
سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے ہائی پروفائل مقدمے کی کارروائی نہ صرف مقامی میڈیا پر مسلسل نشر ہوتی رہی بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس کی گونج سنائی دی۔
اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ گذشتہ برس 20 جولائی کو ہونے والا یہ قتل اسلام آباد کے پوش علاقے میں ہوا اور اس سے منسلک افراد اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ جس طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا گیا، اس نے لوگوں کو دہلا دیا اور پورے شہر میں سنسنی پھیل گئی۔
یہی وجہ ہے کہ اس کیس میں بےحد دلچسپی لی گئی اور عدالت میں کارروائی کے دوران اس کیس کے ایک ایک پہلو کا میڈیا میں تفصیل سے ذکر ہوا۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کسی مجرمانہ کیس کی سماعت میں اس قدر دلچسپی کی دوسری مثال نہیں ملتی۔
ہر سماعت کے وقت عدالت میں سینکڑوں صحافیوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا جو وہاں ہونے والی چھوٹی سی چھوٹی بات، معمولی سے معمولی قانونی نکتے اور ملزموں کے لباس سے لے کر بولنے کے انداز تک کی ہر تفصیل اپنے اداروں کو لائیو بھیجتے تھے۔
اس مقدمے کی سماعت کے دوران کئی ڈرامائی واقعات بھی پیش آئے۔ مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں چیخ پکار کی اور ان کی ذہنی صحت پر بھی سوال اٹھے۔
اس کے علاوہ ملزم نے پہلے نور مقدم کو قتل کرنے کا اعتراف کیا، لیکن بعد میں وہ اپنے بیان سے پھر گئے اور کہا کہ یہ قتل کسی اور نے کیا ہے۔
’میں امریکی شہری ہوں‘
ایک موقعے پر یہ ظاہر نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی شہری ہیں (I am an American citizen)۔ اس کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ کہیں ریمنڈ ڈیوس کی طرح انہیں بھی بچ نکلنے کا موقع نہ مل جائے۔
تاہم جب انڈپینڈنٹ اردو نے امریکی سفارت خانے کے عہدیداروں سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ظاہر جعفر کے پاس بےشک امریکی شہریت ہے لیکن ان کا ریمنڈ ڈیوس یا کسی اور کیس سے موازنہ نہیں بنتا کیوں کہ ’ظاہر جعفر سفارتی اہلکار نہیں ہیں اس لیے انہیں کوئی سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے، بلکہ وہ عام شہری ہیں اور وہ پاکستانی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں ایک بہیمانہ قتل کیا ہے، جس کی سفارت خانہ قطعاً کوئی حمایت نہیں کرتا۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔‘
امریکہ سفارت خانے نے اس بارے میں ایک ٹویٹ بھی کی جس میں کہا گیا کہ امریکی شہری کسی ملک میں جرم کریں تو وہ اس ملک کے قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ امریکی سفارت خانہ صرف انہیں وکیلوں کی فہرست فراہم کر سکتا ہے، مگر قانونی مشاورت نہیں دے سکتا، نہ عدالت کی کارروائی کا حصہ بن سکتا ہے۔
ظاہر جعفر کو اردو آتی ہے یا نہیں؟
کیس کے آغاز میں جسمانی ریمانڈ کے دوران جب ملزم کو کچہری میں پیش کیا جاتا تو وہ صحافیوں کو دیکھ کر خالص امریکی لہجے میں انگریزی بولتے، جس کی وجہ سے تاثر ابھرا کہ شاید انہیں اردو زبان نہیں آتی۔ جب ملزم کو پیش کیا جاتا تو باہر موجود صحافی اپنی بساط کے مطابق حتی الامکان کوشش کرکے انگریزی میں ظاہر جعفر سے بات کرتے اور نور مقدم کو قتل کرنے کی وجہ جاننا چاہتے۔
تاہم جب ہم نے کیس کی تفتیش سے منسلک اعلیٰ پولیس افسران سے پوچھا گیا کہ ’کیا ظاہر جعفر کو بالکل اردو نہیں آتی؟‘ تو انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف اردو بلکہ پنجابی بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔
اس انکشاف کے بعد کچہری میں صحافیوں نے ظاہر سے اردو میں سوال کرنا شروع کر دیے۔
کیمرے چھیننے کی کوشش
ایک موقعے پر ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی نے میڈیا کے کیمرے چھیننے کی بھی کوشش کی تھی اور عدالت سے کہا تھا کہ میڈیا کو کمرہ عدالت میں نہ آنے دیا جائے۔
اس پر صحافیوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔ اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں قتل کے کئی مقدمات روزانہ کی بنیاد پر لگے ہوتے ہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ تھا، جس کی وجہ سے ایف ایٹ کچہری میں میڈیا نمائندوں کی بڑی تعداد آتی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ کیس سوشل میڈیا پر بہت پذیرائی حاصل کر رہا تھا۔ مقتولہ نور مقدم خود ایک ایکٹویسٹ بھی تھیں اور عورت مارچ میں شریک ہوا کرتی تھیں۔
ملزم نے مختلف رنگ بدلے
دو ماہ ریمانڈ کی کارروائیاں اور چار ماہ ٹرائل کے دوران ظاہر جعفر نے مختلف رویے بدلے۔ آغاز میں انہیں یہ گمان تھا کہ وہ امریکی شہری ہیں تو امریکی سفارت خانہ انہیں بچا لے گا لیکن جب سفارت خانے نے اپنا موقف واضح کر دیا تو انہوں نے عدالت آتے وقت غصے اور اکھڑ پن کا مظاہرہ کیا اور پولیس والوں سے ہاتھا پائی بھی کی۔
جب انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تو انہوں نے جیل کا کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور بسکٹ کھا کر گزارا کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں ان کی والدہ عصمت آدم جی کی ضمانت کے بعد ان کے گھر سے کھانا جیل لے جایا جاتا تھا۔
نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کی کرسی کے بعد سٹریچر پر پیشی pic.twitter.com/u8YjisUkhS
— Independent Urdu (@indyurdu) January 20, 2022



