کالم/مضامین

دور خلافت میں موجود حکومتی اراکین و عہدیداران میں سے اگر کسی کو دین اخلاق

*بقائے پاکستان*

*تحریر: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*

دور خلافت میں موجود حکومتی اراکین و عہدیداران میں سے اگر کسی کو دین اخلاق معاشرے اور ریاست ملک و قوم کے خلاف فتنہ بازی خودغرضی اور انارکی پھیلانے والوں کا فی الفور سرِ عام سر قلم کردیا جاتا تھا کیونکہ مدینہ پاک کی ریاست میں ناپاک ذمہداران کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ دنیا کی دوسری اسلامی ریاست پاکستان میں پاک افواج کے جنرلز اور کور کمانڈرز کی ذمہداری بنتی ھے کہ ملک کے شرپسندوں غداروں معاشی و معاشرتی بگاڑ کرنے والوں کا دین محمدی ﷺ اور ریاست کی بقاء کیلئے سرے عام گردنیں اڑادیں پھر خود دیکھیں گے کہ ایک بھی کرپٹ اور کرپشن کا عنصر اور ناانصافی و ظلم کا سایہ تک نظر نہ آئیگا۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یہ ملک پاش پاش ھوجائیگا اب آپکو ان خبیث و ذلیل اور دجالی عناصر کا قلع قمع کرنا لازم ہوچکا ھے روز قیامت آپ عسکری قوت اسٹار ون سے اسٹار فور تک کے تمام افسران براہ راست رب کو جواب دہ ہونگے خدارا اللہ پر یقین کیجئے اور رسول اللہ ﷺ سے والہانہ محبت کا ثبوت دیتے ہوئے ملک سے تمام غلاظت یکدم ختم کردیں صرف اللہ توکل پر دنیا کی کوئی طاقت آپ سب عسکری قوتوں اور افسران کا بال بیگھا نہیں کرسکیں گے پاکستانی عوام آپ عسکری قوتوں اور افواج پاکستان کیساتھ ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You