سندھ

*عنوان: میلادالنبی ﷺ بدعت حسنہ یا بدعتِ سیئۃ ۔۔۔ !!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: میلادالنبی ﷺ بدعت حسنہ یا بدعتِ سیئۃ ۔۔۔ !!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آجکل ماہ ربیع الاول ایک بار پھر شوشل میڈیا میں سب سے زیادہ موضوع بحث میلادالنبی ﷺ ھے۔ آج اپنے کالم کو اسی اہم نکات کی جانب رکھا ھے۔ معزز قارئین بریلوی مکتب فکر کے نقطہ نظر کے مطابق بدعت کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں ایک بدعتِ حسنہ یعنی احسن بدعت اور دوسری بدعتِ سیئۃ یعنی بری بدعت اب اسلامی ممالک میں ھونے والے مذہبی عوامل پر نظر ڈالتے ہیں…ہر سال جشن سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
…ہر سال غسل خانہ کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں…ہر سال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں…غلاف کعبہ پر آیت لکھی جاتی ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں…مکہ مکرمہ مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا ثبوت قرآن و حدیث میں نہیں…مدارس میں ہر سال ختم بخاری ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں…محافل سجائی جاتی ہے جلسہ عام ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں…ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے چلّے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں…صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں…جشن دیوبند و اہل حدیث منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں…ذکر میلادِ مصطفیٰ صلی الله عليه وسلم منانے کا کسی صحابی ائمہ محدث و بزرگان دین نے منا کیا ہو اس کا بھی قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں لیکن جیسے ہی میلادالنبی صلی الله عليه وسلم منانے کی بات آجائے سارے نام و نہاد مفتی دین کے ٹھیکیدار…ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری لکھتے ہیں کہ دیوبندی مولوی تقی عثمانی صاحب کے بیان:” جشن آزادی جائز اور میلاد بدعت کیوں ہے“ کا شرعی و تنقیدی جائزہ سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ دیو بندیوں اور وہابیوں پر اہلسنت یہ اعتراض کرتے تھے کہ تم جشن میلاد کو بدعت اور جشن آزادی کو جائز کہتے ہو یہ کس اصول پر ہے؟ دیو بندیوں کے ایک مولوی تقی عثمانی نے اس پر ایک بیان دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ "ہم (دیوبندی) جشن آزادی کو اس لئے جائز کہتے ہیں کہ یہ دینی کام نہیں بلکہ دنیاوی عمل ہے اور میلاد دینی کام ہے اور حدیث پاک میں ہر وہ کام بدعت کہا گیا ہے جو دین میں نیا ہو”۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس حوالے سے راہنمائی فرمائیں کہ کیا وہابی مولوی کا یہ جواب کیا درست ہے؟ دیو بندی مولوی تقی عثمانی اور اسی طرح دیگر وہابی مولوی جو جواب دیتے ہیں وہ شرعی اصولوں کے مطابق درست نہیں۔ دیو بندی وہابی پہلے یہ بتائیں کہ یہ جو سیرت کانفرنس کرتے ہیں یہ دنیاوی عمل سمجھ کر کرتے ہیں… یا… دینی عمل، ثواب کا کام سمجھ کر…؟؟!… اگر یہ دینی اور ثواب کا کام سمجھتے ہیں تو یہ بدعت کیوں نہیں…؟؟!… اگر یہ دنیاوی فعل سمجھتے ہیں تو اپنی عوام کو کیوں نہیں بتاتے کہ وہ تو سیرت کانفرنس میں لاکھوں روپے ثواب سمجھ کر لگا رہے ہیں…؟!! نیز دیو بندی وہابی افتتاح بخاری، ختم بخاری، ختم نبوت اور دیگر جلسے، سالانہ تبلیغی اجتماع، چالیس دن کے تبلیغی چلّے دین سمجھ کر کرتے ہیں یا دنیاوی کام سمجھ کر کرتے ہیں؟ اگر دین اور ثواب سمجھ کر کرتے ہیں جیسا کہ ثابت ہے تو یہ انکے اپنے اصول کے مطابق ناجائز و بدعت ہوا۔ وہابی مولوی تقی عثمانی کا جشن آزادی کو خالص ایک دنیاوی عمل قرار دینا بھی درست نہیں کیونکہ وطن کی محبت دینی طور پر مشروع ہے، پھر اگر وہ ملک اسلامی ہو اور اس وجہ سے محبت ہو کہ اس میں ہم آزادنہ طور پر دینی امور سر انجام دیتے ہیں تو اس کی یہ محبت فقط دنیاوی نہیں رہ جاتی۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کی آزادی کیلئے علمائے کرام اور مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔کیا وہ جو آزادی کیلئے مسلمانوں قتل کئے گئے اور آج بھی جو پاکستانی فوجی اپنے ملک کیلئے جانیں دیتے ہیں کیا یہ وہابیوں کے نزدیک شہید نہیں؟ کیونکہ انکے نزدیک تو وطن ایک دنیاوی معاملہ ہے۔
عمدۃ القاری میں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ "سالِ وفات: 855ھ”، فتح الباری میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ "سالِ وفات: 852ھ”، التوشیح شرح الجامع الصحیح میں امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ "سالِ وفات: 911ھ” اور تحفۃ الاحوذی میں وہابی مولوی مبارک فوری "سالِ وفات: 1353 ھ” نے لکھا ہے:” عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا قدم من سفر فنظر إلى جدرات المدينة أوضع ناقته وإن كان على دابة حركها من حبها … وفي الحديث دلالة على فضل المدينة وعلى مشروعية حب الوطن والحنين إليه "ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آتے اور مدینہ کی دیواروں کی طرف دیکھتے تو اپنا اونٹ رکھ دیتے اور اگر کسی جانور پر ہوتے تو اسے حرکت دیتے مدینے کی محبت کے سبب۔ اور یہ حدیث مدینہ کی فضیلت اور وطن سے محبت و اشتیاق کے مشروع ہونے پر دلیل ہے۔ "فتح الباري شرح صحيح البخاري، جلد 3، صفحة 621، دار المعرفة،بيروت” شرح رياض الصالحين میں وہابی مولوی محمد بن صالح بن محمد العثيمين "سالِ وفات: 1421ھ” لکھتا ہے: "حب الوطن إن كان لأنه وطن إسلامي فهذا تحبه لأنه إسلامي. ولا فرق بين وطنك الذي هو مسقط رأسك، أو الوطن البعيد من بلاد المسلمين؛ كلها وطن الإسلام يجب أن نحميه” ترجمہ: وطن کی محبت اگر اس لئے ہو کہ یہ اسلامی ملک ہے، تو آپ اس سے اس لئے محبت کرتے ہیں کہ یہ اسلامی ہے۔ آپ کا وطن، جو آپ کی جائے پیدائش ہے، یا مسلم ممالک سے دور وطن میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ سب اسلام کے وطن ہیں۔ تو واجب ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں۔ "شرح رياض الصالحين، جلد 1، صفحة 66، دار الوطن للنشر، الرياض” نیز جشن آزادی اور دیگر 23 مارچ، 6 ستمبر کے جو سرکاری دن ہوتے ہیں اس میں شہداء کیلئے دعائے خیر کی جاتی ہے، وہابی سرکاری مولوی بھی فوجی افسران کیساتھ ہاتھ باندھ کر شہداء کی قبروں پر پھول رکھتے اور ان کیلئے دعا کرتے ہیں، کیا یہ دعا بھی دنیاوی فعل ہے …یا… اس دعا کا ثواب ملے گا…؟!! …اگر دعا کا ثواب ملے گا کیونکہ دعا ایک نیک کام ہے تو یہی دعا اور صدقہ و خیرات میلاد میں کیا جائے تو وہ بدعت کیوں ہے …؟!!…کیا کوئی بھی دنیاوی فعل یا رسم ہو اس میں کوئی نیک کام کیا جائے وہ بدعت و بے ثواب ہوتا ہے…؟!!