کالم/مضامین

عنوان: پاکستان اور پاکستانی قوم ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: پاکستان اور پاکستانی قوم ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

ہجرت پاکستان کے بعد جب اس خطے میں لوگ بسے تو ان میں دین محمدی ﷺ کا نہ صرف سچا جذبہ تھا بلکہ ایمان بہت پختہ اور اعمال صالح تھے ، وہ معمولی معمولی معاملات کو بھی بڑی باریکی سے اللہ اور اس کے احکامات کی روشنی میں پرکھتے تھے یہی وجہ ھے کہ ہر گھر میں دین کا اجالا چمکتا تھا، وہ لوگ تعصب عصبیت لسانیت مسلکیت بغض و عناد نفرت بے انصافی جھوٹ اور منافقت سے کوسوں دور تھے، وہ لوگ پاس پڑوس محلہ میں ایک گھرانے کی طرح زندگی بسر کرتے تھے دکھ درد تکلیف میں ایک دوسرے کا معاون بن جاتے تھے، مانا کہ غربت تو تھی مگر خوشحالی بہت کیونکہ اللہ نے انہیں برکتوں فضل و کرم رحمتوں اور اتحاد و اتفاق کی دولت سے نوازا تھا، سادگی کے اندر رہتے ھوئے خلوص و محبت کے گلشن جابجا نظر آتے تھے، قوم و افواج میں گہرا محبت و عقیدت کا تعلق جڑا تھا، اس زمانے میں رہبر و رہنما تھے جو ہمہ وقت قوم کی فکر میں پریشان رہتے تھے یہی وجہ ھے کہ پاکستان کے ایک سال بعد جب ہندوستان نے سنہ 1948 کو پہلا حملہ کیا تو بری طرح شکست سے دوچار ھوا لیکن پھر بھی باز نہ آیا اور دوسری بار سنہ 1965 میں بڑے پیمانے پر جنگ کی تو انتہائی بری شکست سے دوچار ھوا، یہ جان کر کہہ پاکستان کو جنگ سے مات نہیں دی جاسکتی تو اس نے اپنے آقاؤں کے مشوروں پر عمل کرکے سازشوں مکاریوں عیاریوں دھوکہ دہی کے تمام وار کھول دیئے جو پس پردہ امریکہ اور یہودیوں کی کارفرمائیاں پیش پیش رہیں اور آج ھم جس حالت میں ھیں انہی پاکستان دشمنانان کی سازشوں کا اثر ھے کون کون انکا آلہ کار رھا اور چلتے آرھے ھیں یہ آپ معزز قارئین مجھ ناچیز سے بہتر جانتے ھیں، یاد رکھئے انھوں نے ھم سے ایمان، یقین اور جذبہ جہاد چھین کر عیش و تعائش و مراعات میں قید کردیا اور جنہیں اپنے غلیظ مقاصد کیلئے چنا ان کی نسلیں آج بھی اسی ڈگر پر چل رھی ھیں یہ الگ بات ھے کہ وقت کے ساتھ ساتھ نئے چہرے نئے انداز والوں کو بھی ملک دشمنی پر لگادیا اگر دیکھا جائے تو ان سب مکاروں منافقوں نے جس جس طرح ملک و قوم کو ناتلافی نقصان سے دوچار کیا ھے انہیں سرے عام لٹکا دینا چاہئے مگر افسوس کہ ھمارے قوم عقل و شعور سے نابلد ھے یہی وہ چاہتے تھے اور انھوں نے انہیں جانور بناکر ناچنے گانے اچھلنے کودنے اور بے توقی حرکتوں پر لگائے رکھا آج پاکستان کو بننے تقریباً اٹھہتر سال ھوگئے ھیں اس قوم کو ابھی تک ہوش نہیں کہ جن کے نعروں گیتوں میں یہ بانسری والے جن کی طرح باجتے رھے وہ سب کچھ انکے گھر کا سامان لے اڑے ھیں، پکڑنے والوں کو بھی بے بس و کمزور کردیا جیسے ھم بچپن میں کھیل دیکھتےتھے کہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر خوب دھرگت بنائی جاتی تھی اس قوم کیساتھ بھی یہی کچھ ھوا اور ھوتا چلا آرھا ھے اپنی بات بڑھانے سے پہلے میں اپنے دوست کی ایک تحریر ضرور شامل کرتا ھوں جس سے میرے کالم کو سمجھنے میں مزید آسانی پیدا ھوگی انشاءاللہ۔ وہ لکھتے ھیں کہ بنی اسرائیل کے لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایک زمانے تک اہل توحید و استقامت رہے، پھر مرور زمانہ کے ساتھ توحید کی راہ سے بھٹک گئے اور بتوں کی پرستش شروع کردی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر عمالقہ کو مسلط کردیا، جنہوں نے ان کی سرزمین پر قبضہ کرلیا، ان کی بہت بڑی تعداد کو قتل کیا، اور بہتوں کو پابند سلاسل کردیا، اور اس تابوت کو ان سے چھین لیا، جس میں وہ احکام تھے، جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر دئیے تھے، نیز اس میں تورات کا نسخہ اور موسیٰ و ہارون اور دیگر انبیائے بنی اسرائیل کے آثار تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی بھی تھی۔ بنی اسرائیل جب اپنے دشمنوں سے جنگ کیلئے جاتے تو اس تابوت کو اپنے آگے رکھتے تھے جس سے ان کو سکون و قرار ملتا تھا اور فتح نصیب ہوتی تھی، علماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ انبیاء کے صحیح اور ثابت شدہ آثار کے ذریعہ تبرک حاصل کرنا جائز ہے، جیسے نبی کا عمامہ اس کا کرتا اور اس کا جوتا وغیرہ۔ عمالقہ نے وہ تابوت بھی چھین لیا۔ اس کے بعد ذلت و رسوائی ان کی قسمت بنی رہی، یہاں تک کہ ان میں صموئیل نبی پیدا ہوئے اور انہیں توحید کی طرف بلایا، تو انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے تاکہ ہم لوگ اس کی زیر قیادت عمالقہ سے جہاد کریں، اور اپنی زمین اور تابوت اور تورات وغیرہ ان سے دوبارہ واپس لیں۔ آیت 246 سے لے کر 251 تک اسی عہد بنی اسرائیل کا ذکر ہے۔ صموئیل نبی نے جس نوجوان کو ان کا بادشاہ مقرر کیا اس کا نام طالوت تھا، وہ بنی اسرائیل کے اس خاندان سے نہیں تھا جس میں اب تک بادشاہت چلی آرہی تھی، لیکن وہ ایک قوی الجسم اور خوبصورت نوجوان تھا اور جسے اللہ نے علم و بصیرت سے نوازا تھا، اور جالوت عمالقہ کی فوج میں ایک مشہور پہلوان اور اس کا کمانڈر تھا جس پر عمالقہ کو بڑا ناز تھا۔ اس واقعہ کے ذکر سے مقصود مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ پر ابھارنا ہے کہ بادشاہ طالوت سے جب جنگ کے لئے نکلا تو جن لوگوں نے صبر و استقامت سے کام لیا، ان کو اللہ نے دنیا و آخرت میں عزت دی، اور جنہوں نے بزدلی دکھائی اور راہ فرار اختیار کیا، ان کی دنیا خراب ہوئی، اور آخرت میں بھی ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب بنی اسرائیل کے اہل فکر نے جہاد کا ارادہ کرلیا، تو اپنے نبی سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے تاکہ ہمارے درمیان کا اختلاف ختم ہوجائے اور سب لوگ اس کی اطاعت پر متفق ہوجائیں۔ صموئیل نبی ڈرے کہ شاید یہ ان کا محض زبانی دعویٰ ہے اور وہ جہاد فی سبیل اللہ نہ کرسکیں گے، تو انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ اپنا وطن واپس لینے کے لئے جہاد کریں گے۔ معزز قارئین کافی حد تک آپ سمجھ چکے ھونگے کہ ھم اور ھماری قوم بھی اسی طرح کے حالات سے دوچار ھے اب ھماری ان طاقتوں کو سنجیدگی سے سوچنا ھوگا کہ اس نظام جمہوریت سے جہاد ناگزیر ھوچکا ھے اور ملک پاکستان مزید متحمل نہیں ھوسکتا۔ اللہ ہر زمانے میں ہر دور میں چند ایک اپنے ایسے بندے پیدا کرتا ھے جو اسکے دین انسانیت اور وطن پرستی کی دولت سے سرشار ھوتے ھیں انہیں علم و فن اور حکمت و بصارت سے بھی مستفید رکھتا ھے، پاکستان کی بائیس کڑور آبادی میں کیا ایسے لوگ نہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ، بہترین ماہر، سچے ایماندار دیانتدار محب وطن مخلص قوم ھوں یقیناً ایک نہیں بلکہ ایک سے کہیں زیادہ ھوں جو سیاست سے پاک اور ریاست سے عشق رکھتے ھوں جنہیں ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا درد اور احساس ھو اور جن کے ارادے اور مقصد ملک و قوم اور ریاست کی مضبوطی ھو کم از کم میں ایسے ایک شخص کو جانتا ھوں جو انجینئر بھی ھے اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی وہ موجد بھی ھے اور اس نے ریاست پاکستان کو بڑے بڑے پروجیکٹ بھی دیئے ھیں وہ ماہر منصوبہ ساز و ماہر قانون دان و ماہر آئین بھی ھے اس شریف النفس عظیم انسان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاکستان کا کیس داخل کیا ھے ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ھے جسے سنا ہی نہیں جارھا۔ اس معتبر شخص نے آرمی چیف عاصم منیر صاحب اور چیف جسٹس عمر بندیال صاحب کو بھی اس بابت خط لکھے تاحال خاموشی ملی۔ اس قوم کا فرض ھے کہ قائداعظم کی وصیت کے مطابق جو کیس دائر کیا گیا ھے اس میں ہر پاکستانی فریق بن کر اپنا قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔ فریق بننے کیلئے سپریم کورٹ کی آفیشل سائٹ کو فورٹ پر CM Appeal 149/2022 اپنی حمایت شامل کیجئے جتنے زیادہ فریق بننیں گے اتنا ہی جلد کیس سننا جائے گا دوسرا یہ کہ تقریباً پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی سپریم کورٹ موجود ھیں وہاں بھی درخواست دی جاسکتی ھیں۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You