عنوان:حالیہ زمانے میں عبرت ناک اموات۔۔۔!!

بیدار ھونے تک
عنوان:حالیہ زمانے میں عبرت ناک اموات۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
سینئر صحافی ایاز میر کے بیٹے نے اپنی بیوی سارہ کو قتل کردیا۔سینئر صحافی ایاز میر کے بیٹے شاہنواز نے اپنی کینیڈا نژاد بیوی سارہ کو جم کے بھاری ڈمبل مار کر پہلے شدید زخمی کیا، پھر اسے گھسیٹتے ہوا باتھ روم کے ٹب تک لے کر گیا،اور بیوی کو ٹب میں پھینک کر پانی کا نل کھول دیا۔ سارہ جو کہ پہلے ہی بری طرح زخمی اور بے ہوش تھیں، پانی میں ڈوب کر مرگئی۔ کہا جاتا ہے کہ شاہنواز نشے کی حالت میں تھا۔ عموماً امیر اور عیاش لوگوں کے پاس یہی لاجک ہوتی ہے۔ یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقے "چک شہزاد” میں شاہنواز کی رہائشگاہ میں پیش آیا۔ میت پوسٹ مارٹم کیلئے پمز اسپتال روانہ کی جاچکی ہے۔ ابھی تک قتل کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔ کینیڈا نژاد سارہ شاہ نواز دبئی میں مقیم تھیں اور وہیں ملازمت کرتی تھیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے روابط بڑھے تین ماہ قبل دونوں کی شادی ہوئی، اور گزشتہ دنوں قتل ہو جاتا ہے۔ پولیس نے شاہنواز کو گرفتار کرلیا ہے۔ جو جلد ہی ضمانت پر آزاد ہوجائے گا۔ جب صحافی ایاز میر اپنے بیٹے کی رہائشگاہ پہنچے تو صحافی نے پوچھا آپکی اپنی بہو سے ملاقات تھی؟ تو انہوں نے کہا "نہیں میں ابھی یہاں آیا ہوں”۔۔۔۔معزز قارئین!! حقیقت تو یہ ھے کہ کہاوتیں سچی ہوتی ہیں؟ کہاوت ہے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ یہ بھی کہاوت ہے کہ قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ صدیوں کی انسانی دانش یہ بھی ہے وقت کی چکی بہت باریک پیستی ہے۔ اور یہ بھی محاورہ ہے کہ اللہ کے ہاں دیر ہے پر اندھیر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ معزز قارئین!!! معروف صحافی ایاز میر کے باپ قاتل شاہنواز کے دادا پر الزام تھا اس نے ایک لڑکی کی عصمت دری کی اور اس لڑکی نے اپنا بدلہ یوں لیا کہ موقع تلاش کرکے اسے قتل کردیا اور لاش اس حال میں ملی کہ اس کا "عضو تناسل” کاٹ کر اس کے منہ میں ڈالا ہوا تھا۔ سنہ نوے کی دہائی میں ایف سیون کے ایک بنگلہ سے روز رات کو ایک عورت کے چیخنے کی آوازیں آتی تھیں۔ ایاز میر اپنی بیوی پر تشدد کرتا تھا۔ اہل محلہ مسلسل پولیس کو رپورٹ کرتے تھے، لیکن اس دور میں ایاز میر کا طوطی بولتا تھا اور اپنی بیوی پر ہر روز تشدد کے باوجود پولیس کچھ نہیں کرتی تھی۔ ایاز میر پر ایک کم عمر لڑکی کی عصمت دری کا مقدمہ بھی درج ہوا تھا لیکن ایاز میر اپنے اثر رسوخ سے بچ نکلا۔ شائد اسی بناء پر نوازشریف نے اس کو ن لیگ کا ٹکٹ نہیں دیا تھا اور چند روز قبل صبح ایاز میر کے بیٹے نے اپنی بیوی سارا کو قتل کردیا۔۔معزز قارئین!! صحافت کا معروف نام ضیاء شاہد پر الزام تھا کہ اس نے لاہور کے معروف کاروباری علاقہ میں ایک بلڈنگ کرایہ پر لی اور بلڈنگ کے مالک پر توہین رسالت کا الزام لگوا کر گرفتار کروا دیا جو جیل میں قتل ہوگیا پھر کیا ہوا؟ ضیاء شاہد کا نوجوان، ہونہار اور شاندار بیٹا عدنان شاہد اچانک ہارٹ اٹیک سے انتقال کرگیا اور خود ضیاء شاہد مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر سسک سسک کر مرا۔ ضیاء شاہد جو اپنے غرور کی وجہ سے ہمیشہ اکڑ اکڑ کر بات کرتا تھا، زندگی کے آخری دس سال اس نے کبڑے ہو کر گزارے، کیونکہ اس کی کمر کے مہرے کینسر کی وجہ سے جواب دے گئے تھے۔ صحافی خوشنود علی خان کے بھائی خلیل ملک کو بھی ایک لڑکی نے قتل کردیا۔ عمران خان کا سابقہ چیف آف اسٹاف نعیم الحق ہمیشہ جھوٹ بولتا تھا اور الزام تراشی، تہمت اور پروپیگنڈہ کرتا تھا، اسے ایک خوفناک بیماری لاحق ہوگئی۔ آخری دنوں میں اس کے انتہائی قریبی لوگ بھی اس کے قریب نہیں جاتے تھے، اور پھر وہ سسک سسک کر اسی حالت میں مرگیا، جبکہ عہدہ وفاقی وزیر کا تھا۔ عمران خان اس کے جنازے تک میں شامل نہیں ہوا۔ معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت لوگوں کی عزتیں اچھالتا تھا. نقلیں اتارتا تھا، لوگوں پر کفر کے فتوے لگاتا تھا جس طرح مرا، سب جانتے ہیں، اسکی بیوی نے اسکی عزت ایسی اچھالی کہ دنیا ہی چھوڑ گیا، اللہ سے ھم سب کو ہمیشہ ڈرنا چاہئے۔۔۔۔ معزز قارئین!! جنرل عثمانی جنرل مشرف کے مارشل لاء کو مسلط کرنے والے کرداروں میں سے ایک تھا، اور فرعون کی کاپی تھا، کراچی کی ایک سڑک پر خستہ حالت میں اس کی لاش ایک کار سے برآمد ہوئی۔ جنرل مشرف اس وقت دوبئی کے ایک اسپتال میں ایک خطرناک بیماری کے ہاتھوں لمحہ لمحہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اس بیماری کا کوئی علاج بھی نہیں۔ موصوف بھی فرعونیت کی زندہ مثال تھے۔ جنرل احتشام ضمیر جو جنرل مشرف کے قریبی ساتھیوں میں تھے ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں آگ لگنے سے زندہ جل گئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے والے چیف جسٹس مولوی مشتاق کے جنازے پر شہید کی مکھیوں نے حملہ کردیا تھا اور لوگ جنازہ سڑک پر چھوڑ کر بھاگ نکلے، بالآخر اسے بغیر جنازے کے ہی دفنایا گیا۔ جنرل ضیاء الحق آسمانوں میں زندہ جل گیا اور آج فیصل مسجد میں اس کی قبر اس شعر کی عملی تفسیر ہے، قبر میں بس چند ہڈیاں ہی دفن ہیں، وہ بھی پتہ نہیں کس کی ہیں، "دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو” قدرت سب سے حساب لیتی ہے کچھ کا حساب کتاب سب کو نظر اجاتا ہے، کچھ کا پتہ نہیں چلتا لیکن وہ بحرحال بھگت رہے ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے ظلم نہ کریں جواب دینا پڑے گا۔ نا انصافی نہ کریں حساب دینا پڑیگا، قدرت کی چکی بہت باریک پیستی ہے۔ ملک اور قوم سے غداری نہ کریں۔ انجام بہت خوفناک اور بھیانک ہوگا۔ پیسے لے کر جھوٹ کو سچ نہ بنائیں۔ جو لکھیں جو کریں اپنے ضمیر کو جوابدہ بناکر لکھیں اور کریں۔ قدرت سے لڑنے کی طاقت ہے تو جو مرضی کریں، اگر قدرت سے نہیں لڑسکتے تو پھر انسان کے بچوں کی طرح زندگی گزاریں۔ بہت کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور بہت اچھی طرح پتہ ہے کہ عزت، دولت اور طاقت سب کچھ عارضی ہے اور ہر چیز کا حساب کتاب ہوتا ہے یہ ممکن ہی نہیں ظلم کریں اور بچ نکلیں ایک دن چکی کے پاٹ میں آنا ہی پڑتا ہے، البتہ دیر سویر ہوسکتی یے اور وقت بہت تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ آخر میں صرف پچھتاوا رہ جاتا ھے۔ اسی لیئے رب فرماتا ھے انسان خسارے میں ھے۔ جب شعور استعمال کرنا ھوتا ھے تو یہ خود سے لاشعور بن جاتا ھے اپنے نفسانی خواہشات کی تکمیل میں اوندھا منہ گرا رہتا ھے وہ جو مضبوطی سے اللہ کی رسی کو تھامے رکھتے ہیں اور صراط المستقیم پر چلتے ہیں رب انہیں دونوں جہاں میں عزت و وقار عطا کرتا ھے اور یہی درحقیقت کامیابی و کامرانی ھے۔ سب سے خوبصورت عبادت اور اللہ کو راضی کرنے کا طریقہ خلق انسانیت کی بے غرض بے لوث خدمت میں موجود ھے یہی وجہ ھے کہ آپ ﷺ نے بچپن سے چالیس سال تک بناء نفریق انسانیت کی خدمت کی آپ اعلان نبوت سے قبل صادق و امین کہلوائے ھم سب آپ ﷺ کی امت ہیں اور آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلنا ہی ھمارا نصب العین ھونا چاہئے ۔۔۔۔۔!!