… اگر ثواب رہتا ہے تو میلاد میں وہ نیک کام بدعت کیوں ہوگئے…؟!! اگر کوئی وہابی دیوبندی یہ کہے کہ بالفرض مان لیں کہ جشن آزادی میں دعائے خیر اور میلاد میں نیک اعمال کا ثواب اپنے اصول کے مطابق درست ہے لیکن بغیر کوئی نیک کام کرنے کے فقط میلاد شریف پر خوش ہونا کیسے شرعا پسندیدہ عمل ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میلاد پر محفل نعت، لنگر تقسیم کرنا وغیرہ سب ثواب کے کام ہیں، لیکن اگر کوئی مسلمان یہ افعال نہ بھی کرے فقط میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوش ہو اور مسرت کا اظہار کرے تو یہ بھی مستحب عمل ہے اور مستند علمائے کرام "جن کو وہابی دیو بندی بھی مانتے ہیں” نے اس کے اچھے فعل ہونے کی صراحت کی ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهنے "مدارج النبوة” اور علامہ جزری رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهنے بھی اپنے رسالۂ میلاد شریف میں ابولہب کے اس واقعہ کہ جس میں اس نے حضور علیہ السلام کی ولادت کی خوشی میں لونڈی کو آزاد کیا تھا اس واقعہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے:”إذا کان هذا أبو لهب الکافر الذی نزل القرآن بذمه جُوزِي فى النار بفرحه ليلة مولد النبی صلی الله تعالى عليه وسلم به فما حال المسلم للمو حد من أمته صلی الله تعالى عليه وسلم …إلى آخره ” ترجمہ:جب یہ حال ابو لہب جیسے کافر کا ہے جس کی مذمت میں قرآن نال ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت کی شب خوشی منانے کی وجہ سے اس کو بھی قبر میں بدلہ دیا گیا تو آپ کے موحد و مسلمان امتی کا کیا حال ہوگا ؟! "المواهب اللدنية، المقصد الأول، ذكر رضاعه صلى الله عليه وسلم، جلد، صفحة 89، المكتبة التوفيقية”
امام جلال الدین سیوطی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه اپنی کتاب "اَلْحَاوِى لِلْفَتَاوى” میں عاشوراء کے روزے کو حدیث سے ثابت کرنے کے بعد میلاد شریف کی اصل ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "فیستفاد منه فعل الشکر لله علی ما منّ به فی یوم معین من إسداء نعمة أو دفع نقمة ، ویعاد ذلک فی نظیر ذلک الیوم من سنة” ترجمہ: اس حدیث پاک سے پتہ چلا کہ جس معین دن میں کوئی نعمت ملے یا کوئی مصیبت دور ہو اس دن اللہ عزوجل کا شکر کرنا درست ہے اور ہر سال اس دن کو منانا اس واقعہ کی یاد تازہ کرنا ہے۔ "الحاوي للفتاوي بحواله ابن حجر، حسن المقصد فى عمل المولد، جلد 1، صفحة 229، دار الفكر، بيروت” امام نووی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه کے شیخ امام ابو شامہ نے فرمایا: "ومن ‌أحسن ‌ما ‌ابتدع في زماننا ما يفعل كل عام في اليوم الموافق ليوم مولده صلى الله عليه وسلم من الصدقات والمعروف وإظهار الزينة والسرور "ترجمہ: ہمارے زمانے میں لوگوں نے جو اچھے کام شروع کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ ہر سال میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن صدقات کرتے ہیں، نیک اعمال کرتے ہیں، خوشی اور زینت کا اظہار کرتے ہیں۔ "إنسان العيون، باب تسميته صلى الله عليه وسلم محمدا وأحمد، جلد 1، صفحة 123، دار الكتب العلمية، بيروت”
علامہ قطب الدین حنفی نے کتاب الاعلام باعلام بیت الله الحرام فی تاریخ مكة المشرفة میں اہلِ مکہ کی محافلِ میلاد کی بابت تفصیل سے لکھا ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا ہے کہ اہلِ مکہ صدیوں سے جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے رہے ہیں ،چنانچہ لکھتے ہیں: "يزار مولد النبي صلی الله عليه وسلم المکاني في الليلة الثانية عشر من شهر ربيع الأول في کل عام، فيجتمع الفقهاء والأعيان علي نظام المسجد الحرام والقضاة الأربعة بمکة المشرفة بعد صلاة المغرب بالشموع الکثيرة والمفرغات والفوانيس والمشاغل وجميع المشائخ مع طوائفهم بالأعلام الکثيرة ويخرجون من المسجد إلي سوق الليل ويمشون فيه إلي محل المولد الشريف بازدحام … يأتي الناس من البدو والحضر وأهل جدة، وسکان الأودية في تلک الليلة ويفرحون بها”ترجمہ:ہر سال باقاعدگی سے بارہ ربیع الاول کی رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت کی زیارت کی جاتی ہے۔ تمام علاقوں سے فقہاء، گورنر اور چاروں مذاہب کے قاضی مغرب کی نماز کے بعد مسجد حرام میں اکٹھے ہوتے ہیں اور انکے ہاتھوں میں کثیر تعداد میں شمعیں، فانوس اور مشعلیں ہوتیں ہیں۔ یہ مَشعَل بَردَار جلوس کی شکل میں مسجد سے نکل کر سوق اللیل سے گزرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت کی زیارت کیلئے جاتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا اجتماع ہوتا کہ دور دراز دیہاتوں، شہروں حتیٰ کہ جدہ کے لوگ بھی اس محفل میں شریک ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی کا اِظہار کرتے تھے۔ "کتاب الإعلام بأعلام بيت الله الحرام في تاريخ مکة المشرفة صفحة 355، 356 مطبوعة سعودية” کتاب "سُبُلُ الْهُدٰى وَالرَّشَاد فِي سِيرَةِ خيرِ الْعِبَاد صلی الله عليه وسلم” میں علامہ یوسف صالحی شامی رحمۃ اللہ علیہ "سالِ وفات: 942ھ” لکھتے ہیں: "ليس هذا من السنن، ولکن إذا أنفق في هذا اليوم وأظهر السرور فرحاً بدخول النبي صلی الله عليه وسلم في الوجود … حسَن يُثاب” ترجمہ:یہ عمل یعنی مُرَوَّجہ میلاد سُنَن میں سے تو نہیں ہے لیکن اگر کوئی اس دن مال خرچ کرتا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ مسعود کے ظہور پذیر ہونے کی خوشی مناتا ہے تو یہ اچھا ہے ثواب ملے گا۔ "سُبُلُ الْهُدٰى وَالرَّشَاد فِي سِيرَةِ خيرِ الْعِبَاد صلی الله عليه وسلم، جلد، 1 صفحة 364 مطبوعة مصر” مزید ” سُبُلُ الْهُدٰى وَالرَّشَاد فِي سِيرَةِ خيرِ الْعِبَاد صلی الله عليه وسلم” میں ہے: "مولد رسول الله صلی الله عليه وسلم مبجّل مکرّم، قدّس يوم ولادته وشرّف وعظم وکان وجوده صلی الله عليه وسلم مَبدأ سبب النجاة لمن اتبعه وتقليل حظّ جهنم لمن أعدّ لها لفرحه بولادته صلی الله عليه وسلم وتمَّت برکاتُه علي من اهتدي به، فشابَه هذا اليومُ يوم الجمعة من حيث أن يوم الجمعة لا تُسَعّر فيه جهنم، هکذا ورد عنه صلی الله عليه وسلم فمن المناسب إظهار السرور وإنفاق الميسور وإجابة من دعاه ربُّ الوليمة للحضور” ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا دن بڑا ہی مقدس، بابرکت اور قابل تکریم ہے۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اَقدس کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان اور آپ ﷺ کو ماننے والا آپ ﷺ کی ولادت کی خوشی منائے تو وہ نجات و سعادت حاصل کرلیتا ہے، اور اگر ایسا شخص خوشی منائے جو دوزخی ہے تو اس کا عذاب کم ہوجاتا ہے اور آپ ﷺ کی ہدایت کیمطابق چلنے والوں پر آپ ﷺ کی برکات مکمل ہوتی ہیں۔ یہ دن یوم جمعہ کے مشابہ ہے، اس حیثیت سے کہ یوم جمعہ میں جہنم نہیں بھڑکتی جس طرح کہ حضور ﷺ سے مروی ہے۔ اس لئے اس دن خوشی اور مسرت کا اظہار اور حسبِ توفیق خرچ کرنا اور دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا بہت ہی مناسب ہے۔ "سُبُلُ الْهُدٰى وَالرَّشَاد فِي سِيرَةِ خيرِ الْعِبَاد صلی الله عليه وسلم، جلد، 1 صفحة 364 مطبوعة مصر” وہابیو ں اور دیو بندیوں کی طرح اہل سنت میں جس کو مستند ترین علمی شخصیت مانا جاتا ہے وہ علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ سالِ وفات: 597 ھ ہیں انہوں نے اس بحث کا فیصلہ کردیا ہے کہ میلاد شریف پر خوشی کرنا حضور علیہ السلام سے اظہار محبت اور آپ علیہ السلام کو خوش کرنے کا سبب ہے یا نہیں؟ چنانچہ علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "عن ابن النعمان رحمه الرحمٰن: أنه قال رایت فی المنام حضرۃ النبی صلی الله عليه وسلم فقبلت يديه الشریفتین وقلت له الی این ذاهب یا رسول الله یا قرةَ العینین؟ فقال: الی فلان أزوره فقلت له اعلانا حبیبی ومثلک من یزور فلانا ! فقال لی فی البیان تادب یا ابن النعمان أن هذا الرجل صنع لنا مولدا فقلت یا شفیع العصاة فی عرصات القیامة روحی لک الفداء ، المولد الذی یصنع لک تفرح به تسرّ بسببه قال یا ابن النعمان: من فرح بنا فرحنا به” ترجمہ: حضرت ابن نعمان رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ انہوں نے خواب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کی، آپ ﷺ کہیں تشریف لے جارہے تھے، ابن نعمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیارے پیارے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور عرض کیا: یارسول ﷺ کہاں تشریف لے جارہے ہیں ؟ فرمایا: فلاں شخص سے ملنے جارہا ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ آپ سی بلند رتبہ شخصیت فلاں سے ملنے جا رہی ہے یعنی چاہئے تو یہ کہ وہ آپ سے ملنے حاضر ہو ؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جلال بھرے انداز میں فرمایا: اے ابن نعمان! ادب کرو! وہ شخص ہمارا میلاد مناتا ہے۔ یہ سن کر ابن نعمان رحمۃ اللہ علیہ کچھ سنبھلے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پھر عرض کیا: اے روزِ قیامت شفاعت فرمانے والے آقا ﷺ میری جان آپ پر فدا ہو آپ اس سے اس کے میلاد منانے کے سبب بہت خوش ہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے ابن نعمان! جو ہم سے خوش ہوتا ہے ہم بھی اس سے خوش ہوتے ہیں ۔”حصول الفرج لابن جوزی، صفحة 22، المطبعة الکبری الامیرية، مصر” سبحان اللہ! ماننے والوں کیلئے یہ دلیل بہت بڑی ہے کہ مروجہ میلاد سے حضور علیہ السلام خوش ہوتے ہیں۔ اتنے مستند عالم دین کے حوالے کے باوجود بھی اگر دیو بندی وہابی پھر بھی میلاد کو ناجائز و بدعت کہیں تو یہ انکی محرومی ہے۔ باقی وہابی دیو بندیوں کا یہ کہنا کہ "جو کام دین میں نیا ہو وہ بدعت ہے "یہ بھی درست نہیں کہ دینی کئی کام نئے رائج ہیں جس کو دیو بندی وہابی بھی کرتے ہیں اور اسکے باجود اسکو مستحب کہتے ہیں کہ ان میں نیک اعمال ہی ہوتے ہیں جیسے دینی اجتماعات، ختم نبوت کی ریلیاں و جلوس وغیرہ۔ دین میں بدعت وہ ناجائز و گناہ ہے جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہو جیسے میوزک والی نعتیں، قوالیاں، ننگے سر نماز پڑھنے کو سنت سمجھنا وغیرہ۔ یونہی باطل نظریات جو قرآن و سنت کے مخالف ہیں جو کام اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو وہ بُری بدعت نہیں بلکہ بدعت حسنہ یعنی اچھی بدعت ہے اور اس کی صراحت علمائے اسلاف سے ہے جن کو وہابی بھی مانتے ہیں۔
وہابی دیو بندیوں کا امام ابن تیمیہ سالِ وفات: 728ھ بدعتِ شرعی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے:” والبدعة ما خالفت الکتاب والسنة أو اجماع سلف الأمّة من الاعتقادات والعبادات کأقوال الخوارج والروافض والقدرية والجهمية ” ترجمہ: بدعت سے مراد ایسا کام ہے جو اعتقادات و عبادات میں کتاب و سنت اور سابقہ علمی ہستیوں کے اِجماع کی مخالفت کرے جیسے خوارج، روافض، قدریۃ اور جہمیۃ کے عقائد۔ "مجموع الفتاوى، جلد 18، صفحة 346، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، السعودية”
