سندھ

عنوان : نظم و ضبط کا نشان اور خدمت کا علمبردار

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان : نظم و ضبط کا نشان اور خدمت کا علمبردار۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

پاکستان چند ایک مسلم ممالک میں واحد ملک ھے جہاں سیاست اور سیاسی حکمرانوں میں مورثی نظام گویا حق سمجھتے ھوئے قائم رکھا جاتا ھے لیکن اسی ملک پاکستان میں صرف اور صرف ایک دینی سیاسی جماعت ایسی ھے جہاں غیر جانبداری انصاف کیساتھ انٹرنل تنظیمی سطح پر انتخابات ھوتے ھیں اس جماعت میں عہدے نہیں بلکہ ذمہ داریاں عائد کی جاتی ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ اس سیاسی جماعت میں کمال درجہ بہترین نظم و ضبط پایا جاتا ھے یہ درست ھے کہ میں تنقید برائے اصلاح کے تحت ہر ایک پر نظر رکھتا ھوں لیکن انکی خوبیوں اور اچھی صلاحیت کو اجاگر کرنے میں قطعی کنجوسی سے کام نہیں لیتا حالیہ دنوں میں کراچی کے ایک ہونہار قابل محنتی مخلص دیانتدار ایماندار بیٹے کو اسکی سیاسی جماعت کا امیر ھونے کا شرف حاصل ھوا یہ شرف کسی سونے کی طشتری میں نہیں دیا گیا بلکہ انکی بہترین لیڈرانہ صلاحیت کے بل بوتے پر انٹرنل انتخابات کے نتیجے میں ملک بھر کے ممبران کی ووٹنگ سے حاصل ھوا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!!
جماعت اسلامی پر لاکھ ہم تنقید کریں، فقرے کسیں، جماعتیوں کا مذاق اڑائیں، جمعیت کی وجہ سے انہیں مطعون کریں، جو مرضی مخالفت ہو، مگر ماننا پڑے گا کہ یہ ملک کی واحد حقیقی جمہوری پارٹی ہے۔ جس کے ہمیشہ فیئر اینڈ فری باقاعدہ شفاف انتخابات ہوتے ہیں۔ جس میں موروثی سیاست نہیں، کسی بھی امیر جماعت کی اولاد، حتیٰ کہ بانی جماعت کی اولاد کو کوئی ترجیح نہیں دی جاتی، وہ عام کارکنوں کی طرح ہی ہیں۔ جس میں پارٹی کے کارکن اپنے امیر جماعت کو منتخب کرتے ہیں۔ یہی اراکین ایک مرکزی شوریٰ کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔ مرکزی منتخب شوریٰ اس وقت چل رہی ہے، اس کے پاس شائد سال ڈیڈھ سال کا وقت ابھی باقی ہے۔ ویسے شائد واحد سیاسی جماعت ہے جس کی مرکزی شوریٰ یعنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں دس فیصد سے زیادہ منتخب خواتین موجود ہیں۔ واحد سیاسی جماعت ہے جہاں امیر کی تبدیلی پرامن طریقے سے ہوتی ہے۔ پرانے امیر کے لبوں پر مسکراہٹ جبکہ آنے والے نئے امیر کی آنکھوں میں آنسو اور ذمہ داری کے بوجھ سے اس کے کاندھے جھکے ہوتے ہیں۔ یہ حقیقی معنوں میں نایاب اور نظر نہ آنے والے مناظر ہیں جو صرف جماعت اسلامی میں امیر کی تبدیلی کے موقعہ پر ہی نظر آتے ہیں۔ جب قاضی حسین احمد رخصت ہوئے اور سید منور حسن آئے تب بھی یہی تھا۔ سید منور حسن کی رخصتی اور سراج الحق کی آمد پر بھی ایسا ہی منظر تھا اور اب سراج الحق کی رخصت اور حافظ نعیم احمد کی آمد پر بھی پھر وہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سو انسپائرنگ۔ تو میرے معزز قارئین جماعت اسلامی میں امیر جماعت کی تبدیلی عمل میں آچکی ہے۔ سراج الحق رخصت ہوگئے ہیں لیکن وہ بدستور جماعت میں ایکٹو رہیں گے، مگر اپنے نئے کردار میں۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے امیر جماعت کا حلف اٹھا لیا ھے۔ ان کا خطاب بھی دلچسپ تھا۔
عنقریب مرکزی شوریٰ کا اجلاس شروع ہوگا۔ اسی میں امیر جماعت کی نئی ٹیم سامنے آئے گی۔ مرکزی سیکرٹری جنرل یعنی قیم، سات نائب امرا ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور دیگر مرکزی عہدے دار وغیرہ۔ اس ٹیم کو دیکھ کر ہی حافظ صاحب کی ترجیحات کا اندازہ ہوپائے گا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں کراچی یونین آف جرنلسٹ دستور اور کراچی پریس کلب کا ممبر ھوں اور کلب میں الیکشن کے دنوں میں دی ڈیموکریٹس کا سرگرم کارکن ھونے کے باعث اپنی خدمات پیش کرتا رہتا ھوں الحمدللہ چودہ سالوں سے کراچی کلب کے ممبران کا اعتماد اور یقین ساتھ رھا ھے یہی سبب ھے کہ ہر سال اللہ کی مہربانی اور ممبران کے اعتماد کیساتھ بھاری ووٹس سے کامیابی ملتی رہی ھے یاد رھے کہ کے یو جے دستور اور دی ڈیموکریٹس کی نظم و ضبط بھی انہی بہترین ہاتھوں میں ھے جو مورثی سیاست اور مورثی خدمات کو پسند نہیں کرتے جہاں خدمت دیانتداری ایمانداری کو اپنا نصب العین سمجھا جاتا ھے آج کے یو جے دستور ھو یا کے پی سی دنیا بھر میں صحافی برادری کے میدان میں امتیازی حیثیت رکھتا ھے انکی مخلصانہ دیانتدارانہ خدمات کے سبب سندھ گورنمنٹ سمیت لوکل گورنمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں میں اچھی نظر اور اچھے نام سے پہچانا اور سمجھا جاتا ھے یہ سب کے یو جے دستور اور کے پی سی کے دی ڈیموکریٹس کی کاوشوں کا نتیجہ ھے۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You