راولپنڈی : سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی خالد حیات نے 9مئی کے پرتشدد

راولپنڈی : سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی خالد حیات نے 9مئی کے پرتشدد مظاہروں کے دوران حساس ادارے کے دفتر پر حملہ اور میٹرو سٹیشن کے جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر الزامات کے تحت گرفتار تحریک انصاف کی سابق رکن صوبائی اسمبلی سیمابیہ طاہرسمیت3گرفتار ملزمان کو شناخت پریڈ کے لئے اڈیالہ جیل بھجوانے کا حکم دیا ہے عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدائیت کی کہ ملزمان کی شناخت پریڈ کے لئے ضروری انتظامات مکمل کریں اور شناخت پریڈ مکمل ہونے تک ملزمان کو کسی سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائیعدالت نے عدالت نے ملزمان کی جانب سے طبی معائنے کی درخواست پر جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدائیت کی کہ جیل میں ملزمان کا طبی معائنہ بھی کروایا جائے گزشتہ روز مقدمہ کے تفتیشی انسپکٹر اکبر عباس نے سیمابیہ طاہر، شاکر حسین اور منصف عالم پر مشتمل تینوں ملزمان کو سخت حفاظتی حصار میں عدالت میں پیش کیا اس موقع پر ملزمان کی جانب سے ان کے وکلا محمد فیصل ملک، نبیل ستی اور عاقل خان ایڈووکیٹ کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر بھی عدالت میں موجود تھے مقدمہ کے تفتیشی نے عدالت سے تحریری استدعا کی کہ مذکورہ ملزمان کو اس مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس مقدمہ میں ملزمان کی شناخت پریڈ کروانا مقصود ہے لہٰذا عدالت ان ملزمان کو شناخت پریڈ کے لئے جوڈیشل حوالات میں بھجوانے کا حکم دے جس پر ملزمان کے وکلا نے جوڈیشل لاک اپ کی مخالفت کرتے ہوئے استدعا کی کہ عدالت حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تینوں ملزمان کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم دے اس موقع پر ملزمان کی جانب سے طبی معائنے کی درخواست دی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے گرفتاری کے بعد شاکرحسین اور منصف عالم کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے لہٰذا تینوں ملزمان کا طبی معائنہ کروایا جائے عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد تحریری حکم میں قرار دیا کہ چونکہ مقدمہ کی تحقیقات کے لئے ملزمان کی شناخت پریڈ ضروری ہے لہٰذا تینوں ملزمان کو جوڈیشل لاک اپ میں بھیجا جائے عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدائیت کی کہ وہ ملزمان کی شناخت پریڈ کے لئے ضروری انتظامات مکمل کریں اور شناخت پریڈ مکمل ہونے تک ملزمان کو کسی سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے عدالت نے مقدمہ کے تفتیشی کو ہدائیت کی کہ کہ وہ 31جولائی کو شناخت پریڈ کے لئے مجاز عدالت میں درخواست دیں اور شناخت پریڈ کا عمل مکمل ہونے کے بعد 3اگست کو عدالت کو پیش رفت سے تفصیلی آگاہ کریں عدالت نے ملزمان کی جانب سے طبی معائنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدائیت کی کہ جیل میں ملزمان کا طبی معائنہ بھی کروایا جائے یاد رہے کہ تھانہ نیوٹاؤن پولیس نے 10مئی کو سب انسپکٹر طارق جاوید کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 324،353،186،440،427،341،436،147،149،148،285اور286کے تحت مقدمہ نمبر 2106 درج کیا تھا مقدمہ کے متن کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے موقع پرسابق رکن صوبائی اسمبلی راجہ راشد حفیظ،چوہدری عاطف تنویر،عمران حیات، رانا سیف اللہ،چوہدری ارشد، ارسلان نور،رانا سہیل، سردار جنید،چوہدری نذیر احمد، عمران نذیر،عبید ناصر، عبدالقیوم جٹ،شیخ راحیل، طلحہ افراسیاب،راجہ محمود رشید، زاہد خان، بابر لودھی، سجاد حیدر،عمران عباسی، راجہ دانیال،راجہ ناصر محفوظ،اویس ایاز عباسی،زوہیب خٹک، عطا اللہ، رضوان اللہ، ابرار، ملک نبیل، نصراللہ،اسداللہ، معین خان،شیراز حسین، متین احمد،محمد کامران، رضوان عظمت احمد علی، اکرام اسد محمد غنی، محمد وقاص، سیف اللہ، عبدالقدوس شارک،محمد احسن اور آصف علی 100سے150نامعلوم افراد کے ہمراہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پرتشدد مظاہرہ کر رہے تھے جنہوں نے ٹائر و دیگر سامان جلا کر مری روڈ کو بلاک کیا ہوا تھا جنہیں پر امن رہنے کی تلقین کی لیکن مطاہرین نے اپنی قیادت کی ایما پر منتشر ہونے کی بجائے آتشیں اسلحہ، پٹرول بموں، ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے پولیس افسران و ملازمین پرحملہ کر دیا اور غلیلوں سے پتھراؤ کے ذریعے قاتلانہ حملہ کرنے کے ساتھ اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی پولیس اہلکاروں نے بمشکل اپنی جانیں بچائیں مظاہرین نے حساس تنصیبات اور دفاتر پر حملہ کرتے ہوئے شدید پتھراؤ کیا اور میٹرو سٹیشن کو شدید نقصان پہنچاتے ہوئے جلاؤ گھیراؤ کیا۔
رپورٹ : افتخار خٹک سے



