عنوان: مین شاہراہ حیدرآباد سے میرپورخاص

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: مین شاہراہ حیدرآباد سے میرپورخاص
کالمکار: جاوید صدیقی

آپ زیادہ دور نہ جائیں بس آصف علی زرداری کے دور اقتدار کو دیکھیں جب صدر وزیراعظم سے کہیں درجہ اختیارات رکھتا تھا اور اس وقت آئین میں ترمیم بھی نہیں کی گئی تھی یہ ترمیم آصف علی زرداری نے اپنے مصب صدر پر رھتے ھوئے تمام اہداف کو عبور کرنے کے بعد پھر ایک نمائشی حیٹیت بنا کر رکھ دی۔ آصف علی زرداری کا سب سے بڑا کھناؤنا عمل مین شاہراہ حیدرآباد سے میرپورخاص تھا جس پر آج تک میڈیا نے نہ کبھی بات کی اور نہ ہی کوئی سوال کیئے۔ یہ اس قدر اتنا بڑا معاملہ ھے کہ اندرخانہ بیشمار بے ضمیروں کا بازار لگا ھوا تھا اداروں کے سربراہوں کی چاندی لگ گئی تھیں اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز کی لچھمی ناچ رھی تھی بڑے پیمانے میں انتہائی نایاب درخت برآمد کیئے گئے اور جیسے کسی کو کانوں کان خبر نہ ھو اس سلسلے میں مکمل پلاننگ کی گئی تھی کہ کس کس کا منہ کس طرح بند کرنا ھے میڈیا کے عام رپورٹرز سے لیکر میڈیا مالکان کو خریدا گیا اور بیوروکریسی کو پابند کیا کہ اس بابت کوئی رکاوٹ نہ ھونے دی جائے۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسافر جانتے ہیں جنھوں نے اس راستے پر سفر کیا تھا کہ کس قدر کھنے جھنڈ کے جھنڈ چوڑے کشادہ مضبوط اور نایاب نسل کے درخت تھے۔ آصف علی زرداری نے وہ مین شاہراہ کو حیدرآباد ٹو میرپورخاص موٹروے سندھ کے شہریوں کیلئے ہرگز نہیں بنوائی تھی بلکہ اپنے وسیع و عریض پھیلتے باغات کھیت میں پیدا ھونے والی اجناس کی ترسیل کیلئے بنوائی تھی لیکن شہریوں گاؤں دیہات کے گزرنے والوں پر بھاری ٹول ٹیکس عائد کیا تھا وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ یہاں پر پورے پاکستان میں سب سے زیادہ لیا جاتا ھے۔ اپنے معزز قارئین کی یہاں توجہ دلاتا ھوں کہ اس قومی دولت کو کیا قومی خذانے میں جمع کرایا تھا۔ کیا ان قدرتی نایاب درختوں کو پاکستان کی مارکیٹ میں فروخت کیا گیا تھا۔ مجھے میرے کئی معزز قارئین نے بتایا کہ میڈیا کے بڑے بڑے نامور اینکرز جس میں کامران خان۔ شاہ زیب خان۔ کامران شاہد۔ شاہد مسعود۔ جاوید چوہدری۔ سلیم صافی۔ ارشاد بھٹی۔ حسن نثار ۔ چوہدری غلام حسین۔ وسیم بادامی۔ مہر بخاری۔ طلعت حسین۔ کاشف عباسی۔ عارف حمید بھٹی۔ مبشر لقمان۔ سہیل وڑائچ و دیگر نے کبھی بھی اس اہم اشو پر گفتگو نہیں کی اور نہ ہی اس وقت سے آج تک نیب کو یہ ممنوعہ میگا اشو نظر آیا بحرحال سندھ ھو یا پاکستان طاقتور جسے چاہیں نوچ لیں جسے چاہیں دبوچ لیں جسے چاہیں دھمکا دیں اور جسے چاہیں مار دیں یہ وکیل یہ جج اور یہ عدالتیں بازار ہیں موت کے سودا گروں کی لیکن انہیں برداشت نہیں کہ شرعی عدالت سپریم کورٹ سے بالاتر ھو انہیں برداشت نہیں کہ قرآن کا قانون لاگو ھو تو اسی ریاست میں ایسا ہی ھوتا ھے۔محب وطن لوگوں نے مطالبہ کیا ھے کہ مقتدر قوتیں پاکستان کے جانثار اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے لانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو منفی طاقتیں پاکستان کو ناتلافی نقصان سے دورچار کرسکے ہیں۔ پاکستان کا اللہ ہی حافظ ھو۔۔۔۔۔!!




