راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی راجہ فیصل رشید نے سابق رکن

راولپنڈی (افتخار خٹک)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی راجہ فیصل رشید نے سابق رکن صوبائی اسمبلی و تحریک انصاف کے سابق رہنما چوہدری عدنا ن قتل کیس میں نامزد مسلم لیگی رہنما سینیٹر چوہدری تنویر کے 2 بیٹوں اور بھائی کی ضمانتوں کی منسوخی کے لئے دائر درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کردی ہے عدالت نے چوہدری تنویر کے چھوٹے بیٹے اسامہ چوہدری کی جانب سے بیرون ملک روانگی کی وجہ سے 1 ماہ کی استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کر لی ہے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا ضمانت منسوخی کی درخواست پر دلائل دیں گے مقدمہ کے مدعی چوہدری ندیم اقبال نے ضمانت منسوخی کی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تینوں ملزمان کی عبوری ضمانتیں کنفرم کردیں عجلت میں کئے گئے اس فیصلے میں نہ تو ایف آئی آر کی نوعیت کو مدنظر رکھا گیا نہ ہی مقدمہ کے موجود شواہد اور گرفتار ملزم کے بیان کا جائزہ لیا گیا اس طرح ملزمان کو غیر ضروری اور بلاجواز ریلیف دے کر ان کی عبوری ضمانتیں کنفرم کر دی گئیں درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کر کے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں یاد رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی رانا سہیل نے گزشتہ ماہ 6 جون کو چوہدری تنویر کے بیٹوں رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری اور اسامہ چوہدری کے علاوہ ان کے بھائی چوہدری چنگیز کی عبوری ضمانتیں کنفرم کر دی تھیں یاد رہے کہ تھانہ سول لائنز پولیس نے سابق رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان کے قتل میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر ان کے چوہدری دانیال، اسامہ تنویر اور بھائی چوہدری چنگیز سمیت 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا یہ مقدمہ مقتول چوہدری عدنان کے برادر نسبتی چوہدری ندیم اقبال کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے تعزیرات پاکستان کی دفعات302/34، 109 اور 201کے تحت درج مقدمہ نمبر 253کے مطابق چوہدری عدنان اپنی اسلام آباد نمبر کی پراڈو گاڑی نمبر سی جے100کو خود ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ پچھلی سیٹ پر فضل ربی اور چوہدری ظہیر خان کے علاوہ پچھلی لینڈ کروزر نمبر ایس ٹی سی 4677 پر زاہد حفیظ اور احتشام سخاوت بھی موجود تھے عسکری 13 میں ہاؤسنگ کے دفتر سے واپسی پر جناح پارک کے قریب اشارے پر شلوار قمیص میں ملبوس 2 نامعلوم افراد نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب سے چوہدری عدنان پر اس وقت اندھادھند فائرنگ کر دی جب گاڑی اشارے پر رکی ہوئی تھی جس سے گولیاں مقتول کے چہرے اور سینے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر لگیں جبکہ حملہ آور سڑک کے دوسری جانب موجود موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے مقدمہ کے متن کے مطابق مقتول کی سیاسی معاملات اور سرکاری زمین واگزار کرانے پرچوہدری تنویر، چوہدری چنگیز خان، دانیال چوہدری اور اسامہ تنویر سے رنجش کے علاوہ کاروباری معاملات میں لقمان کامل سے زمین کی خریدوفروخت کے مقدمات چل رہے ہیں جس پر چوہدری عدنان اکثر کہتا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے جان کا خطرہ ہے اور مجھے کچھ ہوا تو یہ افراد ذمہ دار ہوں گے رواں سال 12 فروری کی رات تھانہ سول لائن کے علاقے پولیس لائنز کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے عدنان چوہدری جان کی بازی ہارگئے تھے۔




