سندھ

لہجے کا جوش،، لفظوں کی گھن گرج،، والہانہ انداز۔ ۔ ۔ زاہد میسو نے حیدرآبادیوں کا ” لہو ” گرما دیا

حیدرآباد (سینئر تجزیہ نگار: کاشف شمیم صدیقی)

لیگل ایڈ سوسائٹی کی حیدرآباد ٹیم نے سانحہ جڑانوالہ کے سلسلے میں نکالی جانے والی ریلی میں بھرپور شرکت کی اور مسیحی برادری سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ لیگل ایڈ سوسائٹی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جوبنیادی طور پر عوام کو "قانونی مدد” فراہم کرنے کے حوالے سے جانی، پہچانی جاتی ہے۔ اس تنظیم کے مختلف پروجیکٹس اپنا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں، سندھ میں ” اقلیتوں ” کے حوالے سے جاری پروجیکٹ اپنی مثال آپ ہے۔

حیدر آباد میں نکالے جانے والے پُرامن احتجاجی مارچ میں لیگل ایڈ سوسائٹی کے زاہد علی میسو، ایڈووکیٹ دانش سومرو، امتیاز علی اور سلوسٹر مسیح نے شرکت کی اور اپنے، اپنے انداز میں ریلی کو کامیاب بنانے کی پوری کوشش کی۔

زاہد میسو نے جب مائک تھاما اور بات شروع کی تو پھرتو جیسے سما سا بندھ گیا، ان کے الفاظ سننے والوں کے دل میں اُتر رہے تھے، سچے جذبوں کی گواہی دے رہے تھے، ارادوں کی مضبوطی کو ظاہر کررہے تھے، اور اس کرب کو بھی بیان کر رہے تھے جس کا سامنا جڑانوالہ سانحے کے بعد مسیحی برادری کو ہے۔

پھر شام ڈھلے لانگ مارچ تو ختم ہوگیا لیکن زاہد کے لفظوں کی مہک نے حیدرآباد کے” یکجہتی ” کے ماحول کو ایک نہ ختم ہونے والی تروتازگی بخش دی تھی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You