ہمارا ملک پاکستان جس کی ایک تہذیب تھی یہاں سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے۔ ایک وقت

عنوان: ہماری روایات
تحریر: سعدیہ اکیرا
ہمارا ملک پاکستان جس کی ایک تہذیب تھی یہاں سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے۔ ایک وقت تھا
جب مشکل میں کوئی اکیلا نہیں تھا بلکہ ایک دوسرے کے غمِ میں ساتھ دیا جاتا تھا کوئی مشکل میں ہوتا تو اس کی مدد کے اس کے اردگرد بہت سے لوگ ہوتے تھے جو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے۔
لیکن پھر وقت بدل اور لوگ بھی بدل گئے پہلے لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کرنی چھوڑی کس کو مشکل میں دیکھا کر راستہ بدل لیتے ایک تو اس یہ ہوا کہ لوگوں کی اپنی خوشیوں پھکی پڑگئی بلکہ انسان سے انسان بھی دور ہو گیا۔
اگر روڈ حادثہ ہو جاتا ہے تو انسان تڑپ تڑپ کر جان دے گا لیکن اس کے نزدیک کوئی نہیں جاتا کہاں وہ وقت تھا جب سارا شہر جمع ہو جاتا تھا اسی طرح ہم ایک خول میں بند ہو کر اسی طرح اپنی خوبصورت روایات کو چھوڑا ہم نے ماڈرن اور جدید ہونے کا لبادہ اوڑھ لیا اتنا ہی نہیں پچھلے دنوں جب ملک میں افراتفری تھی جہاں بہت سے باتیں ہم پہ آشکار ہوئی ایک یہ بھی تھی کہ ہم معاشرتی طور پر تباہی کے کنارے پہ پہنچ چکے ہیں اگر ہم اس سیاسی نہیں معاشرتی نقط نظر سے دیکھے تو لوگوں نے کیا کیا ایمبولینس کو راستہ نہ کیا انہوں آگ ہی لگا دی جاتی تھی اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچا گیا۔ مریض کے اس طرح کا سلوک کون کرتا ہے اور جب اس کا کوئی قصور بھی نہ ہو کسی کے گھروں میں گھس جانا کب سے ہماری روایات میں شامل ہو گیا اور خیر سے ہمارے لیڈر بھی اس چیز کی مذمت کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ لیڈر کا یہ کام تو نہیں ہوتا کہ ہجوم کو لے کر چل پڑے اور وہ جس راستہ جائے کوئی فکر نہیں جو لیڈر ہوتا ہے اس کا ہر کام قوم کی بہتری اور بھلائی کے ہوتا ہے لیڈر وہ ہوتا ہے جو ایک ہجوم کو قوم بنادے ۔ احتجاج کرنا کسی بھی قوم کا حق ہے تو اس کے ضروری ہے کہ دوسروں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جائے
ہمارا ملک تو پہلے نازک صورتحال سے گزرا رہا ہے اس پر یہ ضروری تھا کہ ساری دنیا میں اپنا مزید تماشا بنے۔ یہ وقت قوم کو جوڑنے کا تھا نہ کہ اس میں مزید اور پھوٹ ڈالنی تھی۔ اس میں جو کچھ بھی ہوا ہمیں کیا ملا۔ یہاں پہلے ہی لوگ اپنے حالات کے ستائے ہوئے ہیں اور یہ حالات دن بہ دن بدتر ہوراہے ہیں اور ریاست کو ان کے حالت بہتر بنانے کی بجائے اور اشتعال انگیزی بڑھا رہی ہے۔ اگر اتنی ہی سنجیدگی سے ملک کو ان حالات سے نکانے کی کوشش کی جائے تو ضرور کوئی حل نکل آئے گا ۔ لیکن یہاں سے عوام ہی رول رہی ہے اور جہاں جس ضرورت ہوتی عوام کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سارے تماشا میں ہمیں کچھ مل یا نہیں ہمارے دشمنوں کو ضرور خوشی ملی ہو گی کہ ہمارے اقتصادی حالت ہی نہیں بلکہ معاشرتی حالت بھی تشویشناک ہے اور اس سب سے ہم نے نفرتوں کو اور بڑھیا ہیں ۔
اللّٰہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے۔ آمین