امام جلال الدین سیوطی، امام بیہقی، ملا علی قاری رحمہم اللہ اور وہابیوں کا پیشوا شوکانی حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں: "المحدثات من الامور ضربان: احدهما ما احدث مما یخالف کتاباً اوسنة اواثراً اواجماعاً فهذه البدعة ضالة والثانی ما احدث من الخیر ولاخلاف فيه لواحد هذه وهي غیر مذمومة” ترجمہ: نو پیدا باتیں دو قسم کی ہیں، ایک وہ ہیں کہ قرآن یا احادیث یا آثار و اجماع کے خلاف نکالی جائیں یہ تو گمراہ کن بدعت ہے۔ دوسری وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اور اس میں ان چیزوں کا خلاف نہ ہو تو وہ بری نہیں۔ "القول المفید فی أدلة الاجتهاد والتقلید، جلد 1،صفحة 79، دار القلم، الکویت” امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کیمیائے سعادت میں ارشاد فرماتے ہیں:” ایں ہمہ گرچہ بدعت ست و از صحابہ و تابعین نقل نہ کردہ اند لیکن نہ ہرچہ بدعت بودنہ شاید کہ بسیاری بدعت نیکو باشد پس بدعت مذموم آں بود کہ بر مخالفت سنّت بود” ترجمہ: یہ سب امور اگرچہ نوپید ہیں اور صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے منقول نہیں ہیں مگر ایسا بھی نہیں، ہر نئی بات نا جائز ہو کیونکہ بہت ساری نئی باتیں اچھی ہیں۔ مذموم بدعت وہ ہوگی جو سنت رسول کے مخالف ہو۔ "کیمیائے سعادت، رکن دوم، اصل ہشتم، باب دوم، صفحہ 388,389، انتشارات گنجینہ، ایران” امام علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں: "والبدعة ان کانت مماتندرج تحت مستحسن فی الشرع فهي حسنة وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرع فهي مستقبحة الا فهي من قسم المباح” ترجمہ: بدعت اگر کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے تو وہ اچھی بات ہے اور اگر کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی برائی شرع سے ثابت ہے تو وہ بری ہے اور جو دونوں میں سے کسی کے نیچے داخل نہ ہو تو وہ قسم مباح سے ہے۔ "فتح الباری،کتاب التراویح،باب فضل من قام رمضان، جلد 4، صفحة 253، دارالمعرفة، بیروت” مرقاۃ شریف میں ہے:” احداث ما لاینازع الکتاب والسنة کما سنقرره بعد لیس بمذموم "ترجمہ: ایسا فعل ایجاد کرنا جو کتاب و سنت کے مخالف نہ ہو، برا نہیں، جیسا کہ ہم آگے ثابت کریں گے۔”مرقاة شرح مشکوٰة ،کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، جلد 1،صفحة 222، دار الفکر، بیروت” پھر مروجہ میلاد شریف کے متعلق مستند علمائے کرام نے واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے چنانچہ امام نور الدين حلبی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْه امام ابن حجر ہیتمی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ کے حوالے سے "إنسان العيون” میں لکھتے ہیں:
"وقد قال ابن حجر الهيتمي: والحاصل أن البدعة الحسنة متفق على ندبها، وعمل المولد واجتماع الناس له كذلك أي بدعة حسنة” ترجمہ: ابن حجر ہیتمی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهنے فرمایا: خلاصہ کلام یہ ہے کہ بدعت حسنہ کے مستحب ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ میلاد شریف کرنا اور اس کیلئے لوگوں کا اجتماع بھی بدعتِ حسنہ ہی ہے۔ "إنسان العيون، باب تسميته صلى الله عليه وسلم محمدا وأحمد، جلد 1، صفحة 123، دار الكتب العلمية، بيروت” والله اعلم عزّوجلّ ورسوله اعلم صلى الله عليه وآله وسلم۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You