے ایک بیٹے عارف مہدی طبلہ نواز بنے اور ایک بیٹے آصف مہدی گلوکار بنے۔ تاہم 2021 میں یہ دونوں بھائی یکے بعد دیگرے چل بسے۔ دونوں نے زندگی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزاری۔ آصف مہدی کی وفات کے بعد کامران مہدی نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ مہدی حسن تو اور کوئی نہیں بن سکتا لیکن کامران مہدی میں مہدی حسن کی جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ انہوں نے بہادر شاہ ظفر، حفیظ جالندھری، فیض احمد فیض اور قتیل شفائی کی لکھی ہوئی اور اپنے والد مہدی حسن کی گائی ہوئی غزلیں گا کر خوب داد و تحسین سمیٹی۔

روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

موسیقی کی اس محفل کو نیچے دیے گئے لنکس پر جا کر آپ سن سکتے ہیں۔

https://www.facebook.com/share/v/14b9N8x4af/

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You