تحریک انصاف کا ڈی چوک آزادی مارچ ڈرامہ یا وفاقی حکومت کو سانحہ 9 مئی کی جوابی کاروائی

تحریک انصاف کا ڈی چوک آزادی مارچ ڈرامہ یا وفاقی حکومت کو سانحہ 9 مئی کی جوابی کاروائی۔
تحریر!صفدر خان باغی
تحریک انصاف کے ایم این ایز،ایم پی ایز و سینٹرز چیرمین عمران خان بمقابلہ وفاقی حکومت پیچھلے ایک ہفتہ سے تحریک انصاف مسلسل دو دفعہ آسلام آباد ڈی چوک پہنچنے کی کوشش میں وفاقی حکومت کو چلینج کرتی رہی مگر تحریک انصاف کا احتجاج کے نتائج صفر فیصد رھے۔مجھے یاد ہے آج سے تقریبا بارہ سال قبل تحریک انصاف چیرمین اسلام آباد کے ایک نجی فائیو سٹار ہوٹل میریٹ بلمقابل کے پی ہاؤس میں عمران خان نے پارٹی کے کنونشن سے ملک بھر سے آئے ہوئے فاؤنڈر نظریاتی ورکرز کارکنان و عہداران سے خطاب میں مخاطب ہو کر کہا تھا کہ یاد رکھو دنیا کی کوئی طاقت یا پاکستان کی بڑی سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کو نقصان نہی پہنچا سکتی مگر ہاں اگر تحریک انصاف کو کوئی نقصان پہنچائے گا تو وہ تحریک انصاف خود ھوگی۔اج وہ نظریاتی کارکن کا کوئی نام و نشان تک ہی نہی رہا ۔بالکل آج اسی طرح چند روز قبل جب تحریک انصاف نے شنگھائی کانفرنس اسلام آباد کو روکوانے کے لئیے پلان کیا تو تحریک انصاف کے تین بڑے دھڑوں میں سے ایک دھڑے کے سرپرست اعلیٰ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور صاحب نے ڈی چوک آزادی مارچ گا اعلان عین اس وقت کیا جب اسلام آباد میں شنگھائی کانفرنس کی مہمان نوازی پاکستان کرنے جا رہا ھے اور شنگھائی کانفرنس کی تیاریاں وفاقی حکومت خوب زور و شور سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ موجودیت ملکی سیاسی و معاشی حالات میں بہتری کے جانب نہ گامزن ہو چکا ہے لیکن تحریک انصاف کو یہ ترقی ہضم نہی ہو رہی ہے ۔اسی لئیے عین شنگھائی کانفرنس اسلام آباد کے انعقاد سے دو ہفتے قبل تحریک انصاف کے تین بڑے دھڑوں کے مابین شنگھائی کانفرنس میں رکاوٹ اور ڈی چوک آزادی مارچ کی حکمت عملی کے لئیے لائحہ عمل اختیار کرنے کے لئیے تحریک انصاف کے پوری لیڈر شیپ کے درمیان اختلاف پایا گیا ان تین دھڑوں میں سے بیشتر سنئیرز نے شنگھائی کانفرنس اسلام آباد کو ملتوی کروانے کے حوالے جو پلان تشکیل دیا گیا تھا اس میں کسی بھی صورت اسلام آباد میں شنگھائی کانفرنس کی حمایت نہ کہ جائے جب تک چیرمین عمران خان صاحب کے ساتھ اسٹبلشمنٹ یا عسکری قیادت مزاکرات کے لئیے راضی نہ ہو جائے۔اسکے لئیے کوئی مضبوط بیانیہ بنایا جائے۔ جس پر کافی طویل مشاورت کے بعد تحریک انصاف کے لیڈر شیپ نے فیصلہ کیا کہ ہر صورت میں ڈی چوک آسلام آباد تک پہنچا جائے اور ڈی چوک اسلام آباد سے انٹرنیشنل میڈیا کو باور کروایا جائے کہ ھم شنگھائی کانفرنس اسلام آباد کے حمایتی نہی ھم خان صاحب کی رہائی کی اڑ میں مغربی قوتوں کے اعلی کاروں کو یقین دہانی کروانا چاہتے تھے کہ تحریک انصاف مل معشیت کو استحکام دینے کے لئیے تیار نہی ہیں ۔تحریک انصاف ڈی چوک احتجاجی کا ڈرامہ رچانے کا پلان بنایا۔اس گھناؤنی سازش میں تحریک انصاف جو کہ پہلے سے ہی تین دھڑوں تقسیم تھی اس میں سے ایک دھڑے نے شنگھائی کانفرنس اسلام آباد کو پر امن کروانے پر رضا مندی ظاہر کی اور دوسرے دھڑے نے شنگھائی کانفرنس سے بائکاٹ کرنے کا عندیہ دیا جبکہ تیسرے دھڑے کی قیادت بذات خود وزیر اعلیٰ
خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کررھے تھے۔ انہوں نے ملک بھر سے چیرمین عمران خان کے جانثاران سپورٹرز کو اسلام آباد ڈی چوک تک روڈوں پر نکالنے اور اکھٹا کرنے کے لئیے چیرمین عمران خان کی رہائی کے لئیے ڈی چوک آزادی مارچ کا پلان بنایا۔یہ گنڈا پور صاحب اپنی پلاننگ کی ایک سیاسی چال تھی۔مگر تحریک انصاف چیرمین عمران خان کے پیشتر جانثاران سپورٹرز نے شنگھائی کانفرنس اسلام آباد کو روکوانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ہی اکتفا کیا۔ جبکہ دوسری جانب چیرمین عمران خان کے ٹائیگر فورس خیبرپختونخوا کے پختون ورکرز عہداران جو کہ چیرمین عمران خان صاحب کے نام پر مر مٹنے والے یہ معصوم و جزباتی پختون اس سارے کھیل اور پلاننگ سے ناواقف تھے۔ خیبرپختونخوا کے تحریک انصاف کے سٹرونگ سپورٹرز پختون نوجوان بچے بزرگ اس پورے کھیل اور پلاننگ سے ناواقف اور انکو بےخبر رکھا گیا۔ چیرمین عمران خان صاحب کے جانثاران سپورٹرز کو موٹروے صوابی ٹول پلازے سے ہی مار پیٹا گیا اور ہیاں تک برھان چوک میں نڈھال یہ پختون نوجوان بزرگ بھوک و افلاس پیاسے موٹر وے کے دھشت و بیابان میدانی علاقوں میں شدید تپتی ھوئی دھوپ گرمی میں ٹرکوں بسوں اور فلائنگ کوچ کی گاڑیوں کی چھتوں اور پیدل دن رات کا سفر کرتے ہوئے اس کھلے آسمان کے نیچے بدحال اپنی مدد آپ پر درگزر کرتے گئے جبکہ تحریک انصاف کے تیسرے دھڑے کی پوری صوبائی کیڈرشیپ کو کھانے پینے کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ آنسو گیس شلینگ سے بچنے کے لئیے آکسیجن ماسک تک کی سہولیت میسر تھیں ۔مگر ان معصوم جزباتی پختون نوجوانوں بزرگوں کے لئیے کوئی سہولت نہی موجود تھی ہیاں تک پورے دن شدید گرمی کے بعد اللہ پاک کی کرم نوازی سے باران رحمت ہوئی مگر اس تیز طوفانی بارش میں یہ پختون بھائیوں ،نوجوانوں بزرگوں کو تن تنہا کھلے آسمان کے نیچے اٹک اسلام آباد پولیس کی دفاعی حکمت عملی انکو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شلینگ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پولیس کا کام ان جزباتی پختون نوجوان بزرگوں اس تاکہ احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنا تھا مگر پولیس انتظامیہ کی آنسو گیس شیلنگ کے دھوں کے آگے ان پختونوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر تحریک انصاف کے تیسرے دھڑے کی قیادت کرنے والے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محترم گنڈا پور صاحب کےپی ھاؤس اسلام اباد پہنچ گئے جنہوں نے ہی کاروان کے پختون کارکنان سپورٹرز کو بغیر بتائے باآسانی کےپی ھاؤس اسلام پہنچ کر اپنے قریبی عزیزاداروں ، دوستوں اور وفادار صوبائی وزراء کے ساتھ کے ہی ہاؤس میں بریک فاسٹ یعنی ناشتے، ظہرانہ میں لزیز کھانوں پکوان کے مزے لیتے رھے ۔۔جب کہ دوسری جانب اسلام آباد پولیس کو باخبر ذرائع سے خبر ملی چکی تھی کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے پی ہاؤس اسلام آباد میں تشریف فرما ہیں ۔ اسلام آباد پولیس کی ریٹ کے دوران وزیر اعلیٰ گنڈا پور صاحب کی طرف سے اپنے تحریک انصاف کے معصوم سپورٹرز دوست و احباب کو ڈی چوک احتجاج پلان بی پر عمل کرنے کے لئیے ہدایات جاری کی گئیں ۔ کارکنان سب سے پہلے کےپی ھاؤس اسلام اباد کے کھڑکیاں ،دروازوں، شیشوں کی توڑ پھوڑ کا کام شروع کریں اور اسکے بعد اس توڑ پھوڑ شدہ کھڑکیوں دروازوں شیشوں کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی جائیں اور دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ساتھ ورکرز سپورٹرز گھتم گھوتا ہوکر دھاوا بول دیں ۔جیسا کہ تحریک انصاف نے سانحہ 9 مئی کے واقعات میں کیا تھا۔ یعنی خود پہلے توڑ پھوڑ کرو پھر اسکا الزام حکومت اور قومی حساس اداروں پر ڈال دو تاکہ میڈیا پر خبر چلے تحریک انصاف کے لیڈر شیپ پر حملہ ھو گیا اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا خود وہاں سے رفو چکر ھو گئے۔
جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کے دوسرے دھڑے کو وزیراعلی پر خوب کھل کر سیاست اور مخالفت و تنقید کرنے کا موقع مل گیا تھا مگر خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور تحریک انصاف کے ان دونوں مخالف دھڑوں سے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور خود کو کے پی ھاؤس اسلام آباد سے روپوش ظاہر کرواکر الزام وفاق ہر ڈال کر غائب ہو گئےاور دوسری جانب برھان چوک و اسلام آباد میں موجود بے خبر پختون ورکرز سپورٹرز انتظار میں بیھٹے ڈی چوک اسلام آباد میں داخل ہونے کے لئے تحریک انصاف کے تینوں دھڑوں کے لیڈرشیپ کے حکم کے منتظر تھے۔مگر ان معصوم پختون سپوٹرز کارکنان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا اور دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف بغاوت نہ کر دیں اس ڈر خوف سے بچنے کے لئیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ٹی سب سے پہلے چیرمین عمران خان کے چند سینکڑوں جانثاران ورکرز کو وزیر اعلیٰ گنڈا پور کے معاون خصوصی کار خاص اور انکے ساتھ شامل وفادار صوبائی وزرا کی طرف سے یہ اھم پیغام دیا گیا کہ وزیر اعلیٰ گنڈا پور صاحب جو اسلام آباد پولیس نے کے پی ہاؤس میں گرفتار کر لیا ہےاس سے پہلے کہ کئی یہ تحریک انصاف کے پختون ورکرز خیبرپختونخوا وزیراعلی گنڈا پور اور صوبائی وزرا پر برس نہ پڑھیں اور گالم گلوچ اور کئی احتجاج انکے خلاف نہ کردیں م۔ عین اسی وقت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا گنڈا پور صاحب کی خصوصی ہدایات پر خیبرپختونخوا میں اچانک صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلاؤایا گیا۔ اور خیبرپختونخوا کے صوبائی ترجمان جناب بیرسٹر محمد علی سیف کو پلان بی کے مطابق ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ فلفور ایک بیان جاری کرے کہ خیبرپختونخوا وزیراعلی علی امین گنڈا پور کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ھدایات پر اسلام اباد پولیس نے گرفتار کر لیا ھے اور وزیر اعلیٰ گنڈا پور صاحب کو نامعلوم مقام پر منتقل کروا دیا گیا اور پورے سوشل میڈیا پر کےپی ہاؤس اسلام آباد کی توڑ پھوڑ دروازے شیشے کی وڈیو تحریک انصاف سوشل میڈیا پر وائرل کروادی گئی جسے ملک بھر کے ٹی وی چینل پر بھی نشر کروایا گیا۔ ہہاں خیبرپختونخوا کے دارلخلافہ پشاور میں تمام بڑی شاہراؤں کے مین روڈ کے چوک میں تحریک انصاف چیرمین عمران خان کے پختون جانثاران ورکرز بہت بڑی تعداد میں نکل آئے اور صوبائی اسمبلی کے باہر جوک در جوک اکھٹے ہونے لگے اور وزیر اعلیٰ گنڈا پور کی رہائی اور انکے حق میں نعرے لگانے لگے۔اس دوران تحریک انصاف کے دوسرے دھڑے کے قیادت کرتے ہوئے سابق قومی اسمبلی اسپیکر اسد قصیر و جملہ ایم این ایز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو فلفور بازیاب یا رہا کیا جائے جنیں اسلام آباد پولیس نے نامعلوم مقام پر منتقل کروایا ہوا ھے۔ دوسری جانب اس پلان بی گرفتاری ڈرامے کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور حکومت کو اسکا زمےدار ٹہرایا گیا۔اسکے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو الٹی میٹم دیا گیا کہ فلفور گنڈا پور صاحب کو رہا کیا جائے مگر پلان بی ڈرامے کا دوسرا رخ پشاور میں احتجاج میں روڈوں کو مکمل بند کروا دینا اس ظرف اشارہ کرتا ھے کہ اسلام آباد ڈی چوک میں ہزاروں پختون ورکرز کا غصہ ٹھنڈا کرنا لازمی تھا اس کے لئیے پشاور کی مین شاہراؤں کو بند کردیا گیا کیونکہ خیبرپختونخوا کا دارلخلافہ کی مین شاہراؤں کی بندش جنگل میں آگ لگنے کی مانند ہوتے ملک میں پھیل چکی تھی۔صوبائی اسمبلی کے اچانک اجلاس میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے نہایت ہی با اعتماد حمایت یافتہ صوبائی وزرا کو ٹاسک دیا گیا۔کہ وہ فلفور خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد پیش کی جائے کہ خیبرپختونخوا وزیراعلی علی امین گنڈا پور صاحب کی رہائی کو یقینی بنانے کے لئیے اسلام آباد سے کروائی جائے اور اسلام آباد آئی جی ڈی آئی جی اٹک کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ تمام ڈی چوک کا احتجاج کو تحریک انصاف کے اپنے ہی تین دھڑے نے خود ختم کروایا۔