کالم/مضامین

عنوان: یہ قوم اور ذوالفقار علی بھٹو

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: یہ قوم اور ذوالفقار علی بھٹو

کالمکار : جاوید صدیقی

پاکستان ایک نظریاتی ملک ھے اس کا نظریہ ٰ نظریہ اسلام تھا۔ اسلام اور دینِ محمدی کے نافذ کیلئے روئے زمین پر آزاد خودمختار اسلامی ریاست کیلئے لاکھوں ہند کے مسلمانوں نے جام شہادت نصیب کیں۔ بچیوں اور لڑکیوں نے اپنی زندگی مٹادی بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا جوانوں کو زندہ جلایا گیا بوڑھوں اور ضعیفوں کی ہڈیاں چور چور کیں بڑی قربانیوں تکالیف اذیت ظلم و بربریت کو سہنے کے بعد ملک پاکستان حاصل کیا۔ عظیم لیڈر قائداعظم اور ان کے عظیم رفقائے کاروں کے سبب پاکستان ریاست کی شکل میں نمودار ھوا اس وقت بڑے بڑے حب الوطنوں نے اپنا مال و دولت تحفتاً قومی خذانے میں پیش کیا اور ایماندار دیانتدار رہنماؤں نے عبادت سمجھ کر پائی پائی کی حفاظت کی اور قوم کی دولت کو محتاط اور درست انداز میں استعمال کیا لیکن نواب لیاقت علی خان کو شہید کرکے پاکستان میں موجود مختلف اشکال منصب اور اقتدار میں چھپے غداروں مجرموں نے اپنی غلاظت کی کیچڑ پھیلانی شروع کی اور بے ضمیروں کو ساتھ لے لیا اور پھر پاکستان کنجروں زانیوں عیاشوں بیغرتوں اور ملک دشمنوں کے شکنجے میں آگیا انھوں نے تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ان کی نسلیں بھی وہی کچھ کرتی چلی آرھی ھیں اور دیگر بھی پیش پیش ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! چند روز قبل میری ایک تحریر پر نظر پڑی جو قمر نقیب خان نے لکھی تھی جس میں بہت سے حقائق سچائی اور پردے آشکار تھے وہ لکھتے ھیں کہ میں پیپلز پارٹی کے بانی اور روح رواں ذوالفقار علی بھٹو کو اس ملک و قوم کا مجرم سمجھتا ہوں. سنہ انیس سو تریپن عیسوی نینشل موٹر کارپوریشن نے امریکن جنرل موٹرز کے اشتراک سے پاکستان کی پہلی واکس ہال گاڑی تیار کی جبکہ بعد میں پاکستاں کے مشہور زمانہ بیڈ فورڈ ٹرک اسی پلانٹ پر تیار کیے گئے۔ سنہ انیس سو تریپن عیسوی میں ایکسائڈ بیٹریز نے پاکستان کا پہلا بیٹری پلانٹ لگایا۔ سنہ انیس سو چوون عیسوی میں علی موٹرز نے فورڈ موٹرز امریکہ کے ساتھ مل کر پہلی کار، ٹرک اور اس کے بعد پک اپ ٹرک تیار کرنے کی غرض سے پلانٹ لگایا۔ سنہ انیس سو چھپن عیسوی میں ہارون انڈسٹریز نے ڈوجے امریکہ کے برینڈ نیم سے پک اپ ٹرک تیار کیا۔ سنہ انیس سو اکسٹھ عیسوی میں آل ون انجینئرنگ نے پاکستان میں گاڑیوں کے پارٹس تیار کرنے کا جدید پلانٹ لگایا۔ سنہ انیس سو باسٹھ عیسوی میں وزیر انڈسٹریز نے اٹالین لمبریٹا اسکوٹر کمپنی کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا اسیکوٹر تیار لمبریٹا ٹی وی ٹو ہینڈریڈ تیار کیا۔ سنہ انیس سو باسٹھ عیسوی میں کندھنوالہ انڈسٹریز نے امریکن جیپ کمپنی کے مختلف ماڈل سیریز سی جے فائیو، سی جے سیکس، سی جے سیون ملک میں پہلی بار تیار کی۔ سنہ انیس سو تریسٹھ عیسوی میں جنرل ٹائرز نے کراچی میں پہلا ٹائروں کا پلانٹ کانٹنٹل ٹائرز جرمنی کے تعاون سے قائم کیا۔ سنہ انیس سو تریسٹھ عیسوی میں ہائے سن گروپ نے امریکن ماک ٹرک کی پیداوار شروع کی۔ سنہ انیس سو چونسٹھ عیسوی میں رانا ٹریکٹرز موجودہ ملت نے میسی فرگوسن ٹریکٹرز کی ملکی سطح پر پیداوار کا آغاز کیا۔ سنہ انیس سو چونسٹھ عیسوی میں نینشل موٹرز کو خٹک خاندان نے خریدا تو وہ گندھارا موٹر انڈسٹریز بنی۔ سنہ انیس سو چونسٹھ عیسوی میں ہی راجا موٹرز نے اٹالین مشہور زمانہ ویسپا اسکوٹر کی پاکستان میں پیدوار شروع کی۔ سنہ انیس سو چونسٹھ عیسوی اٹلس آٹوز نے پہلا ہنڈا موٹر سائیکل کا پلانٹ لگایا۔ سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی میں جعفر موٹرز نے مختلف آپریشن جیسے ٹریلر بیڈ، ایمبولینس، فائر بریگیڈ کیلئے گاڑیاں تیار کرنے کا آغاز کیا۔ سنہ انیس سو پینسٹھ عیسوی میں مانو موٹرز نے ٹیوٹا گاڑیوں کی مقامی سطح پر پیداوار کی بنیاد رکھی پھر آتا یے کہانی میں وہ موڑ جہاں سے شروع ہونے والا انٹرول آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ سنہ انیس سو باہتر میں تمام آٹو صنعتوں کو قومیا کرکے پاکستان آٹو موبائل کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ علی موٹرز کو عوامی موٹرز، وزیر علی انجینئرنگ کو سندھ انجینرنگ، ہارون انڈسٹریز کو ریپبلک موٹرز، گندھارا موٹرز کو نیشنل موٹرز، کندھنوالہ موٹرز کو نیا دور موٹرز، ہائے سن کو ماک ٹرک، جعفر موٹرز کو ٹریلر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا نام دیا جاتا ہے جبکہ رانا ٹریکٹرز کو ملت ٹریکٹرز کا نام دیکر پاکستان ٹریکٹر کارپوریشن کا ادارہ قائم کیا گیا۔ معذرت کیساتھ بھٹو بھی کسی کے منصوبوں پر اپنی تختی لگاتے رہے تھے۔ جسکی بدولت آج تک ہماری صنعت مکمل بحال نہیں ہوسکی۔ اگر یہ تمام ادارے اپنے اصل مالکان کے پاس ہوتے تو آج پاکستان کے اپنے برینڈ لانچ ہوچکے ہوتے۔ آج ہمارے ملک کی بنی گاڑیاں، موٹر سائیکل، ٹریکٹر اور ٹرک دوسرے ممالک کی سڑکوں پر نظر آرہے ہوتے بالکل ایسے جیسے ٹاٹا اور مہاہندرہ کی مصنوعات عرب دنیا اور افریقہ میں نظر آرہی ہیں۔ آج ان قومیائی گئی صنعتوں میں سے صرف تین ٹوٹی پھوٹی حالت میں کسی نہ کسی طرح زندہ ہیں۔ باقی سب کا وقت کیساتھ انتقال ہوگیا۔ ساٹھ کی دہائی تک پاکستان میں انڈسٹری فروغ پارہی تھی۔ اصفہانی، آدم جی، سہگل، جعفر برادرز، رنگون والا، افریقہ والا برادرز جیسے ناموں نے پاکستان کو انڈسٹریلائزیشن کے راستے پر ڈال دیا تھا۔ دنیا پاکستان کو انڈسٹریل پیراڈائز کہا کرتی تھی۔ ماہرین کا کہنا تھا ترقی کی رفتار یہی رہی تو پاکستان ایشیاء کا ٹائیگر بن جائیگا یہاں فیکٹریاں، ملیں اور کارخانے لگ رہے تھے۔ بجائے ان کاروباری خاندانوں کے مشکور ہونے کے کہ وہ معاشی سرگرمی کو زندہ رکھے ہوئے تھے، ہمارے ہاں سرمایہ دار کو ہمیشہ دشمن سمجھا گیا رہی سہی کسر بھٹو کے سوشلزم کے خواب نے پوری کردی۔ ہمارے ہاں نظمیں پڑھی جانے لگیں چھینو مل لٹیروں سے۔ چنانچہ ایک دن بھٹو نے نیشنلائزیشن کے ذریعے یہ سب کچھ چھین لیا۔ لوگ رات کو سوئے تو بڑے وسیع کاروبار کے مالک تھے صبح جاگے تو سب کچھ ان سے چھینا جاچکا تھا۔ بھٹو نے اکتیس صنعتی یونٹ، تیرہ بینک، چودہ انشورنش کمپنیاں، دس شپنگ کمپنیاں اور دو پٹرولیم کمپنیوں سمیت بہت کچھ نیشنلائز کرلیا۔ اسٹیل ملز کارپوریشن آف پاکستان، کراچی الیکٹرک، گندھارا انڈسٹریز، نیشنل ریفائنریز، پاکستان فرٹیلائزرز، انڈس کیمیکلز اینڈ اندسٹریز، اتفاق فاؤنڈری، پاکستان اسٹیلز، حبیب بینک، یونائیٹڈ بنک، مسلم کمرشل بینک، پاکستان بینک، بینک آف بہاولپور، لاہور کمرشل بینک، کامرس بینک، آدم جی انشورنس، حبیب انشورنس، نیو جوبلی، پاکستان شپنگ، گلف اسٹیل شپنگ، سنٹرل آئرن ایند اسٹیل سمیت کتنے ہی اداروں کو ایک حکم کے ذریعے ان کے جائز مالکان سے چھین لیا گیا۔مزدوروں اور ورکرز کو خوش کرنے کیلئے سوشلزم کے نام پر یہ واردات اس بے ہودہ طریقے سے کی گئی۔ شروع میں کہا گیا حکومت ان صنعتوں کا صرف انتظام سنبھال رہی ہے، جب کہ ملکیت اصل مالکان ہی کی رہیگی پھر کہا گیا ان صنعتوں کی مالک بھی حکومت ہوگی۔ پہلے کہا گیا کسی کو کوئی زر تلافی نہیں ملے گا پھر کہا گیا دیا جائیگا۔ کبھی کہا گیا مارکیٹ ریٹ پر دیا جائیگا پھر کہا گیا ریٹ کا تعین حکومت کریگی۔ یوں سمجھئے ایک تماشا لگادیا گیا۔ مزدور اور مالکان کے درمیان معاملات خراب تھے یا دولت کا ارتکاز ہورہا تھا تو اس معاملے کو اچھے طریقے سے بیٹھ کر حل کیا جاسکتا تھا۔مزدوروں کی فلاح کیلئے کچھ قوانین بنائے جاسکتے تھے لیکن بھٹو دلیپ کمار بننا چاہتے تھے۔ وہ مزدور اور کارکن کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ سرمایہ داروں کیخلاف انہوں نے انقلاب برپا کردیا ہے۔ یہ تاثر قائم کرتے کرتے انہوں نے پاکستانی معیشت کو برباد کردیا۔ عمران خان کے مشیر رزاق داؤد کے دادا سیٹھ احمد داؤد کو جیل میں ڈال کر انکا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا بعد ازاں وہ مایوس ہو کر امریکہ چلے گئے اور وہاں تیل نکالنے کی کمپنی بنالی۔ اس کمپنی نے امریکہ میں تیل کے چھ کنویں کھودے اور کامیابی کی شرح سو فیصد رہی۔ آج ہمارا یہ حال ہے کہ ہم تیل کی تلاش کی کھدائی کیلئے غیر ملکی کمپنیوں کے محتاج ہیں۔ صادق داؤد نے بھی ملک چھوڑ دیا، وہ کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ ایم اے رنگون والا ایک بہت بڑا کاروباری نام تھا۔ وہ رنگون سے بمبئی آئے اور قیام پاکستان کے وقت سارا کاروبار لے کر پاکستان آگئے۔ وہ یہاں ایک یا دو نہیں پینتالیس کمپنیاں چلارہے تھے۔ انہوں نے بھی مایوسی اور پریشانی میں ملک چھوڑدیا، وہ ملائیشیا چلے گئے۔ بٹالہ انجینئرنگ کمپنی والے سی ایم لطیف بھی بھارت سے پاکستان آچکے تھے اور بادامی باغ لاہور میں انہوں نے پاکستان کا سب سے بڑا انجینئرنگ کمپلیکس قائم کیا تھا جو ٹویوٹا کے اشتراک سے کام کررہا تھا۔ یہ سب بھی ضبط کرلیا گیا۔ انہیں اس زمانے میں ساڑھے تین سو ملین کا نقصان ہوا اور دنیا نے دیکھا بٹالہ انجینئرنگ کے مالک نے دکھ اور غم میں شاعری شروع کردی۔ رنگون والا، ہارون، جعفر سنز، سہگل پاکستان چھوڑ گئے۔ کچھ نے ہمت کی اور ملک میں ہی رہے جیسے دادا گروپ، آدم جی، گل احمد اور فتح انڈسٹریز لیکن ان کا اعتماد یوں مجروح ہوا کہ پھر کسی نے انڈسٹریلائزیشن کو سنجیدہ نہیں لیا۔ احمد ابراہیم کی جعفر برادرز اس زمانے میں مقامی طور پر کار بنانے کے قریب تھی۔ ہم آج تک کار تیار نہیں کرسکے۔ فینسی گروپ اکتالیس صنعتیں تباہ کروا کے یوں ڈرا کہ اگلے چالیس سالوں میں اس نے صرف ایک فیکٹری لگائی، وہ بھی بسکٹ کی۔ ہارون گروپ کی پچیس صنعتیں تھیں، وہ اپنا کاروبار لے کر امریکہ چلے گئے۔ آج پاکستان میں انکے صرف دو یونٹ کام کر رہے ہیں۔کاروباری خاندان ملک چھوڑ گئے یا پاکستان میں سرمایہ کاری سے تائب ہوگئے۔ ادھر بھٹو نے صنعتیں قبضے میں تو لے لیں لیکن چلا نہ سکے۔ان اداروں میں سیاسی کارکنوں کی فوج بھرتی کردی گئی۔ مزدور اب سرکار کے ملازم تھے، کام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ نتیجہ یہ نکلا ایک ہی سال میں قومیائی گئی صنعت کا اسی فیصد برباد ہوگیا۔ زرعی گروتھ کی شرح میں تین گنا کمی واقع ہوئی۔ نوبت قرضوں تک آگئی۔ جتنا قرض مشرقی اور مغربی یعنی متحدہ پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں لیا تھا اس سے زیادہ قرض بھٹو حکومت نے چند سالوں میں لے لیا۔ خطے میں سب سے زیادہ افراطِ زر پاکستان میں تھا ادائیگیوں کے خسارے میں سات سو پچانوے فیصد اضافہ ہوگیا۔ اسٹیٹ بینک ہر سال ایک رپورٹ پیش کرتا ہے۔ بھٹو نے چار سال اسٹیٹ بینک کو یہ رپورٹ ہی پیش نہ کرنے دی تا کہ لوگوں کو علم ہی نہ ہوسکے کتنی تباہی ہوچکی۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں؟ اپنی انڈسٹری اپنے ہاتھوں سے تباہ کرکے اب ہم چین کی منتیں کررہے ہیں یہاں انڈسٹری لگائے۔ دنیا چالیس سال سے کمپیوٹر استعمال کررہی ہے اور ہم آج تک ایک ماؤس نہیں بناسکے۔ دنیا تیس سال سے موبائل فون استعمال کررہی ہے اور ہم آج تک ایک چارجر نہیں بناسکے۔
پاکستان کا خانہ خراب کرنے میں ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلزپارٹی کا پورا پورا ہاتھ ہے. یہی وجہ ہے کہ مجھے ان سے کوئی ہمدردی نہیں اور یقیناً ھر محب وطن بھٹو اور اس کی باقیات سے شدید نفرت کریگا یاد رھے کہ بینظیر بھٹو کی برسی پر بھی مجھے خوشی ہوتی ہے اور نواز شریف کے مرنے پر بھی میں خوش ہونگا البتہ اتنا افسوس ضرور رہیگا کہ پاکستان کا لوٹا ہوا خزانہ واپس نہیں لیا جاسکے گا۔۔۔۔۔معزز قارئین!! ھم سنہ دو ہزار تیئس میں داخل ھوچکے ھیں اگر ھم ملک و قوم کا جائزہ لیں تو اب اس جمہوریت نے سرکاری تو سرکاری بچے کچے پرائیویٹس اداروں کمپنیوں اور کارپویشنز کا مکمل دیوالیہ پیدا کردیا ھے۔ اسی بھٹو کی باقیات نے رہی سہی تمام کسر پوری کردی ھیں یہی نہیں اب انکا ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں نے بھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا پی ڈی ایم سمیت تحریک انصاف نے بھی کرپشن لوٹ مار بدعنوانی جھوٹ منافقت دھوکہ دہی کی تمام ریکارٹس توڑ ڈالے اور حیرت و تعجب یہ کہ انتہائی معتبر اداروں سپریم کورٹ ھوں یا اسٹبلشمنٹ سب کے سب نے حیران و پریشان کردیا اور عوام کے جینے کی کوئی راہ نہ چھوڑی ان کرپٹ سیاسی مافیا کی سرغنہ اور سردار بھٹو کی بنائی گئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ھے اور اس کی دست راست انتہائی کرپٹ سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ اور جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان ھیں۔ بس دعا ھی کرسکتے ھیں کہ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے کیونکہ غیر ملکی آلہ کاروں ایجنڈوں کی بہتات ھے یہاں۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You