کالم/مضامین

عنوان: محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا۔۔۔۔!!

کالمکار : جاوید صدیقی

ھم مسلماں ھوکر بھی مسلماں نہ رھے پھر کیونکر ھم خواہش رکھتے ھیں کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کی طرح رحمتیں برکتیں راحتیں اور نور برسے، یقیناً اس بابت ھم سب پاکستانیوں کو سوچنا سمجھنا ھوگا اگر یہی حال رھا اور ھم مسلسل گمراہی، منافقت، ریاکاری، مفادپرستی، دھوکہ دہی، بخل، کینہ، بغض، نفرت، سود، ہوس دولت، ظلم و ستم، بربریت اور دنیا پرستی میں لگے رھیں گے تو ھم نہ ہی انسان بن سکیں گے اور نہ ہی امت محمدی ﷺ، آج جن حالات سے ھم من حیث القوم نبردآزما ہیں یہ ھمارے ہی اعمال کا نتیجہ بھی ہیں۔ وہ اللہ کے بندے جو قربِ خدا سبحان تعالیٰ اور عشقِ رسول ﷺ کی جستجو میں صراط المستقیم پر مکمل کاربند رہتے ھیں انکی زندگی روشن نور کی طرح دنیا بھر میں چمکتی دمکتی رہتی ھے اور بعد موت انکے جسم تو جسم کفن تک میلے نہیں ھوتے۔ نعت گو شاعر ناصر کے اسی حقیقت کو اپنے خوبصورت اشعار میں کچھ اس طرح عیاں کیا۔
زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

محبت کملی والے سے وہ جذبہ ہے سنو لوگو
یہ جس من میں سما جائے وہ من میلا نہیں ہوتا

نبی کے پاک لنگر پر جو پلتے ہیں کبھی ان کی
زباں میلی نہیں ہوتی سخن میلا نہیں ہوتا

میرے آقا کی الفت تو بدن کو جگمگاتی ہے
کبھی اہل محمد کا بدن میلا نہیں ہوتا

گلوں کو چوم لیتے ہیں سحر نم شبنمی قطرے
نبی کی نعت سن لیں تو چمن میلا نہیں ہوتا

جو نام مصطفےٰ چومیں کبھی دکھتی نہیں آنکھیں
پہن لے پیار جو انکا بدن میلا نہیں ہوتا

میں نازاں تو نہیں فن پر مگر ناصر یہ دعویٰ ہے
ثنائے مصطفےٰ کرنے سے فن میلا نہیں ہوتا​

