کالم/مضامین

عنوان: پاکستانی قوم کی کامیابی نظامِ مصطفیٰ میں ہے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: پاکستانی قوم کی کامیابی نظامِ مصطفیٰ میں ہے۔۔۔؟؟

بڑی عجیب بات ھے کہ مذہبِ طور پر دنیا بھر میں ماننے والے سب سے زیادہ پیروکار مذہبِ اسلام سے تعلق رکھتے ہیں۔فیض محمد سیال صاحب میرے بہت اچھے دوستوں میں سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جس امت کو کاٹ کر ستاون ملکوں میں تقسیم کیا گیا ہو اور بائیس ملکوں میں براہِ راست جنگ مسلط کی گئی ہو وہ امت شام میں کٹنے والوں اپنے جسم کے حصے پر تو خاموش ہے مگر اک کھیل پر ایسے سیخ پا ہے جیسے مقصد ہی یہی ہو۔
ہمارے ہاں کرکٹ کو جنگ سمجھا جاتا ہے اگر کوئی ٹیم واپس گئی تو یہ وہ اوقات ہے جو ہمیں دکھائی گئی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ پوری فیسبک بھری پڑی ہے اس نیوزی لینڈ ٹیم کی واپسی پر۔ ایسا ملک جہاں ٹیم کو ایسے لے جایا جارہا ہے جیسے بارڈر پر سخت جنگ ہے اور جنگ کی تیاری کیساتھ جایا جارہا ہے اگر ملک کے حالات ایسے ہو کہ آپکو باون گاڑیاں سیکیورٹی پر رکھنی پڑیں تو ایسے ملک کو کرکٹ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ملک کے حالات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ جہالت کا یہ عالم ہے اب لوگ اس بات پر اتر آئے کہ اچھا ہوا تھا نیوزی لینڈ ورلڈ کپ ہارا تھا ہم لوگ کہاں کھڑے ہیں؟؟ جس ملک میں عوام پرآئے روز مہنگائی کے بم گرائے جاتے ہوں جس ملک میں لوگ بھوک کی وجہ سے خود کشیاں کررہے ہوں، اسپتالوں میں بنیادی صحت کی سہولیات میسر نہ ہوں، جس ملک کے تعلیمی سسٹم میں بچوں کو غلام بننے کی سوچ دی جارہی ہو اور سہولیات میسر نہ ہوں، جہاں ریاست کا وزیر مظلوم کی بیٹی کو دشمنی کی بنیاد پر ننگا کرکے ڈیرہ غازی خان کی سڑکوں پر دوڑائے اور قانون کو سانپ سونگھ جاتا ہو، جہاں بحث یہ ہو کہ پردہ اک عورت کی راہ میں کیسے حائل ہے۔ جہاں لوگوں کو اسلام کا نام لگا کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا ہو کہ آپکی ریاست اسلامی ہے اور وہاں کی عوام کا اتنا شعور بیدار نہ ہو کہ ہماری اوقات اور حقیقت کیا ہے تو کیا ایسے ملک میں کرکٹ اتنی ضروری ہے کہ باون گاڑیوں کے پروٹوکول میں دو شہروں کی عوام (راولپنڈی اور اسلام آباد) کے راستے بند کرکے اور پورے ملک میں ہائی الرٹ کرکے کرکٹ کا میچ کھلایا جائے۔ کیا کرکٹ اتنی ضروری ہے اس غریب عوام کے ٹیکس سے یہ ڈرامے رچائے جائیں؟؟
آپکی شان عزت ہے کہاں جو اب رونا روتے ہو بے عزتی ہو گئی۔ کیا انٹرنیشنل لیول پر تم نے اپنے لوگوں کے سودے چند ڈالروں کے عوض نہیں کیے؟؟؟ اور ایک ایسے ملک میں کرکٹ کو مسیحا بنا کر پیش کیا جارہا ہو جہاں یہ پوسٹ لکھتے ہوئے بھی یہ بات ذہن میں آئے کہ کہیں میری اس بات پر ویگو ڈالے کا انتطام نہ کردیا جائے۔ مظلوم امت کتنی سادی ہے ہم سے کیا کیا توقعات لیئے بیٹھی ہے اور ہم انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ معزز قارئین!! جو حکمران وزراء مشیران اور بااختیار افسران جھوٹ بولنے سے شرمندہ نہ ہوتے ہوں وہ انتہائی منافقت کے عمل اور لبادے میں لپٹے ہوتے ہیں۔ میں بحیثیت ایک طالبعلم کے یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ جھوٹ اُم الگناہ اُم الخبائث اور اُم المنافقین ہے۔ جھوٹا انسان کسی طور مومن ہو ہی نہیں سکتا یہ میں نہیں کہہ رہا یہ قرآن اور حدیث کا فرمان ہے۔ مسلم حکمران ہوں یا مسلم سپہ سالار اس وقت سچے نیک پرہیزگار منجانب الله مقرر ہوتے ہیں جب قومیں بھی سچی اور ایماندار ہوں گویا یوں سمجھ لیجئے کہ مالی جس قدر باغبان پر محنت و توجہ سے سنواریگا اسی قدر باغ بھی خوبصورت اور حسین نظر آئیگا یہی حال قوموں اور امت کا ہے۔ رہی بات پاکستان کی تو یہاں آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ہر کوئی ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ اب تو شریف النفس اعتدال پسند صابر و شاکروں کی تعداد قلیل سے قلیل تر ہوتی جارہی ہے کون غریب کون امیر کوئی بھی جھوٹ اور دھوکے بازی سے باز نہیں آرہا ہے۔ ملکی حالات کے ذمہدار ہم خود ہیں ہم نے سمجھ لیا ہے کہ نماز و روزہ کی پابندی اور صدقہ خیرات کرنے سے ہم الله اور اسکے حبیب کا قرب حاصل کرلیں گے لیکن ہم اس میں بھی خود کو دھوکہ دے رہے ہیں کیونکہ بیشمار مالدار اپنی دولت کا ڈھائی فیصد بھی زکواۃ ادا نہیں کرتے اس خوف سے کہہ ان کی دولت کا شمار ہوجائیگا دوسری جانب بیشتر غربت کا لبادہ اوڑھ کر سفید پوش مستحقین کے حق پر ڈاکہ ڈالنے سے باز نہیں آتے جہاں نفسا نفسی کا یہ حال ہو وہاں رحمتیں کیونکر نازل ہونگیں دوسرا یہ کہ محنت کش طبقہ جس قدر کام چور بے ایمان اور جھوٹا ہوچکا ہے سوائے افسوس کہ کیا کہوں۔ اکثر پاکستان بھر میں دیکھا یہ گیا ہے کہ امیر امراء حضرات غریب لوگوں کیلئے مفت دستر خواں لگاتے ہیں مگر روزگار نہیں دیتے۔ دواساز کمپنیوں کے مالکان کو توفیق نہیں کہ جان بچانے والی ادویات کی نرخ اس طرح رکھیں کہ ایک عام آدمی بھی خرید سکے۔ ہمارے ملک پاکستان میں نہ عدل ھے نہ انصاف اگر ہے تو غنڈہ گردی اور بدمعاشی۔ سرکاری اختیارات کا بے جا استعمال پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹیکس کے عیوض سہولیات کے بجائے اذیت اور کوفت دی جاتی ہیں گویا اس ملک میں صرف اشرفیہ بیوروکرٹیس اور منصفین جتنا ظلم و بربریت کریں یہ سب قانون مبرا ہیں۔ حالیہ تین سالوں میں جس قدر مہنگائی نے پرواز کی ہے آج تک نہی دیکھی گئی اب تو جینا محال ہوچکا ہے بے پناہ بڑھتی مہنگائی سے جہاں زناکاریاں بڑھ چکی ہیں وہیں لوٹ مار اور اسٹریٹ کرائم میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے اور بیروزگاری میں لا متناہی اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ تین سالوں میں امیر امیرترین اور غریب غریب ترین ہوگیا ہے۔ کوئی شعبہ کوئی ادارہ کوئی محکمہ کرپشن بدعنوانی سے محفوظ نہیں رہا۔ لکھنے کو اس قدر ہے کہ کتاب در کتاب لکھی جاسکتی ہیں مگر تحریر پھر بھی کم نہ ھو کیونکہ یہ صرف تین سال کی کرپشن و لوٹ مار کی کہانی نہیں بلکہ ستر سالوں پر محیط ہے۔ یہ ملک اب جمہوریت کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے ستر سالوں سے جمہوریت نے سوائے مایوسی اور گمراہی کے کچھ نہیں دیا۔ قوم نظامِ مصطفیٰ کی طالب ہے تو قوم کو نظامِ مصطفی کیلئے خود کو بھی اہل بنانا ہوگا۔ نظامِ مصطفیٰ کیلئے پاکستانی قوم نے خود کو بدلا اور اہل ثابت کیا تو ان میں عزت و وقار بھی پیدا ہوگا ایمان اور یقین کی طاقت بھی آجائیگی اور دنیا ہماری آواز کے پیچھے چلے گی کیونکہ نظامِ مصطفیٰ والے صرف الله سے ڈرتے ہیں اور بے دریغ ہوکر دشمن سے جہاد کرتے ہیں۔ نظامِ مصطفیٰ میں حقوق العباد کو صفِ اول پر ترجیح دی جاتی ہے جہاں حقوق العباد مکمل رکھا جاتا ہے وہاں عدل و انصاف پڑوان چڑھتا ہے۔

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You