سندھ

فراز الرحمٰن کا انگریزوں اور مغلوں کی عنایت کردہ جاگیروں کے خاتمے اور 25 ایکڑ سے زیادہ اراضی

فراز الرحمٰن کا انگریزوں اور مغلوں کی عنایت کردہ جاگیروں کے خاتمے اور 25 ایکڑ سے زیادہ اراضی یا سالانہ 25 لاکھ سے زیادہ آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا مطالبہ

( نان فائلر کی اصطلاح کے خاتمے کی تجویز کا خیرمقدم ) زرعی شعبے کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے – فراز الرحمٰن

کراچی : (رپورٹ:عاصم آرائیں جہلمی)

فراز الرحمٰن، سابق چیئرمین کاٹی اور پیٹرن ان چیف پاکستان بزنس گروپ نے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر ایف بی آر کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ انہوں نے چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس آرڈیننس میں "نان فائلر” کی اصطلاح ختم کرنے کی تجویز کی بھی تعریف کی، اور اسے ٹیکس چوری کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ نان فائلرز کو ہدف بنانے کا اقدام دیرینہ مطالبہ تھا، کیونکہ اس سے ٹیکس چوری اور غیر اعلانیہ جائیدادوں کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا۔

فراز الرحمٰن نے مزید زور دیا کہ زرعی شعبے کو ٹیکس کے دائرے میں لانا ناگزیر ہے اور 25 ایکڑ سے زیادہ اراضی یا سالانہ 25 لاکھ روپے سے زائد آمدنی رکھنے والوں پر ٹیکس لگایا جانا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بڑے زرعی پیدا کنندگان کو مسلسل سبسڈیز دی جاتی ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ عام آدمی کے فائدے کے لیے کم قیمتوں پر اشیاء مارکیٹ میں فراہم کریں۔ انہوں نے سبزی منڈی کے ان مافیاز کے خلاف فوری کارروائی کا بھی مطالبہ کیا جو قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کرتے ہیں اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

مزید برآں، فراز الرحمٰن نے جائیداد سے متعلق ٹیکس کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور حکومت کے ان مسائل کو حل کرنے کے سنجیدہ موقف کی تعریف کی۔ انہوں نے ایف بی آر کے منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ شفافیت اور مؤثر کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے، خاص طور پر اسمگلنگ پر قابو پانے اور کسٹم ڈیوٹیز کے نفاذ میں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You