پنجاب

چکوال میں اس سے پہلے کون سے کام ہوئے کون سے نہیں ہوئے یہ ایک الگ بحث ہے بہر حال اس میں

"چمکتا چاند”

تحریر ۔۔۔۔ڈاکٹر زاہد عباس چوہدری

چکوال میں اس سے پہلے کون سے کام ہوئے کون سے نہیں ہوئے یہ ایک الگ بحث ہے بہر حال اس میں دوسری کوئی رائے نہیں کہ چوہدری لیاقت علی خان مرحوم کی پوری زندگی کی سیاسی جد و جہد عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہی تھی ان کے دل میں عوام کا درد محسوس کیا اس حوالے سے میں ماضی میں بھی لکھ چکا ہوں اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ، چوہدری لیاقت علی خان مرحوم اپنے سیاسی ورثاء میں دو ہیرے چھوڑ گئے ہیں جن میں سے ایک چوہدری سلطان حیدر علی خان ہیں اور دوسرے چوہدری سلطان شہریار،
چوہدری سلطان حیدر علی خان اپنے والد محترم کی وفات کے بعد عملی طور پر سیاست میں وارد ہوئے تو عوام نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور انہیں ضمنی انتخاب میں چکوال سے ایم پی اے بنا دیا اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے چند اختتامی مہینوں کی مہمان تھی اس کے باوجود چوہدری سلطان حیدر علی خان نے نہ صرف بہت سی سڑکیں بنوائیں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کروایا بلکہ عوام کے ساتھ بھرپور رابطے میں رہے ، اس کے بعد جو قومی و صوبائی الیکشن ہوئے وہ فیض عام والے تھے اور ان میں بے فیض لوگ فیضیاب ہوئے جس کی مثال ذوالفقار دلہہ ، یاسر سرفراز وغیرہ ہیں جن کے بارے میں کچھ لکھنا مجھے فضول ہی لگ رہا ہے ۔

چوہدری شہر یار سلطان ابھی باقاعدہ طور پر کسی سیٹ کے امیدوار نہیں بنے مگر انہوں نے بھی عملی سیاست میں کافی عرصہ سے قدم رکھ دیا ہے اور ان کے ہر عمل سے بھی خاندانی سیاسی بصیرت اور عملی سیاسی پختگی دیکھنے کو مل رہی ہے آگے چل کر چوہدری سلطان شہر یار بھی چکوال کے لیے باعث فخر ثابت ہوں گے ،
قاسم سلطان، اسی خاندان کا چشم و چراغ ایک نیا ہیرا جسے میں ابھی تراش خراش کے مرحلے میں سمجھ رہا تھا جو کہ شائد میری غلطی تھی حالیہ الیکشن میں اس نوجوان کی گفتگو اور جلسوں میں تقاریر سننے کے بعد یہ بات سمجھ آئی کہ یہ خاندان اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا نہ صرف جانتا ہے بلکہ عوام سے قریبی روابط کو بحال رکھنا اور تعلقات کی نوعیت کو بھی پوری طرح سمجھتا ہے چونکہ چوہدری قاسم سلطان کی گفتگو بھی انتہائی پختہ سیاستدانوں کی طرح ہی تھی، اس لیے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ کسی بھی سیاسی خاندان کے اندر اتنی باہمی کوارڈینیشن اور ایک دوسرے کی بات کا مکمل طور پر بھرم رکھنا دیکھنے کو ناپید ملا ہے، اس لیے میں اس کے بعد چکوال کی سیاست میں اس خاندان کو نا قابل شکست سمجھتا ہوں! اور ان شاءاللہ چوہدری قاسم سلطان بھی آنے والے وقت میں عوام کے لیے ایک امید کی کرن ثابت ہوں گے ، جانے ہم ہوں گے کہ نہیں ہونگے مگر یہ ہوگا!

اپنے کالم کے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں چوہدری سلطان محمد حیدر علی خان نے کبھی تھانے کچہری کی سیاست نہیں کی میں نے خود بارہا یہی سنا کہ انہوں نے جسے بھی کہا میرٹ کرنے کو کہا اور حال ہی میں چوہدری سجاد سابق چیئرمین بلدیہ کی طرف سے دیا گیا ویڈیو بیان جو کہ چوہدری سلطان حیدر علی خان کے مؤقف کے طور پر تھا میرٹ کی ایک واضح مثال ہے ہسپتال روڈ کے معاملات میں انہوں نے انتظامیہ کو میرٹ پہ فیصلہ کرنے کا کہہ کر ثابت کر دیا کے وہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتے ہیں ، چوہدری سلطان حیدر علی خان اس وقت چکوال کے لیے ایک چمکتے ہوئے چاند کی طرح ہیں اور چاند بے فیض نہیں ہوتا اس کی ٹھنڈی روشنی ہر لحاظ سے مفید ہے ، اگر کوئی یہ کہے گا چاند کو بھی گرہن لگ جاتا ہے تو میرا جواب یہ ہو گا کہ چاند اپنی جگہ قائم دائم رہتا ہے اور رہے گا ان شاءاللہ تعالیٰ ،چکوال کے لیے میگا پراجیکٹس شروع ہونے جا رہے ہیں جن میں چوہدری سلطان حیدر علی خان کی پہلی ترجیح ایک بڑا ہسپتال کی ہے، ابھی شروعات ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر قیادت پنجاب کی ترقی کے لیے اہم فیصلے کیے جا رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ ان اہم فیصلوں میں چکوال کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا جائے گا، عوام سے رابطوں میں سیاسی بصیرت میں اور بر وقت اہم فیصلے کرنے میں ضلع چکوال میں چوہدری سلطان حیدر علی خان کا کوئی ثانی نہیں اور نہ ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ، آخری لائن ایک دوست کے کے لیے کہ ایسا نہ ہوتا تو مجھے انتقامی طور پر الیکشن نہ لڑنا پڑتا ، میں کہتا ہوں بھائی جان آپ کے پندرہ ووٹ لینے پر بیماری کے با وجود میں نے بھنگڑا ڈالا تھا اور حیرانگی بھی ہوئی تھی کہ خاندان کے چند لوگ نکال کر سات آٹھ ووٹ آپ کو کس پاگل نے دیے ہیں؟

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You