ممتاز اسکالر ڈاکٹر جمیل جالبی کو اہل علم کا شاندار خراج عقیدت
*ممتاز اسکالر ڈاکٹر جمیل جالبی کو اہل علم کا شاندار خراج عقیدت*
*گورنمنٹ کالج برائے تعلیم، کے زیراہتمام اور اردو سندھی ادبی سنگت اساس کے تعاون سے تقریب بسلسلۀِ یومِ کتاب اور مذاکرہ بیادٍ*
*کتاب دوستی اور مطالعہِ کُتب کی اہمیت پر زور، ڈاکٹر جمیل جالبی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) گزشتہ روز گورنمنٹ کالج برائے تعلیم، کے زیراہتمام اور اردو سندھی ادبی سنگت اساس کے تعاون سے ایجوکیشن کالج فیڈرل بی ایریا میں کیا گیا۔ تقریب بسلسلۀِ یومِ کتاب اور مذاکرہ بیادٍ منعقد ھوا جس میں صدارت کے فرائض ڈاکٹر پروفیسر معین الدین عقیل، مہمان خصوصی اکرم کنجاہی، مہمان اعزازی ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی، مہمان مقرر پروفیسر عرفان شاہ اور بانی و چئیر پرسن اساس گلناز محمود اور دیگر مقررین نے نہ صرف کتاب دوستی اور مطالعہِ کُتب پر زور دیا بلکہ اس ضِمن میں رائے عامہ ہموار کرنے کا اعادہ بھی کیا جس میں بتایا کہ سینئر ماہر تعلیم اور سائنسی محقق پروفیسر ڈاکٹر نوید رب صدیقی نے کراچی کے معروف اور قدیم تدریسی کالج کو اپنی انتظامی صلاحیتوں سے مختصر عرصے میں ایک منفرد مقام پر پہنچا دیا ہے۔ علمی سرگرمیوں کے فروغ کا آغاز کرتے ہوئے پرنسپل کالج نے کتاب کے عالمی دن کی مناسبت سے سابق شیخ الجامعہ ڈاکٹر جمیل جالبی کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس مثبت اقدام کو عملی صورت دینے میں کالج اساتذہ اور طلباء و طالبات نے اپنی بھرپور صلاحیتوں سے حصہ لیا۔ تقریب سے پروفیسر نوید رب صدیقی اور محترمہ گلناز محمود نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر عرفان شاہ، معتمد بزم اساتذہ اردو، سندھ کالجز، نے کہا خاموش انقلاب کتاب سے آتا ھے۔ کتاب سے رشتہ ٹوٹ جائے تو روح آلودہ ھوجاتی ھے۔ ذہن کی ورزش اور پاکیزگی کیلئے کتاب کا مطالعہ ضروری ھے۔ ڈاکٹر پروفیسر رئیس احمد صمدانی نے کہا تئیس اپریل کو یوم کتاب اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ھے یہ مشہور انگریز شاعر ولیم شیکسپیئر کا یوم وفات ھے۔ اس کا آغاز فرانس سے ھوا پہلے مرد حضرات خواتین کو پھول پیش کرتے تھے بعد میں خواتیں نے تحفے میں کتاب دینا شروع کی۔ اپ نے اس موقع پر حسرت موہانی بابائے اردو مولوی عبد الحق حکیم محمد سعید مشفق خواجہ خالد اسحاق کے نام لئے جن کے ذاتی کتب خانے آج پبلک کے لئے عام ہیں۔ اکرم کنجاہی نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی تنقیدی، تدوینی، تحقیقی خدمات بیان کرتے ہوۓ کہا کہ آپ نے حسن شوقی نصرتی کے کام کو جمع کیا اور شائع کیا۔ اسکے علاوہ آپ نے مثنوی کدم راؤ پدم راؤ شائع کی آپ نے میراجی ن م راشد پر کام کیا۔ اپ نے میر تقی میر جرات پر بھی کام کیا۔ ایجوکیشن کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نوید رب صدیقی نے ڈاکٹر جمیل جالبی کی بطور وائس چانسلر، نگراں، اردو لغت بورڈ اور سربراہ مقتدرہ قومی زبان، کامیابیوں اور تعلیمی و علمی خدمات کا تفصیلی محاکمہ کرتے ہوئے مرحوم کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر پروفیسر معین الدین عقیل نے کہا کتاب سے شوق و ذوق والدیں پیدا کرتے ہیں۔ اُن میں یہ اٌنکے والدین کی تربیت نے پروان چڑھایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اُنکے ہاں بچوں کی لائبریری تھی اور پھر اٌسی شوق کی بدولت ایک اچھا کتب خانہ بھی تیار ہوگیا۔ آپ نے نشاندہی کہ انہوں نے ڈاکٹر جمیل جالبی سے بہت سیکھا کہ وہ ایک ماہر لسانیات محقق مترجم مرتب مدیر تھے۔ انکی خدمات اردو ادب میں ہمیشہ یاد رہیں گی۔ صاحب صدر نے اساس اور ایجوکیشن کالج کو مبارکباد دی جنہوں نے عمدہ پروگرام ترتیب دیا۔ کامیاب تقریب کی منتظم اور اساس کی بانی، چیئرپرسن محترمہ گلناز محمود نے جملہ مہمانان، مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کالج پرنسپل ڈاکٹر نوید رب صدیقی صاحب کو تقریب کے شاندار انتظامات پر خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر اساس کے صدر میر حسین علی امام نے اپنی کتب کالج کی لائبریری کیلئے پرنسپل کو پیش کیں۔ پرنسپل کی جانب سے مہمانوں کو پھول بھی پیش کئے گئے۔ تقریب میں سرسید یونیورسٹی کے پروفیسر سراج خلجی، معروف ادیب عثمان دموہی، گفتگو کے جناب طلعت قریشی، ممتاز شاعر صفدر علی انشاء اور ایجوکیشن کالج کے اساتذہ اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔




