ھمارا صبر اور ھمارا امتحان

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
ھمارا صبر اور ھمارا امتحان
کالمکار: جاوید صدیقی
الحمدللہ ھم سب مسلمان ھیں اور امت محمدی ﷺ بھی بڑی عجیب بات ھے کہ ھم اللہ کے پسندیدہ مہینہ میں اللہ کی رضا کو فراموش کرکے نفس اور خواہشات میں اندھے ھوجاتے ھیں۔ ماہ رمضان کی افضلیت و برکت اور انعامات الہٰی سے قرآن پاک نہایت خوبصورت ہمکلام ھے اور بشارت دیتا ھے کہ سمیٹ لو جس قدر سمیٹ سکتے ھوں اللہ کے خذانے میں کوئی کمی نہیں البتہ تمہیں سمیٹنا نہیں آتا۔ اللہ سبحان اللہ نے اس ماہ رمضان میں شیاطین اور اسکے چیلے قید کردیتا ھے تاکہ بندہ یہ شکوہ نہ کرسکے کہ اسے شیطان اور اسکے چیلوں نے بہکادیا۔ پاکستان اور بلخصوص کراچی میں رمضان آتے ہی ذخیرہ اندوز و سود خور اور مہنگائی فروش لوٹ گھسوٹ میں متحرک ھوجاتے ھیں۔ انکی طاقت اور حوصلہ افزائی انتظامیہ و پولیس خوب جم کر کرتی ھے کیونکہ یہ سب مافیاء کی شکل اختیار کرلیتے ھیں اور اس ایک ماہ میں پھل فروٹ اجناس مشروبات کپڑے سلائی جوتے گوکہ کون سی ایسی اشیاء ھے جو عام آدمی کی پہنچ میں ھو۔ یوں تو کمشنر سمیت صوبے بھر کی انتظامیہ فوٹو سیشن کیلئے اکا دکا دکھاوے کے چھاپے لگاتے ضرور ھیں مگر وہ بھی اندرونِ خانہ سیٹنگ کیساتھ طے کرلیا جاتا ھے۔ کبھی سوچا کہ متوسط طبقہ کے سفید پوش کس طرح رمضان گزارتے ھیں اور عید مناتے ھیں۔ رمضان بچت ھو یا عید بچت ان بازاروں کا مقصد بھی یہی تھا کہ سفید پوش مناسب قیمت میں خریداری کرکے مذہب اسلام کی اس خوشی میں شامل ھوسکے مگر افسوس ھمارے وہ بھائی جو تاجر ھیں وہ پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام کرتے ھیں روز قرآن پاک کی تلاوت بھی کرتے ھیں مگر تجارت میں ہوشربا اضافہ کرکے نہ شرم محسوس کرتے ھیں اور نہ ہی متوسط طبقہ کا احساس اگر مناسب منافع لیکر اپنے مسلمان بھائی کو خوشی کا موقع میسر کریں گے تو خدا کی قسم آپ انسانوں سے نہیں بلکہ رب سے تجارت کررھے ھوں گے رب کبھی بھی اپنے ساتھ تجارت کرنے والے کو نہ نقصان پہنچاتا ھے نہ مایوس کرتا ھے کیونکہ وہ بہت بڑا عظیم غفور الرحیم ھے وہ اپنی شان کے مطابق عنایت در عنایت کرتا ھے اس کا منافع دونوں جہاں میں ملتا ھے۔ حکومت پاکستان نے جو حالات پیدا کردیئے ھیں اب ضرورت اور امتحان کی باری ھے کہ آپ اشرف المخلوقات ھونے کا ثبوت اپنے اچھے اعمال سے دیں۔ یاد رھے آپ کا صدقہ خیرات زکواة فطرہ کے کون مستحق ھیں اپنے عالم دین اور مفتیان کرام سے رہنمائی لیتے ھوئے مستحقین اور حقدار تک پہنچائیں تاکہ اللہ اور اسکا حبیب ﷺ راضی ھو۔ ماہ رمضان میں ھمارا صبر اور ھمارا امتحان یہی ھے کہ ھم اپنے نفس کی نفی کرتے ھوئے اللہ کی رضا کو اپنا مرکز و محور بنالیں پھر دیکھئے گا کہ ماہ رمضان اور سب قدر کی خاص نعمتیں کس طرح آپ کو ملتی ھیں۔ اللہ ھمارے تاجروں کو ماہ رمضان میں حکومتی نرخ پر فروخت کرنے کی توفیق عطا کردے اور حکومتی با اختیاروں کے دل موم بنادے تاکہ وہ متوسط طبقہ اور عزت نفس رکھنے والوں کیلئے نافع بن جائیں آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔!!



