کالم/مضامین

عنوان: مودی حکومت کے حملے, بھارتی صحافت قصہ پارینہ بن جائیگی

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: مودی حکومت کے حملے, بھارتی صحافت قصہ پارینہ بن جائیگی

کالمکار: جاوید صدیقی

اگر دنیا صحافی برادری کے خلاف مودی حکومت کے حملوں کو روکنے میں ناکام رہی تو بھارت میں صحافت قصہ پارینہ بن جائیگا بھارت کے زیرِ قبضہ واحد مسلم اکثریتی علاقے جموں و کشمیر میں صحافیوں کو سنسر شپ کی دیگر اقسام کے علاوہ مقامی پولیس اسٹیشنوں میں متواتر طلب کیا جارہا ہے، انکے پس منظر اور کوائف کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں جس سے صحافی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ”دی وائر” میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گزشتہ دو سال میں کم از کم چالیس کشمیری صحافیوں کو انکا پس منظر جاننے کیلئے بلایا گیا، انکے کام اور سوشل میڈیا پر طرزِ عمل کی وضاحت کیلئے طلب کیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق کئی کشمیری صحافیوں کو بیرونِ ملک سفر کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ کم از کم چھ کشمیری صحافیوں پر باضابطہ طور پر دہشت گردی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ نریندر مودی کے دور میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافت کی حالت پر برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق "میڈیا کیلئے قتل ہونے والے کسی شخص کے رشتہ داروں کے بیانات کو رپورٹ کرنا جرم ہے اگر وہ موت کی وجہ، پوسٹ مارٹم یا پولیس موقف پر سوال اٹھاتے ہیں؟” رپورٹرز ود آٹ بارڈرز کے مرتب کردہ ایک سو اسی ممالک کے سالانہ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں گزشتہ سال بھارت دو درجے گر کر ایک سو بیالیس ویں نمبر پر تھا۔ بھارت میں صحافیوں پرحملوں کا حوالہ دیتے ہوئے بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ھے کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت صحافیوں کیلئے غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے۔ گیتا سیشو کیجانب سے فری اسپیچ کلیکٹو کیلئے کی گئی ایک تحقیق کیمطابق سنہ دو ہزار بیس میں سرسٹھ صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً دو سو پر باضابطہ حملے کئے گئے۔ ایک صحافی جو ریاست اتر پردیش میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی کوریج کرنے جارہا تھا، پانچ ماہ سے جیل میں ہے۔ دہلی میں مقیم فری لانس صحافی نیھا دکشت کا کہنا ہیکہ ان کا پیچھا کیاگیا، کھلے عام عصمت دری اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں، بری طرح سے ٹرول کیا گیا اور ان کے اپارٹمنٹ میں گھسنے کی کوشش کی گئی۔ رواں ہفتے پولیس نے ایک اور فری لانس صحافی روہنی سنگھ کو مبینہ طور پر قتل اور عصمت دری کی دھمکیاں بھیجنے کے الزام میں قانون کی ایک طالبہ کو گرفتار کیا جن صحافیوں نے خاموش ہونے سے انکار کیا، ان پر حملے کئے گئے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک آزاد صحافی اور ایڈیٹر فہد شاہ پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ پی ایس اے کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے جسکے تحت انہیں دو سال تک بغیر کسی مقدمے کے جیل میں رکھا جاسکتا ہے اور ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف حکومت کے کریک ڈان کی رپورٹنگ کی تھی۔ صحافت کے خلاف اس جنگ میں نریندر مودی حکومت نہ صرف دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے ذریعے صحافیوں پر حملہ کررہی ہے بلکہ حکومتی ہمدردوں اور ان کی سوشل میڈیا فوج کے ذریعے منظم حملے بھی کر رہی ہے۔ آن لائن دھمکیاں اور سوشل میڈیا پر ہراساں کرنا بھارت میں خواتین صحافیوں کیلئے ایک معمول بن چکا ہے جسکا واحد مقصد ملک میں آزاد میڈیا کو روکنا ھے۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You