یہ نعت ھمارے بہت ہی پیارے دوست اور بین الاقوامی نعت خواں شہباز قمر فریدی جنکا تعلق حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ کی وادی پاکپتن سے ھے ، شہباز نے بہت ہی خوبصورتی سے یہ کلام پڑھا ھے گویا اس کلام کا حق ادا ہی شہباز قمر فریدی نے کیا ھو۔ نعت گو شاعر ناصر کے اس کلام نے مجھے آپ ﷺ کے ان دو صحابہ کرام کی طرف توجہ مبذول کردی جن کی لحد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی گئی تھی یہ واقعہ سنہ انیس سو بتیس عیسوی کے وقت کا ھے، عراق میں جب دو صحابۂ اکرام رضوان اللّه اجمعین کی قبور مبارک میں پانی داخل ھوا اور ان کے مزارات کو انہی کے حکم سے منتقل کیا گیا تھا۔ عراق کا بادشاہ ملک فیصل اول گہری نیند میں تھا اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہہ رہا تھا۔ ہم رسول اللّه صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے دو صحابی دریائے دجلہ کے کنارے دفن ہیں، دریا کا رخ تبدیل ہورہا ہے، پانی ہماری طرف بڑھ رہا ہے، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں پانی آچکا ہے جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بھی نم ہونے لگی ہے، ہمیں یہاں سے نکال کر دریا کے کنارے سے کچھ فاصلے پر دفن کیا جائے۔ عراق کے بادشاہ نے یہ الفاظ خواب میں سنے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی، دوسری رات پھر یہی الفاظ سنائی دیئے لیکن اس نے اب بھی توجہ نہ دی۔ تیسری رات یہ خواب عراق کے مفتی اعظم "نوری السعید پاشا” کو دکھائی دیا انہوں نے اسی وقت وزیراعظم کو ساتھ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پہنچ گئے جب انہوں نے بادشاہ سے اپنا خواب بیان کیا تو بادشاہ چونکا اور بولا یہ خواب تو میں اپنے خواب میں دو بار دیکھ چکا ہوں۔ اب انہوں نے مشورہ کیا اور پھر آخر بادشاہ نے مفتی اعظم سے کہا پہلے آپ قبروں کو کھولنے کا فتویٰ دیں تب میں اس خواب کے مطابق عمل کروں گا۔ مفتی اعظم نے اسی وقت قبروں کو کھولنے اور اس میں سے مقدس اجسام کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کا فتویٰ جاری کردیا اب یہ فتویٰ اور شاہی فرمان اخبارات میں شائع کر دیئے گئے اور اعلان کیا گیا کہ عید قربان کے دن دونوں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں کھولی جائیں گی۔ اخبارات میں جوں ہی یہ خبر شائع ہوئی تو دنیائے اسلام میں بجلی کی طرح پھیل گئی اخبارات کی دنیا اس خبر کو لے اڑی اور مزے کی بات یہ کہ یہ حج کے دن تھے تمام دنیا سے مسلمان حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں پہنچے ہوئے تھے انہوں نے درخواست کی کہ قبریں حج کے چند روز بعد کھولی جائیں تاکہ وہ سب بھی اس پروگرام میں شرکت کرسکیں۔ اسی طرح حجاز، مصر، شام، لبنان، فلسطین، ترکی، ایران، بلغاریہ، روس اور ہندوستان وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام سے بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی اس موقع پر شرکت کرنا چاہتے ہیں، مہربانی فرما کر مقررہ تاریخ چند روز آگے بڑھا دی جائے چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش پر دوسرا فرمان یہ جاری کیا گیا کہ اب یہ کام حج کے دس دن بعد کیا جائے گا۔ آخر کار وہ دن بھی آگیا جب قبروں کو کھولنا تھا دنیا بھر سے مسلمان وہاں جمع ہوچکے تھے، پیر کے دن دوپہر بارہ بجے لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں قبروں کو کھولا گیا۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں کچھ پانی آچکا تھا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں نمی پیدا ہوچکی تھی اگرچہ دریائے دجلہ وہاں سے دو فرلانگ دور تھا۔ تمام ممالک کے سفیروں، عراقی حکومت کے تمام ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جسم مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ ان کی نعش کرین پر رکھے گئے اسٹریچر پر خودبخود آگئی۔ اب کرین سے اسٹریچر کو الگ کرکے شاہ فیصل، مفتی اعظم، وزیر جمہوریہ ترکی اور شہزادہ فاروق ولی عہد مصر نے اسٹریچر کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور نہایت احترام کے ساتھ ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا پھر اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جسم مبارک کو نکالا گیا۔ دونوں اجسام کے کفن بالکل محفوظ تھے یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک کے بال بھی صحیح سلامت تھے۔ اجسام کو دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ تیرہ سو سال پہلے کی ہیں بلکہ یوں گماں گزرتا تھا انہیں وفات پائے ابھی مشکل سے دو تین گھنٹے ہوئے ہیں۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں ان میں اس قدر تیز چمک تھی کہ دیکھنے والے ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ نہ سکے بڑے بڑے ڈاکٹر یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ ان مقدس اجسام کو مزار سیدنا سلمان فارسی رضی اللّه عنہ کے پاس منتقل کر دیا گیا۔ سچ ہے کہ محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا.۔۔۔ معزز قارئین!! یہ واقعہ تو پرانا ھے مگر آج کے زمانے میں تذکرہ لازمی کیونکہ جب تک ھم محمد ﷺ کے ہر ایک ادنیٰ غلام نہ بن جائیں اس وقت تک نہ ہماری زندگی بامقصد ھوسکتی ھے اور نہ ہی کامیاب کی منازل پاسکتی ھے عشقِ رسول ﷺ میں ہی اصل حیاتِ جاویدانی ھے وہ زندگی ملتی جو بعد موت اصل حیات ھے۔ بحیثیت ایک مسلمان کے میں جانتا ھوں کہ بعد موت ہی پہلا دریچہ ھے جو اللہ کے پردوں کے عیاں اور مقام جنت و دوزخ شروع ھوتا ھے اللہ سبحان تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں مقرب بندوں اور منتخب بندوں کیلئے رب قبر سے ہی انعامات و اکرام کی بارشیں شروع کردیتا ھے ان کو وہ مقام عطا کرتا ھے کہ جسم کا رواں تو رواں کفن کا دھاگہ تک میلا نہیں ھوتا وہ بندہ یا بندہ قبر میں اس طرح سوتا ھے جیسے حسین کسی وادی میں گہری نیند سورھا ھو۔ حقیقت تو یہ ھے کہ عام انسانوں کو ان راز سے محروم رکھا گیا ھے۔ یہ پاکستانی حکمران ھوں یا عوام کا بڑا حصہ غفلت اور اوندھے منہ پڑے ھوئے ھیں اللہ مجھے اور آپ سب کو صراط المستقیم پر اور اپنے محبوب ﷺ کا تاحیات غلام رکھے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You