
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ روس اوریوکرین تنازع حل کرنے میں او آئی سی کردار ادا کرے، دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو کسی بلاک میں تقسیم اور تنازعات میں اُلجھنے کی بجائے امن کیلئے اپنی طاقت ظاہر کرنی چاہیے، عالمی قوانین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود فلسطین اورکشمیر کے مسلمانوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے عمل سے سب سےزیادہ مغرب میں مسلمان متاثرہوئے۔ وہاں ہر دہشت گردی کے بعدفوری الزام اسلام پرلگایا جانے لگا۔ کوئی معاشرہ کیسے چند جنونیوں کی حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ ہم اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھیں گےتو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ 1989 میں شیطانی آیات کے نام سے مسلمان نے گستاخانہ کتاب لکھی ،اس کے بعد دانشورانہ رویہ اپنانے کی بجائے معذرت خواہانہ رویہ اختیارکیاگیا۔مسلم دنیاکی جانب سے اس حوالے سےمشترکہ طورپر جواب نہیں دیاگیا۔ اس کےبعد تسلسل سےگستاخانہ مواداور کارٹون شائع کئے گئے۔خوشی ہے کہ پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیاگیا کہ اسلامو فوبیا ایک نفرت انگیز چیز ہے ۔ ہمیں اپنے بیانیے کو آگے لے کر جانا چاہیے۔ پاکستان دنیا میں اسلام کے نام پرقائم ہونے والا واحد ملک ہے جس کی قرار داد مقاصد میں ریاست مدینہ کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ قائم کئے جانے کا تصور دیاگیا۔ میں ریاست مدینہ کی بنیاد پر فلاحی ریاست کے قیام کے لئے سیاست میں آیا۔ دنیا کی سب سے پہلی جدید فلاحی ریاست حضرت محمدﷺ نے بنائی۔ انہوں نے ایک بہترین تہذیب اور اسلامی تاریخ کی بنیاد رکھی ۔ ریاست مدینہ ایک عظیم انقلاب تھا۔نبی پاکﷺ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری امت کے لئے رحمت اللعالمینؐ تھے۔
وزیراعظم نے کہاکہ جن ممالک نے ریاست مدینہ کے اصول اپنائے انہوں نے خوشحالی پائی۔نبی ﷺ کی 10 سالہ مدینہ کی زندگی میں صرف 1200 افرادمارے گئے اور تمام عرب پر مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہو گئی۔ یہ اس لئے ممکن ہوا کہ وہاں پرقانون کی حکمرانی تھی ، کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا۔ غریب ممالک میں غربت کی بنیادی وجہ وائٹ کالر مجرموں کو نہ پکڑنا ہے۔ وہاں وسائل کی کمی نہیں ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سالانہ 1.6 ارب ڈالرز ان ممالک سے نکالے جاتے ہیں، ترقی پزیر ممالک میں غربت وسائل کی کمی نہیں کرپشن کے باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم اس ملک کو اصل ریاست مدینہ بنانا چاہتے تھے، مغرب میں اپنے جانوروں کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے جتنا ہم اپنے انسانوں کا بھی نہیں کرتے، سوئٹزرلینڈ میں قانون کی حکمرانی 99 فیصد ہے وہاں وسائل نہ ہونے کے باوجود دنیا کا خوشحال ملک ہے۔ جو بھی مدینہ کی ریاست کے ماڈل پرچلے گاوہ خوشحال ہو گا۔ علم مومن میراث ہے۔ اسلام میں اس کی اہمیت کااندازہ اس حدیث سے ہوتاہے جس میں نبی کریم ﷺ نے حکم دیاکہ علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے۔ آج مسلم دنیا اس میدان میں بہت پیچھے ہے۔ خواتین کو ان کا حق دیا جانا نبی اکرم ﷺ کی جانب سے ایک انقلابی قدم تھا ۔ 1400 سال قبل خواتین کو یہ حق دے دیا گیا۔یہ وہ نظام ہے جو مدینہ کی ریاست نے دیا۔ یہ اسلام ہی تھا جہاں غلام بادشاہ بنتےتھے ، بھارت میں ایک پورا خاندانِ غلامہ گزرا ہے جس نے حکمرانی کی ۔ 600 برس قبل برطانیہ میں قانون کی حکمرانی کے لئے میگنا کارٹاپر دستخط کئے گئے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مغرب میں جتنا جانوروں کا خیال رکھاجاتاہم اپنے انسانوں کا نہیں رکھتے۔وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں 70 فیصد خواتین کو وراثت میں حق نہیں دیاجاتا۔ہم نے اس حوالے سے قانون سازی کی ہے۔ ریاست مدینہ میں غلاموں سے خاندان کے افراد کے مساوی سلوک روا رکھاجاتا تھے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48 ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سےخطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ، اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر سلیمان الجاسر، سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل فاران بن السعود ، چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، قازقستان کے نائب وزیراعظم ، تیونس کے وزیرخارجہ کے علاوہ دیگر نےبھی خطاب کیا۔
وزیراعظم نے 48ویں وزرائے خارجہ کونسل کے شرکا کاخیرمقدم کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہاکہ آپ ایک ایسے وقت میں یہاںموجود ہیں جہاں ہم پاکستانی اپنا 75 واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منائے جانے کی قرار داد کی اقوام متحدہ سے منظوری ایک بڑی کامیابی ہے، اس پر اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ 15 مارچ کو یہ دن منانے کا انتخاب اس لئےکیا کہ 15 مارچ کو ہی نیوزی لینڈ میں ایک مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہو کر 50 مسلمانوں کو شہید کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تمام مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتا تھا۔ نائن الیون کے بعد بد قسمتی سے ایسا بیانیہ بنایا گیا جس میں اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑاگیا۔ مسلم ممالک نے اس بیانیہ کے تدارک کے لئے کچھ نہیں کیا، اسلام کیسے دہشت گردی کے برابر ہو سکتا ہے، کوئی ملک مسلمانوں کے درمیان جدت ، روشن خیالی اور انتہا پسندی کی بنیاد پرکیسے تفریق کرسکتاہے ،مسلم ممالک کو اس پرکھڑے ہوناچاہیے تھاتاہم ہماری اکثر ریاستوں کے اس وقت مسلم حکمرانوں نے اس پر ٹھوس موقف اختیار کرنے کی بجائے اپنے آپ کو روشن خیال اوراعتدال پسند قرار دیا جس سے بدقسمتی سے یہ تاثر بن گیا اسلام میں لبرل ، ماڈریٹ اور ریڈیکل مختلف قسمیں ہیں لیکن اسلام صرف ایک ہی اور وہ محمد عربی خاتم النبین ﷺ کا اسلام ہے۔



