عنوان: حالیہ پاک ایران کشیدگی، تجزیاتی نقطہ نظر سے
*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*
*عنوان: حالیہ پاک ایران کشیدگی، تجزیاتی نقطہ نظر سے ۔۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
اردو میں کہاوت مشہور ہے، ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ۔۔ بعض مبصرین کے خیال میں موجودہ حالات میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔ اگر پاکستان افق پر حالیہ دنوں پر غور و فکر کیا جائے تو اس بات میں کوئی شک موجود نہیں ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے کافی سنجیدہ ہیں۔ خاص طور پر جب سے جنرل سید عاصم منیر نے فوج کی کمان سنبھالی ہے، دہشت گردی کو ختم کرنے کا ارادہ قوی طور پر پایا گیا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی اسی کی ہی ایک کڑی ہے۔ اسی طرح آرمی چیف نے تمام علماء کو دعوت دے کر نہایت کھل کر افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان تحریک طالبان خوارج ہیں اور علماء کو باقاعدہ تنبیہ کی گئ کہ علماء ان کی پشت پناہی سے بعض آجائیں۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن کا حالیہ دورہ افغانستان کو بھی نہایت اہمیت حاصل ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان فوج نے مولانا فضل الرحمن کے زریعے افغانستان کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب سے طالبان کی دہشتگردوں کی پشت پناہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا چونکہ افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی مسلک دیوبند سے تعلق رکھتے ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن کا تعلق بھی مسلک دیو بند سے ہے، اس لئے ان میں آپس میں قرابت پائی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے جید علماء نے بھی پاکستانی ریاست کے خلاف کالعدم ٹی ٹی پی کے جہاد کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ سب وہ اقدامات ہیں جنہیں نہایت ہی واضح طریقہ سے پاکستان کے افق پر دہشتگردی کو ختم کرنے کے حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسے میں ایک طرف اگر پاکستان تحریک طالبان کیخلاف اقدامات ہو رہے ہیں اور بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے متعلق کچھ نہ سوچا جائے تو پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ فقط ایک خواب ہے کیونکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف باقائدہ معصوم پاکستانی شہریوں اور افواج پاکستان کے قتل میں ملوث ہے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایک طرف پاکستانی ریاست افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کو نظر میں رکھے لیکن بلوچستان سے ہونے والی دہشتگردی کو نظر انداز کردے جبکہ ان دہشتگرد تنطیموں کو غیر ملکی امداد حاصل ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ ایک طرف بلوچستان مسنگ پرسن کے حوالے سے اسلام آباد میں حالات گرم ہیں، جہاں پر بلوچستان سے لوگ آکر باقائدہ دھرنہ دے رہے ہیں اور انہیں عوام کی پذیرائی و ہمدردی بھی حاصل ہے لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے بھی رشتہ دار ہوتے ہیں، کل کو وہ آکر دھرنے دیں تو کیا انہیں چھوڑ دیا جائے البتہ اس حوالے سے حکومت کیجانب سے کمیشن بنانے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ ہمیشہ جب کسی گروہ کیخلاف کاروائی کی جاتی ہیں ان میں معصوم افراد بھی بعض اوقات نشانہ بن جاتے ہیں لیکن حکام نے میڈیا پر برملا بتایا ہے کہ ان دھرنہ دینے والوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس بھارت سے چلائے جارہے ہیں اور بھارت انکا ٹرینڈ بنانے میں پیش پیش ہے۔ یہ صورتحال پاکستانی ریاستی اداروں کیلئے نہایت ہی پیچیدہ اور پریشان کن ہے کیونکہ اس بات کے واضح ثبوت دیئے جاسکتے ہیں کہ بھارت بی ایل ایف اور بی ایل اے کے پیچھے ہے، کلبوشن یادو جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ تھا، اسکا بلوچستان سے پکڑے جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے۔بھارتی حاضر سروس نیول افسر، کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مارچ سنہ دو ہزار سولہ میں اس وقت گرفتار کیا جب وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع سراوان علاقے سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ بھارت کی مداخلت نے پاکستان کی قومی سلامتی اور اقتصادی ترقی پر سنگین مضمرات پیدا کئے ہیں۔ مزید برآں یہ بالآخر خطے میں مستقل عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کو حکومت پاکستان کی طرف سے بلوچستان میں باغی گروپوں کو بھارتی سرپرستی کے ڈوزیئر بھی فراہم کیے گئے تھے جن میں دہشتگردانہ سرگرمیوں کی مالی اعانت شامل تھی۔ ایسے میں پاکستان میں بھارتی مداخلت عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے اور پاکستان حالیہ واقعات جو اسلام آباد میں ہورہے ہیں، اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔ عین اسی طرح جیش العدل جنکا تعلق صوبہ بلوچستان و سستان سے ہے، یہ گروہ ایرانی حکومت کی نظر میں ایک دہشتگرد گروہ ہے، اس دہشتگرد گروہ کی لمبی تاریخ ہے اور اس کے معصوم ایرانی شہریوں اور ایرانی افواج کو قتل کرنے کی لمبی داستان ہے۔ ایرانی اینٹیلجنس ایجنسی کے مطابق اس گروہ کے باقائدہ امریکہ و عرب ممالک سے تعلقات ہیں اور جو انکی مدد بھی کرتے ہیں۔ ایران کیمطابق خاص طور پر اس گروہ کے پاکستان اور افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے عہدیداروں سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ ایران میں حملوں کے بعد وائس آف امریکہ اکثر اس گروہ کی وکالت کرتے ہوئے نظر آیا ہے۔ اس بات کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایران جو امریکہ کا دشمن ہے، اگر امریکہ کو کوئی ایسے گروہ مل جائے جو اسکی نیابت میں ایران کے اندر جڑیں کاٹے تو اس سے بہتر اور امریکہ کیلئے کیا ہوسکتا ہے؟ جس طرح بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان میں بلوچستان کے حوالے سے علیحدگی پسند تحریک چلاتے ہیں اور عسکری حملے کرتے ہیں، عین اسی طرح جیش العدل بھی ایران میں بلوچستان و سیستان کے حوالے سے علیحدگی پسند تحریک چلانے اور ایران میں عسکری کاروائیاں کرتے ہیں اور انکے پیچھے بھارت و امریکہ کی سپورٹ و آشیرباد شامل حال ہے کیونکہ پاکستان اور ایران میں انکے علاقے آپس میں ملحق ہیں، اس لئے ایک قوم ہونے کے ناطے جیش العدل اور بی ایل اے؛ بی ایل ایف میں آپس میں بھی رابطے موجود ہیں۔ ایسے میں یہ گروہ پاکستان و ایران دونوں کی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں! یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک دہشتگردی پر قابو پانے اور بارڈر سکیورٹی پر زور دیتے چلے آئے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں اس حوالے سے زیادہ پختہ ارادہ نظر آتا ہے۔ جس دن ایران نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا اس سے ایک دن پہلے افغانستان کیلئے ایرانی سفیر کی پاکستان کی دعوت پر موجودگی پر مبصرین نہایت غور و فکر کررہے ہیں۔ اس دورے کی دعوت خود پاکستان نے دی تھی۔ جس میں کئی معاملات پر بات چیت کی گئی، موجودہ حالات میں یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب پاکستان دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے آمادہ ہے، ایسے میں افغانستان و ایران میں دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے بھارت و غیر ملکی طاقتوں کی شمولیت اور اسکے سدباب کا معاملہ ضرور زیر بحث آیا ہوگا۔ موجودہ حالات میں جہاں ایران دنیا بھر میں امریکہ و اسرائیل کیخلاف سرگرم ہے، ایسے میں پاکستان کو بتائے بغیر پاکستان کیساتھ ایک نیا محاز کھڑا کردے اور اپنے لئے نقصان کو دعوت دے، مبصرین کے خیال میں یہ نا ممکن ہے، بلکہ انکا خیال ہے کہ ان حملوں سے پہلے پاکستان و ایران دونوں کو معلوم تھا اور انہوں نے آپس میں باہمی ہم آہنگی کے بعد یہ اقدامات کئے ہیں لیکن چونکہ پاکستان کی سیاسی و معاشی حالات کچھ اچھے نہیں ہیں اور دوسری طرف امریکہ و یورپ کے نور نظر ٹھہرنے کیلئے یہ اعلان کیا کہ ہم اسکا علم نہیں تھا اور ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایسے میں پوری دنیا میں اسے ایران پاکستان جنگ کہا جارہا ہے اور پوری دنیا کی نگاہیں اس طرف لگ گئی ہیں، گویا امریکی و اسرائیلی خوش ہورہے ہیں کہ ایران اور پاکستان آپس میں لڑ پڑے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے ملکی دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر نشانہ لگایا ہے اور عالمی میڈیا اور عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا ہے کہ گویا ایران و پاکستان کے حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ایسا کرنے سے پاکستان نے عربوں اور یورپ کی ہمدردی کیساتھ ساتھ اپنے ملک سے دہشتگردی کو ختم کرنے کے حوالے راہ ہموار کرلی ہے، یہی عوام جو کل پاکستانی اداروں پر انگلیاں اٹھا رہی تھیں اور بلوچ دہشتگردوں پر کاروائیوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، آج وہ ریاستی اداروں کے گن گارہے ہیں۔ اس طرح ریاستی اداروں نے کمال مہارت سے اپنے لئے حمایت بھی حاصل کر لی، اب یہ معاملہ شائد کچھ عرصہ چلے گا، ایران اور پاکستان دونوں نے بلوچستان سرحد کے قریب فوجوں کو بڑھا دیا ہے اور بارڈر کی کڑی نگرانی اور دہشتگردوں کے حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں، لیکن دنیا کی نظر میں یہ سب پاک ایران کشیدگی کی وجہ سے ہورہا، جبکہ حقیقتا ” یہ امریکہ و بھارت کے حمایت یافتہ گروہوں کو کچلنے کیلئے ہورہا، جو کہ شائد پاکستان میں شائد حقوق انسانی کی تنظیموں کے ہوتے ہوئے اور بلوچ نسل کشی پر سیاست کرنے والوں کے ہوتے ہوئے بہت مشکل ہوتا، لیکن اس طرح پاکستان بھارت کی چالوں پر کاری ضرب لگانے کیلئے آمادہ ہو گیا ہے۔ گویا سانپ بھی مرے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔
اس طرح پاکستان ایران کشیدگی سے بالآخر نقصان امریکہ و بھارت کا ہوگا۔ یاد رھے کہ
پاکستان نے محدود حملہ کیا، بی ایل اے اور بی ایل ایف کے مخصوص کیمپس کو ہدف بنایا ہے. پاسدارانِ انقلاب نے معصوم بچیوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جبکہ پاکستان نے مطلوب دہشتگردوں کو ہدف بنایا، جوکہ معقول جواب ہے، مناسب کاروائی ہے اور پاکستان نے محدود کاروائی کرکے ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے. دونوں ممالک اب بیٹھ کر بات کرلیں، ایران میں پاکستانی حملہ کی وجہ سے مرنے والوں کے وارثان اسلام آباد دھرنا میں موجود ہیں، مہارنگ بلوچ کے اس بیان کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ وہ لوگ جو ایران میں چھپ کر پاکستان کے خلاف مسلح جارحیت کررہے ہیں انکو مسنگ پرسن بنا کر ریاست پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔!!