مگر دوسری جانب جانثاران چیرمین عمران خان اور مشتعل پختون نوجوانوں بزرگوں ورکرز کے غصے کو ٹھنڈا اور شنگھائی کانفرنس اسلام آباد ملتوی کروانے کی ناکامی کو چھپانے کے لئیے سب سے پہلے یہ سارا کھیل ڈرامہ پلان بی کا اختتام ایک بڑا مسلہ اور اھم مرحلہ تھا۔ جس کے لئیے تحریک انصاف کی بچی کھچی ساخت کو مزید نقصان سے بچانا بھی ضرور تھا ۔اس سارے کھیل ڈرامے اور پلان بی کا اصل مقصد گزشتہ سال سانحہ 9 مئی کے اشتعال انگیز شرپسندی کے درمیان ہونے والے واقعات کے باعث جو بدنامی تحریک انصاف کی ہوئی اسکے انتقام لینے کے لئیے حکومت پر چڑھائی کرنے کے لئیے یہ تمام کھیل رچایا گیا۔وزیراعلی خیبرپختونخوا گنڈا پور صاحب کی جانب سے اغوا و گرفتاری کی بدنامی کیچڑ وفاقی حکومت پر ڈالنے سے لیکر بین الاقوامی ممالک کے وزیر خارجہ شنگھائی کانفرنس آسلام آباد میں جو شرکت کرنے والے ان انٹرنیشنل میڈیا کے مبصرین تجزیہ نگار سنئیر صحافیوں کو تحریک انصاف کی جانب سے یہ باور کروانا شامل تھا کہ موجودہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت و اسٹبلشمنٹ پر تحریک انصاف اور عالمی ممالک اس بہانہ پر عدم اعتماد عدم اطمینان ظاہر کریں تاکہ تحریک انصاف کو سیاست میں پلاننگ لیول فلیڈ میں ایک بار پھر کھیلنے کا موقع مل سکے۔تحریک انصاف کے تینوں دھڑوں میں سے ایک دھڑا جو چیرمین عمران خان کو بھی نہی مانتا یہ دھڑا مفاد عامہ والا ہے ۔جس نے تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن کو مکمل دیوار سے لگایا ہوا ھے۔ تحریک انصاف کا دوسرا دھڑا جو شنگھائی کانفرنس اسلام آباد سے بیکاٹ کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان دونوں دھڑوں کا مشن پاکستان کو خدانخواستہ ڈیفالٹر قرار دلوانے سے لیکر ملکی معشیت کی تباہی ہالی کی طرف چلی جائے اور خدانخواستہ لوگ ایک بار پھر میں روڈز پر نکل کر سری لنکا و بنگلہ دیش کی عوام کی طرح وفاقی حکومت ، صدر ، وزیراعظم اور افواج کے خلاف اشتعال انگیزی، شرپسند جلاو گھیراؤ جلسے جلوس تھوڑ پھوڑ کر کے پاکستان میںخانہ جنگی مسکت کرواکر عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کروانے کی ناکام کوشش تھی ۔
سوال یہ اٹھتا ھے کہ اگر خیبرپختونخوا کے وزیراعلی علی امین گنڈا پور صاحب ڈی چوک احتجاج کی قیادت کر رھے تھے تو انہوں نے اسلام آباد کے پی ھاؤس اپنے وفادار صوبائی وزراء کے ساتھ جانے کا کیوں ارادہ کیا کیوں وہ کے پی ھاؤس گئے ۔ اور جب پہنچ گئے تو وہاں سے کیوں غائب ھو گئے اور نہی گئے تو کہاں پر روپوش تھے۔ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ بیک وقت خیبرپختونخوا ہیلتھ منسٹر پختون یار اور وزیر اعلیٰ علی آمین گنڈاپور صاحب نے ایک ہی جیسے لباس پگڑی اور جاگر یعنی شوز کا انتخاب کیوں کیا۔ ان تمام واقعات کو اگر غور سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس تمام ڈی چوک احتجاج کے پلان بی ڈرامہ سے ثابت ہوتا کہ یہ ڈی چوک پلانٹیڈ تھا بس اگر کسی کو معلوم نہی تھا تو وہ معصوم پختون عوام اور جانثاران چیرمین عمران خان نظریاتی کارکن و عہدیداران یعنی یہ سب کچھ پہلے تحریک انصاف کے تینوں دھڑوں کے لیڈر شیپ کا آپس میں ہی فیصلہ ہو چکا تھا۔اس تمام احتجاج کے اس کھیل کا اصل کردار پس پشت چھپا ہوا ہے۔ جو کہ اس گھناؤنی سازش کی کمانڈ مغربی قوتوں کے ایما پر ریاست پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی ناپاک کوشش میں لگا ھوا ہے وہ نہ عوام کا نہ ہی تحریک انصاف چیرمین عمران خان کے جانثاران ورکرز سپورٹرز عہداران کا مخلص ھے اور نہ ہی پختونوں کا وفادار ہے۔اسی لئیے ان حالات و واقعات سے کنارہ کش اختیار کئے ہوئے تحریک انصاف کے قائم مقام چیرمین بریسٹر گوہر صاحب اور بے شمار ایم این ایز ایم پی ایز اور سینٹرز اس پورے احتجاج میں خاموش گمنام دکھائے دئیے ۔ جب کہ کل شام کو تمام میڈیا کی نظریں صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا کے اجلاس پر بریکنگ نیوز کے لئیے ٹیکی رہیں تو اچانک وزیراعلی خیبرپختونخوا جناب علی امین گنڈا پور صاحب صوبائی اسمبلی میں مولا جٹ نوری نت کی طرح شولڈر پر پشاوری چار گوٹی رومال ڈالے رونما ہوتے ہیں اور وفاقی حکومت پر برس پڑتے ہیں۔ مگر انھوں نے اپنی پوری تقریر کے دوران یہ زکر نہی کیا کہ آخر وہ اسلام آباد کے پی ہاؤس یا کئی اور روپوش کیوں ہوئے ان تمام سوالوں کا جواب اور حقائق آنے والے چند دنوں میں کھل کر سامنے آئیںنگے صرف شنگھائی کانفرنس اسلام آباد بخیر وعافیت سے اختتام پزیر ہونے کی دیر ھے۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا وزیراعلی علی امین گنڈا پور صاحب خود بخود بہت بڑے بڑے انکشافات کرتے ہوئے دکھائی دینگے یہ تحریک انصاف کا ڈی چوک تک کا آخری سفر تھا اس کے بعد چیرمین عمران خان صاحب 2012 فروری کے کنونشن میں یادگار کہے ہوئے جملے ” کہ تحریک انصاف کو کوئی بھی شکست نہی دے سکتا ہے یاں اگر کوئی شکست دے سکتا ہے تو وہ خود تحریک انصاف ہی ہوگی” یعنی تحریک انصاف کے تین دھڑے جو کے شروع سے ہی بننے ہوئے تھے اب وہ عنقریب ان کے اختلافات ابھر کر باہر آجائنگے اور وہ خود بخود آپس میں ٹکرا کر پاش پاش ھو جائینگے۔۔ باقی وقت بہترین فیصلہ کرنے والا ہے مگر آخر میں ضرور کہونگا کہ پشاور سے ڈی چوک تک مارچ کروانے والے فلسطین و کشمیر کے لئے کیوں نہی نکلتے اور شنگھائی کانفرنس کی حمایت کا اعلان کیوں نہی کرتے یعنی اگر تحریک انصاف کے تینوں دھڑے میں سے کسی ایک لیڈر شیپ کو سپورٹ کرے تو وہ ٹھیک اور فرشتہ ہے اگر انکے نظریہ پر کوئی اعتراض کرے تو وہ گنہگار اب فیصلہ خود پاکستانی عوام نے کرنا ھے ۔کیا پاکستانی عوام پر امن پاکستان میں رہ ا چاہتی ہے یا پھر تین دھڑوں والی تحریک انصاف کا دنگا فسادات والا پاکستان اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے حق و سچ سیاہ و سفید کو جاننا پوری قوم کی اولیں زمےدار بنتی ہے۔



