خیبرپختون خواہ

شانگلہ میں سیاسی میدان گرم ہیں روز عوام حالات کو دیکھ کر وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں

شانگلہ میں سیاسی میدان گرم ہیں روز عوام حالات کو دیکھ کر وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں

ایک عیر سیاسی سروے کے مطابق این اے گیارہ سے داکٹر عباد اللہ کی پوزیشن مستحکم ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں راجہ خاندان جو کافی عرصہ سیاست سے باہر رہیں اسکیلے دوبارہ جگہ بنانے میں کافی وقت لگے گا تیسرے امیدوار حاجی سید فرین صاحب کی سیاسی ابتدا کی کوئی بنیاد نہیں جہاں بارش ہوں محترم اس کے سات ھوتے ہیں ابھی تو اس کے بہت قریب لوگوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا َصوبای نشت پہ متوکل خان کی چند معلوم ووٹ ہیں اور وہ اس کو ملنا ہیں، دو صوبائی حلقوں سے انجینئر امیرمقام کا الیکشن لڑنا دور اندیشی ہیں اور عوامی رائے کی مطابق اسکا جیت یقینی بھی ہیں، تحصیل بشام سے رشاد خان اور شوکت یوسف زئی کا مقابلہ کانٹہ دار ھوگا ، ریاض خان کو PTI کا ووٹ ملیگا لیکن جیت مشکل ہیں بلا شبہ شوکت یوسف زئی نے شانگلہ میں کافی چندر خرچ کیا لیکن وہ شانگلہ کی سیاست سے ناواقف تھا زیادہ لوفر لفنگوں نے قومی نقصان بھی کیا اور جو خان کے ساتھ دینے والے نظریاتی کارکنوں نے خاموشی اختیار کی کیونکہ قربانی دینے والے ایگ نور ھوگی اور سیاست کی سمجھ بوج نہ رکھنے والوں نے فایدہ اتھایا ، شاید شوکت صاحب کو پھر یہ موقع نہ مل سکے دوسری اھم علطی پارٹی کے ورکرز کو نزر انداز کر کہ پارٹی کے عہدے اپنے گھروں میں تقسیم کیا ایک حاجی سید فرین کے سارا فیملیPTI کے عہدے دار ھیں کیا کوئی اور سیاسی عہدہ سنبھالنے کا قابل نہیں تھا

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You