سندھ : یہ کوئی چور ڈاکو یآ منشیات فروش نہیں بلکہ سندھ کے استاد صاحبان ہیں جو اپنے حقوق کے لیے احتجاج

سندھ : یہ کوئی چور ڈاکو یآ منشیات فروش نہیں بلکہ سندھ کے استاد صاحبان ہیں جو اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے کراچی آئے تھے
احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے جو آئین پاکستان میں بھی واضع ہے جہاں دوسرے ممالک میں استاد صاحبان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہاں ہمارے ملک میں ہمارے سندھ میں ان کو ہر سال تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیا یہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں کیا یہ آج جو حکمران ہیں بیوروکریٹ ہیں جج صاحبان ہیں آرمی میں ہیں پولیس میں ہیں یہ بغیر تعلیم کے ان پوزیشنز پر آگئے ہیں کیا یہ ان استاد صاحبان سے تعلیم لیے بغیر ہی اس منزل پر پہنچ گئے ہیں ؟ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے پوری دنیا میں احتجاج کا حق ہر شخص کو حاصل ہوتا ہے تو یہاں یہ ڈکٹیٹر شپ کیوں ہے انہی استادوں سے گھر شماری آدمشماری پولیو کے قطرے پلانے کچھ سے الیکشن میں ٹھپے لگوانے کا کام بھی کروایا جاتا ہے جو استعمال نہیں ہوتا ان سے انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں یہ کیسا قانون ہے یہ کیسا انصاف ہے جو ان استادوں کے ساتھ بھی بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔۔ شیم شیم



