کالم/مضامین

عنوان: میرا وطن پچھتر سال کا ھوگیا۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: میرا وطن پچھتر سال کا ھوگیا۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

اپنے معزز قارئین کو بتاتا چلوں کہ میں اسی سر زمین پاکستان میں پیدا ھوا ھوں اپنی ابتک کی تمام عمر یہیں بسر کی ھے اور کرتا رھوں گا پوری زندگی کبھی بھی کسی بھی ملک کی جانب رغبت نہیں رہی نہ کبھی سٹیزن کا سوچا بس عمرہ ادا کرنے رب کی بارگاہ اور دربار نبوی میں گیا۔ میرے والد سردار حسین صدیقی مرحوم علیگرین نے ھمیں پاکستان سے جان سے زیادہ محبت کرنے کا سبق دیا اور گندی سیاست سے ہمیشہ دور رھنے کی تلقین دی میری تحریر میں جو سچ و حق کی کڑواہٹ اور صاف گوئی نظر آتی ھے وہ تربیت کا حصہ ھے ۔۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! اپنے وطنِ عزیز کو ہر خوبصورت نام اور اعزاز سے پکارتا ھوں پاکستان میرے دل کی دھڑکن ھے پاکستان میری آنکھوں کا تارا ھے پاکستان میرا مان ھے پاکستان میرا غرور ھے اور پاکستان میرا فخر ھے کیوں نہ میں اپنے وطن پر واری واری جاؤں کیونکہ یہ میرا عشق ھے میرا جنون ھے اور میرا پیار بھی ھے۔ دعا ھے میرے وطن کو الله منافقوں غداروں حاسدوں اور بغضیوں سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ رکھے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! میرے والد محترم مجھے تربیت دیتے ھوئے کہا کرتے تھے کہ بیٹا اللہ نے لاکھوں ایمان یافتہ تحریک پاکستان کے کارکنوں کی شہادت کے بعد پاکستان عطا کیا ہزاروں بہن بیٹاں ظالموں کے ظلم کا شکار ھوئیں بیشمار معصوم بچے بھی شہید ھوئے اسلام زندہ ھوتا ھے ہر کربلا کے بعد گویا اسلامی ریاست کیلئے بھی قربانیاں درکار تھیں جو ادا کی گئیں۔ والد محترم کہا کرتے تھے کہ اللہ جنہیں بے پناہ پسند فرماتا ھے انہیں قربانی کے عمل سے ضرور گزارتا ھے اس آزمائش پر مسلمان خوشی خوشی قربان ھوتا ھے کیونکہ دین الہٰی کا منشاء یہی ھوتا ھے۔ والد محترم نے کچھ قربانیاں یاد دلائیں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں جھونکنا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زبح کیلئے تیار ھوجانا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پر چڑھانا مگر اللہ نے آسمان پر اٹھالیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم عبداللہ کی قربانی کا حکم ملنا اور پھر سو اونٹ قربان کرنا گوکہ اللہ کی وحدانیت اور دین کے پھیلاؤ کیلئے قربانی لازم و ملزوم رہی ھے اور اب پاکستان کی سلامتی و بقاء کیلئے افواج پاکستان اور پیراملٹری کے جوانوں کی قربانی قابل تحسین قابل تعریف اور ناقابل فراموش ہیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! میرا وطن پچھتر سال کا ھوگیا ھے مجھے یاد ھے کہ معروض پاکستان کے وقت حسدوں جلن رکھنے والوں نے کہا تھا کہ پاکستان زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکے گا لیکن انہیں مایوسی ہوئی اور مزید تکلیف اس وقت پہنچی جب اللہ نے پاکستان کو ایٹمی طاقت سے نوازا۔ دشمن یہ سمجھتا ھے کہ وہ اپنے کارندوں سہولتکاروں کے ذریعے پاکستان کو کمزور کردے گا مگر وہ بھول گیا ہے کہ پاکستان کو الله اور اس کے حبیب ﷺ کی مرضی سے معروضِ وجود میں آیا ھے۔ پاکستان کے ایک سال بعد شدید علالت کی وجہ سے میرے عظیم قائد عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات پاگئے۔ آپ کی وفات کے بعد جب نماز جنازہ کا معاملہ آیا تو وہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ھوں۔ نامور دیو بندی عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی نے ایک رات خواب میں اپنے استاد محترم کو دیکھا۔ جنہوں نے انہیں بتایا کہ انہوں استاد نے خواب میں حضور اکرم ﷺ کو مدینہ میں اپنے گھر سے باہر آتے ہوئے دیکھا۔ وہاں پر ہندوستان کے علماء صف بستہ کھڑے تھے۔ قطار کی دوسری طرف حضور ﷺ نے ایک دبلے پتلے، لمبے یورپی لباس پہنے عمر رسیدہ آدمی کو دیکھا جو ملاقات کا منتظر تھا۔ لوگوں نے کہا کہ وہ مسٹر جناح ہیں۔ نبی اکرم ﷺ علماء کی جانب سے منہ پھیر کر سیدھے جناح کی طرف گئے اور انہیں سینے سے لگا لیا۔ دوران خواب مولانا شبیر احمد عثمانی کو ان کے استاد نے حکم دیا کہ قائد اعظم کے پاس جاﺅ اور فوراً اس کے سیاسی مرید بن جاﺅ چنانچہ مولانا نے قائد اعظم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ قائد نے نواب شمس الحسن، آفس سیکرٹری مسلم لیگ، کو مولانا کے قیام دہلی کے دوران ان کی مناسب دیکھ بھال کا حکم دیا۔ بحوالہ “ A Nation That Lost its Soul -صفحہ 219 ۔۔۔ معزز قارئین!! میرا قائد نہ صرف عظیم تھا بلکہ وہ اس مقام پر تھا جس کی ہر مسلمان خواہش رکھتا ھے مگر یہ مقام کسی کسی کو نصیب ھوتا ھے۔ ایسے عظیم قائد کی رہبری میں ہمیں الله نے دنیا کی دوسری اسلامی ریاست عطا کی۔ اؤل نظریہ اسلام پر قائم ھونے والی ریاستِ مدینہ اور دوسری نظریہ اسلام پر قائم ھونے والی ریاستِ پاکستان۔ یاد رکھئے دشمانانِ پاکستان تھک جائیں گے ہارجائیں گے مگر اس وقت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کتے بھونکتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ ہڈی اٹھا کر بھاگ جاتے ہیں وہی ہڈی اس کے حلق میں پھنس بھی جاتی ھے۔ پاکستان کئی بار ایسے کتوں سے نبردآزما ھوتا رھا ھے اور تا حال یہی صورت حال بھی جاری ھے ۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان کے معروضِ میں آنے کے ایک سال بعد قائد اعظم محمد علی جناح پچیس دسمبر سنہ انیس سو اڑتالیس میں خالقِ حقیقی جاملے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے بہترین مشیر بہترین وزیر بہترین انسان نواب لیاقت علی خان نے ریاستِ پاکستان کی ذمہداری سنبھالی مگر دشمنانانِ پاکستان کو ایک مخلص ایماندار سچا نڈر بہادر لیڈر برداشت نہیں تھا بلآخر سولہ اکتوبر سنہ انیس سو اکیاون کو راولپنڈی میں ایک جلسہ کے دوران آپ کو فائرنگ کرکے شہید کردیا اس طرح منافقوں غداروں کا راستہ صاف ھوگیا اور ریاستِ پاکستان کے حساس معاملات میں شامل ھوگئے۔ یہاں یاد دلاتا چلوں کہ اس تمام سازشوں میں سب سے بڑا کردار قادیانیوں اور منافقوں کا رھا ھے جو ابتک پاکستان کو برباد و تباہ کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے ہیں۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان ان بدنصیب ممالک میں سے فہرست میں اؤل ھے جہاں کی اشرفیہ جمہوری ٹھیکیدار مذہبی حلقے نوکر شاہی طبقے اور منصفین تاجر زمیندار سوائے اپنی نفس کی خواہشات کے کچھ نہیں کرتے ان کی مادیت پرستی کا یہ عالم ھے کہ نہ صحیح دیکھتے ہیں نہ غلط بس بھوکے کتوں کی طرح جھپٹتے رہتے ہیں اسی سبب نہ ترقی امور اور خوشحالی کو تقویت میسر آئی ہیں۔ عوام کو منقسم کردیا گیا تاکہ عوام آہنی دیوار نہ بن سکے رہی بات ھماری عسکری قوت کی ایوب کا مارشل لا ضیاء کا مارشل لا اور مشرف کی ایمرجنسی ان جنرلز نے نظام کو بہتر کیوں نہیں بنایا یوں تو یہ کہتے تھکتے نہیں کہ ھم بہت ڈسیپلین رکھتے ہیں یہ خوبی پچیس سال سے زائد حکمرانی کرنے کے باوجود سول انتظامیہ کو برباد کیوں چھوڑا کیا یہ ریاست پاکستان کے ادارے نہیں تھے۔۔۔ پاکستانی آرمی آفیسرز نے ایک مشن تیار کیا اس مشن میں ایماندار سچے نیک پرہیز گار متقی جنرلز پر مشتمل ٹیم تھی جس کی قیادت میجر جنرل ظہیر الااسلام عباسی کررھے تھے۔
اس مشن کا مقصد بینظیر بھٹو کا تختہ الٹ کر اسلامی نظام رائج کیا جانا تھا مگر افسوس یہ سازش اس وقت بے نقاب ہوئی جب رکن قاری سیف اللہ اختر کو گرفتار کیا یقیناً اگر یہ مشن کامیاب ھوجاتا تو آج پاکستان کہاں کھڑا ھوتا میرا ایمان ھے اور یقین بھی کہ پاکستان بنا اسلامی نظام کے نہ ترقی کرسکتا ھے اور نہ ہی خوشحال آج پچھہتر سال میں عوام کا جینا محال ھوچکا ھے پاکستان معاشی و اقتصادی طور پر تباہ ھوگیا ھے بے انتہا مہنگائی اور بدتر نچلی سطح پر کرنسی ان سب اشرفیوں نے ڈوبا دیا ھے کسی اچھے گمان میں نہ رہنا کیونکہ پاکستان کی بربادی میں یہ سب کے سب قصور وار ہیں۔ عوام کو جوش سے نکل کر ہوش سے کام لینا ھوگا۔ بندروں کی طرح ڈگڈگی پر ہرگز ناچنا نہیں ھوگا اور میٹھی چپٹی باتوں میں ہرگز ہرگز نہیں آنا ھوگا۔۔۔۔ معزز قارئین!! من حیث القوم ھمیں اپنے وطن کی ترقی خوشحالی بہتری کیلئے اپنی اپنی حیثیت میں مثبت سوچ کیساتھ مثبت امور سر انجام دینے چاہئیں وہ امور جن سے ملک و قوم اور قومی خذانے کو نقصان پہنچے فوری رد عمل پیش کرنا چاہئے تاکہ منفی طاقتیں اور مافیا کے حوصلے پست ھوجائیں۔ قانون ساز سے لیکر قانون نافذ کرنے والوں کو اپنی سوچ افکار اور توجہ کو صرف اور صرف ملک و قوم سے مرکوز رکھنا چاہئے یاد رھے کہ ملک و قوم کسی بھی سیاسی و دینی جماعت سے بالاتر ھے ھم نے پچھہتر سالوں سے ملک و قوم پر اپنی اپنی سیاسی و دینی جاعتوں کو اہمیت دی تو دیکھ لیا آج ھم کس حال میں ہیں دوسری بات یہ ھے کہ آج کے حالات میں میڈیا کی سب سے بڑی ذمہداری بنتی ھے کہ وہ اس ریاست پاکستان یعنی ملک و قوم کیساتھ کھڑی ھوجائے اور نا جائز دولت کی ہوس کے خاطر جھوٹوں مافقوں کا ساتھ دیکر ان کا تحفظ کرکے قومی مجرم نہ بنیں۔ آپ کو تو ان اقتدار پر برجمان ھونے والوں سے سوال کرنا چاہئے کہ کس کس نے ملک و قوم کیلئے حقیقی معنوں میں خدمات پیش کی ہیں کیا ان کی روڑ پل اور دیگر ترقیاتی کام دیرپا رھے ان سے یہ بھی پوچھیں کہ جنھیں ٹھیکہ دیا جاتا ھے ان سے وارنٹی گارنٹی معاہدے طے کرکے لی جاتی رہیں ہیں یقیناً نفی میں جواب آئیگا کیونکہ یہ عوام کے ٹیکس کا روپیہ ھے بے دریغ استعمال کرو کیا نظام یونہی چلتا رہیگا میرے منہ میں خاک یہ نظام پاکستان کو ڈوبا سکتا ھے بہتر یہی ھے اس نظام سے فی الفور چھٹکارا حاصل کرلیں یہ ملک ھے تو ھم ہیں یہ ملک نہیں تو کچھ بھی نہیں من حیث القوم ہمیں ابھی سے بیدار ھونا پڑیگا بصورت دشمن ھماری چھاتیوں پر آلپکے گا یہ حقیقت ھے کہ پاکستان کو ہر طرح کا کمزور کرنے میں کردار ادا کیا اس غیر ذمہداری میں ہماری اشرفیہ سیاستدان بیوروکریٹس عسکری اور منصفین کسی طور بری نہیں۔ پاکستان کا اللہ ہی حافظ ھو دعا ھے الله پاکستانیوں میں عقل و شعور میں اضافہ کردے اور با اختیاروں کو ایمان عطا فرمادے آمین یا رب اللعالمین ۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You