پنجاب

راولپنڈی : وزہراعلی کے پی کے علی امین گنڈاپور کے خلاف 12 مقدمات میں ضمانت کی دائر درخواستوں

راولپنڈی : وزہراعلی کے پی کے علی امین گنڈاپور کے خلاف 12 مقدمات میں ضمانت کی دائر درخواستوں پرسپیشل پراسیکوٹر اوروکیل صفائی کے مابین دلائل کے بعد11 مقدمات میں ضمانت مظور کر لی گئی جبکہ تھانہ سول لائنز کے مقدمے کے پراسیکیوٹر کی عدم۔موجودگی کے باعث سماعت کل صبح تک ملتوی کردی گئی۔۔

وزیر اعلی کے پی کے علی امین گنڈاپور کی سانحہ نو مئی کے گیارہ۔مقدمات میں ضمانت منظور کر لی گئی علی امین گنڈا پور سہہ پہر چار بجے کے قریب پروٹول میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے جہاں تھانی آر اے بازار میں درج جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس کے اسپیشل پراسیکیوٹر اکرام امین مہناس نے دلائل میں کہا کہ علی امین گنڈاپور نے شواہد عدالت سے چھپائےہمیں 17 جنوری 2024 کو نقول کی کاپیاں فراہم کی گئیں واثق قیوم عباسی اور عمر تنویر بٹ نے عدالت کے سامنے 164 بیان ریکارڈکرائے،اسپیشل پراسیکیوٹر نے اس موقع پر عدالت میں سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی اور عمر تنویر کے 164 کے بیان پڑھ کر سنائے پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل۔میں کہا کہ دفعہ
164 کے بیانات کے خلاف اب تک کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ *جب سانپ کا زہر نکال دیا جائے تو اس کو مارنے کی ضرورت نہیں رہتی،* اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے 164 کے اعترافی بیان کو نہیں جھٹلایا،علی امین گنڈاپور اگر بے گناہ تھے تو اتناوقت روپوش کیوں رہے، *اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کے لیے کیس میں کچھ تو رہنے دیں،* جس پر *عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن اپنی ڈیوٹی کرے نہ کہ عدالت سے ایسی استدعا کرے* ، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ *کیا 164 کا بیان پرا سیکیوشن کا کیس ہے،؟؟*جس پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ *ملزم عدالت سے کہہ رہا ہے کہ مجھےضمانت دی جائے اور یہ بھی لکھیں میں سچا اور پراسیکیوشن کا کیس جھوٹا ہے،* *164 کے اعترافی بیان میں درج ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے پریڈ گراونڈ جلسے سے ریاست مخالف بیانیہ بنایا،* اسپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ *ریاست مخالف بیانیے کا آغاز پشاور اسلام آباد لانگ مارچ کے دوران کیا گیا،* *عدالت نے سوال کیا کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف دو بیانات میں فرق ہے، اگر 164 کے بیان کے خلاف ملزم کو حق دفاع نہ دیا جائے تو اس کی کیا حیثیت ہے،؟؟*
*164 کے بیان کے لیے مجسٹریٹ کو اختیار ہے اور اس کا طریقہ کار بھی واضح ہے،* اس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ 164 کا بیان دینے والے شخص کو اعترافی بیان پر سزا بھی ہو سکتی ہے ملزم علی امین گنڈا پور کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ
ہم کیس کے میرٹ پر نہیں بلکہ عدالت کے اختیار پر بات کر رہے ہیں،یہ کیس سیاسی انتقامی کاروائیوں کا کیس ہے،بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 12 کیسسز میں ضمانت ہو چکی ہے،
علی امین گنڈاپور ایک صوبے کا وزیراعلی ہے،جو عدالت کے احترام میں سامنے کھڑا ہے، علی امین گنڈاپور کبھی نہیں چھپے، یہ ایک مثالی کیس ہے، عدالت نے پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ تھانہ سول لائنز مقدمے کا پراسیکیوٹر کہاں ہے، کس۔پر پراسیکیوشن نے کہا کہ
وہ سپریم کورٹ میں مصروف تھے یہاں حاضر نہیں ہو سکے،کل صبح تک عدالت مہلت فراہم کرے جس پر عدالت نے قراردیا کہ ہم یہاں صبح 8 بجے سے ان کے انتظار میں بیٹھے ہیں،پراسیکیوشن کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ سے یہ ہی دلائل رہے ہیں،کل صبح 8 بجے تک کا وقت دے رہے ہیں،کل پیش نہ ہوئے تو عدالت فیصلہ سنا دے گی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے سماعت کل تک ملتوی کردی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You