خوشحالی اور معاشی تحفظ کے لئے اقتصادی اور تجارتی رابطے ناگزیر ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی

*خوشحالی اور معاشی تحفظ کے لئے اقتصادی اور تجارتی رابطے ناگزیر ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی*
*پاکستان نے ہمیشہ علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔سابق سفیر نجم الدین شیخ*
کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ خوشحالی اور معاشی تحفظ کیلئے اقتصادی اور تجارتی رابطے ناگزیر ہیں، افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے ہمارے اقدامات عملی کے بجائے محض نمائشی تھے اور ہم قابل عمل ترسیل کی صلاحیت کو تیار کرنے میں ناکام رہے تھے اگر عوامی جمہوریہ چین اور تائیوان سنگین سیاسی اور علاقائی اختلافات کے باوجود تجارتی تبادلے کو بڑھا سکتے ہیں، تو جنوبی ایشیا کی ریاستوں میں اس پالیسی کو کیوں نہیں اپنایا جاسکتا؟ انہوں نے مستقل مزاجی اور عملی اقدامات پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایریا اسٹڈی سینٹر فار یورپ جامعہ کراچی اور رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیر اہتمام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں منعقدہ قومی کانفرنس بعنوان:”جنوبی ایشیاء میں ڈائیلاگ کے ذریعے علاقائی روابط اور مستقبل کے امکانات: عالمی اور تزویراتی تناظر میں“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سابق
سفیر نجم الدین شیخ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں مودی حکومت کو پہنچنے والے انتخابی دھچکے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر ریڈکلف لائن پر کام مکمل کرلیا جاتا، تو ڈیورنڈ لائن کی صورتحال بھی آج جیسی نہ ہوتی۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ طالبان نے افغان سیاست کی کثیر النسل نوعیت کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ تاحال تحریک طالبان پاکستان کے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ نہیں کر رہے۔ نجم الدین شیخ نے مزید کہا کہ ڈپلومیٹک عملہ پس پردہ علاقائی امن اور بھائی چارے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہتا ہے جسکا اکثریت کو علم ہی نہیں ہوتا۔ ڈائریکٹر ایریا اسٹڈی سینٹر فار یورپ جامعہ کراچی ڈاکٹر عظمیٰ شجاعت نے کہا کہ سیاسی دشمنیوں نے جنوبی ایشیا کو دنیا کا سب سے کم مربوط خطہ بنادیا ہے، ہمارے اردگرد بڑے پیمانے پر جغرافیائی، سیاسی تبدیلیوں اور ایشیائی براعظم کے عروج کے دور میں بھی ہمارا خطہ حیران کن طور پر تجارتی انضمام میں بہت پیچھے ہے۔ سابق سفیر محمد خلیل اللہ نے علاقائی روابط اور اسکی افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کا مرکز ہے۔ حبیب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اسدالرحمن نے جنوبی ایشیاء کے معاشی انضمام کی راہ میں درپیش چیلنجز پر مقالہ پیش کیا۔ رابطہ فورم انٹرنیشنل کے ہیڈ آف ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سید سمیع اللہ نے کہا کہ محفوظ جوہری ترقی کو یقینی بنانے کیلئے گورننس فریم ورک کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جناب سمیع اللہ نے کہا کہ پاکستان کی جوہری توانائی کا انتظام کافی موثر رہا ہے کیونکہ ملک کو کبھی چرنوبل اور فوکوشیما جیسے حادثات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ زیبسٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سیدہ فضا بتول نے کہا کہ اسلام آباد کے واشنگٹن کیساتھ قریبی تعلقات نے ایران کیساتھ تعلقات کو پیچیدہ بنادیا ہے۔ پاکستان کو چھوٹے علاقائی گروپوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کی تجارت، اور ثقافتی تبادلوں کو تلاش کرنا چاہئے، جو کہ بہت زیادہ وسیع اقتصادی اور سیاسی تعاون کیلئے تعمیراتی بلاک کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔




