عنوان:ریاستِ پاکستان میں نجی تعلیمی شعبے

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:ریاستِ پاکستان میں نجی تعلیمی شعبے۔۔!!
ایک بار پھر میں اپنے کالم کے آغاز میں سنہ 1948 سے 1970 کا ذکر کرونگا کیونکہ اس عرصہ میں پاکستان بھر میں تعلیمی ادارے سرکاری سرپرستی اور ماتحتی میں بہترین نظام’ اعلیٰ معیار قابلیت و اہلیت کی بلند منازل میں سفر کررہا تھا یہاں تک کہ اس عرصہ میں حصول تعلیم پانے والے فارغ التحصل کے بعد بیشمار بین الاقوامی مقام تک پہنچے۔ ہر شعبہ اپنی مثال حیثیت رکھتا تھا لیکن افسوس سربراہان کی نا اہلی، تعصب، عصبیت، منافقت، اقربہ پروری کے سبب جہاں تمام شعبے تباہ و برباد ھوئے وہیں تعلیم کا شعبہ کہیں کا نہیں رھا۔ علم تو درکنار علم کا ع تک نظر نہیں آتا۔ پہلے جان بوجھ اور سوچے سمجھے پلاننگ اور ایجنڈے کے تحت خاص کر صوبہ سندھ کے سرکاری تعلیمی اداروں کا جنازہ نکال لیا۔ کہیں کوٹہ سسٹم کے ذریعے اہلیت و قابلیت پر زنجیریں پوست کردی گئیں تو کہیں آزادانہ رشوت کرپشن اور لوٹ مار سے تعلیم کو بازاری بھینٹ چڑھادیا گیا جو تاحال جاری ھے اب گویا سرکاری جاب کہنا شرم اور گالی سمجھا جاتا ھے کیونکہ رہی سہی کسر سندھ پبلک سروس کمیشن نے پوری کردی۔ عدالتِ عظمیٰ بار بار سندھ حکومت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کو شرمندہ کرتی آرہی ھے مگر یہ اتنے بے شرم بے حیا ہیں کہ ان کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی اور سندھ جیسی حالت صوبہ بلوچستان کی بھی ھے۔ ہمارے دوست بلوچستان میں تعلیمی بدحالی کی صورت حال بیان کرتے ھوئے بتاتے ہیں کہ دو ایکڑ سرکاری زمین پر قائم بیکن ہاؤس اسکول ارباب ٹاؤن کوئٹہ کا ماہانہ کرایہ دو روپے ستر پیسے اور مصالحتی لوگ؟
بدنصیب صوبے کا ننگا حکومتی نظام جو سرتاپا کرپٹ لوگوں کی بنیاد پر کھڑا ہے۔کرپٹ بیورو کریسی نظام کی جس شخص کے ہاتھ جو آیا لیکر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ سنہ انیس سو نوے میں کرپٹ ترین نظام کے چلانے والے لوگوں نے جہاں کوئٹہ کے دیگر سرکاری قیمتی زمینیں اپنے فرنٹ مینوں کے نام الاٹ کردی، وہیں پر ارباب ٹاؤن کوئٹہ میں واقع کیو ڈی اے کی ملکیت تقریباً دو ایکڑ زمین بیکن ہاؤس اسکول سسٹم کو تیس سال کیلئے لیز پر دیدی۔ حیران کن طور پر ایگرمنٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد سالانہ سو فٹ کی زمین پر ایک روپیہ کرایہ چارج کیا گیا ہے اور دو ایکڑ زمین کے سالانہ تقریبا نو سو نوے روپے کرایہ یعنی ماہانہ دو روپے ستر پیسے سنہ دو ہزار انیس تک وصول کیا گیا ہے۔ بیکن ہاؤس اسکول سسٹم ایک بچے کا چوبیس ہزار روپے ماہانہ فیس کی مد میں وصول کررہا ہے لیکن سنہ انیس سو نوے سے سنہ سنہ دو ہزار انیس تک یہ اسکول صرف نو سو نوے روپے سالانہ کرایہ حکومت بلوچستان کو ادا کرتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس صوبے میں سرکاری املاک لاوارثوں اور سٹی نالے کے نشئی اسمگلروں کی ملکیت ہے۔ اب دو سال کا عرصہ ہوچکا ہے کہ اسکول کے ساتھ صوبائی حکومت کے کیو ڈی اے کا لیز معاہدہ ختم ہوچکا ہے تو قبائلی نظام کے طرز پر چلنے والے صوبے میں مہنگے وکیلوں کے خدمات لے کر بلوچستان ہائی کورٹ میں کیس دائر کردیا گیا اور اس انتظامی معاملے کو انتظامی سطح پر حل کرنے کی بجائے اسٹے کے نام پر دو سال تک کورٹ میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہےاور حکومت کی نااہل قانونی ٹیم بھی اب تک یہ بات ثابت نہیں کرسکتی کہ یہ دو سال جس اس دو ایکڑ زمین جسکی مارکیٹ قیمت اربوں روپے ہیں کس کھاتے میں کسی غیر شخص کے پاس رکھی گئی ہے؟ اسکول کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے بلڈنگ اس زمین پر بنائی ہے اس لئے انکو کرایہ تھوڑا سے بڑھا کر ان کو زمین مزید لیز پر دیا جائے ان کی بلڈنگ قیمتی ہے اب کوئی انصافی بھائی یہ سوال نہیں کرتا کہ بھائی آپ کی بلڈنگ اپنی جگہ پر لیکن اس کا جواب دیں کہ تیس سال میں آپ نے صرف تیس ہزار روپے دیئے ہیں اگر یہ ہم ماہانہ دس ہزار روپے کرایہ پر دیتے تو اس طرح بیس بلڈنگ ہم کھڑی کرلیتے کیونکہ کوئی ایک ایسا خدا ترس شخص درمیان میں نہیں ہے جو حکومت اوراسکول انتظامیہ دونوں کو کہے کہ اس لیزکی ایگرمنٹ میں کوئی ایسی شق دکھا دے کہ جس میں یہ تحریر ہو کہ بلڈنگ بنانے کے بعد حکومت اسکول انتظامیہ کی بلڈنگ نہیں گرا سکتی ہے اور اربوں روپے مالیت کی زمین اونے پونے داموں اسکول کو مزید لیز پر دیں گے۔ اب اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیو ڈی اے کے نمائندے کے طور پر ایک شخص درمیان میں کود پڑا ہے جو سندھ کا ہے۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ سے اندرون خانہ بات کرلی ہے کہ اس دو ایکڑ اراضی کا کرایہ پچاس ہزار روپے مقرر کردیا جائے گا انکو صرف کچھ کروڑ روپے بطور تحفہ دئیے جائیں اور یہ لیز مزید تیس سال کی کردی جائے اس کے بعد پتہ نہیں کون حکمران ہوگا۔ انصاف کرنے کے ذمہداروں سے سوال ہے کہ صوبے کے سب مہنگے اسکول کو صوبے کی سب سے مہنگی سرکاری زمین نو سو نوے روپے سالانہ کس قانون کے تحت دی ہے ۔۔؟ اور اس کو مزید جائز کیوں قرار دیا جارہا ہے؟ کیا ہمارے اپنے ہمیں بطور صوبہ سپورٹ کرنے والے ہمیں نقصان پہنچانے کے مرتکب تو نہیں ہورہے ۔۔؟ کیا ان کے مفادات یہاں سے الگ ہیں کہ اتنی بڑی زمین گزشتہ دو سال سے لائن میں لگا کرکے نااہل حکمرانوں اور نااہل انتظامیہ کو مزید مفلوج بنانے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں؟ کوئٹہ میں تین اسکولوں کو بیکن ہاؤس، پاک ترک اسکول اور تعمیر نو اسکول کو قیمتی سرکاری زمین یا مفت یا اونے پونے داموں دینے کے عمل کو اس موقف کے ساتھ چیلنج کررہا ہوں کہ کیا یہ تمام اسکولز جس میں نو سو نوے روپے والا سالانہ ادا کرنے والے نے بلوچستان کے مقامی کتنے بچوں کو مفت پڑھایا ہے کہ کل تو یہاں پر باٹا کی کمپنی بھی آجائے گی کہ وہ کہیں گے کہ ہم آپ کے بچوں کیلئے بوٹ بنارہے ہیں اور آپ نالائق لوگ ہو اپنے بچوں کیلئےبوٹ نہیں بناسکتے ہو، تو کیا ہم ان کو دو ایکڑ سرکاری زمین نو سو نوے روپے میں دیں گے ۔۔؟ اور ان کا غیر قانونی ٹائم ختم ہو تو ہمارے اپنے بھائی ہمارے لئے مسئلے پیدا کریں اور ان کے سہولت کار بن جائیں اور انتظامی امور مفلوج کردیں۔ کوئی خوف خدا ہے۔۔۔؟ یا ہم بھی آپ کی طرح اپنے بچوں کو اس اسکول میں داخل کروائے اور دشمن کے بھی سہولت کار بن جائیں؟۔۔۔۔۔معزز قارئین!! بڑے دکھ اور افسوس کی بات ھے کہ تحقیق اور مشاہدے سے نتیجہ اخذ ھوا ھے کہ کراچی اور سندھ سمیت پاکستان بھر میں نجی سطح پر مقامی و منشنری اسکولز و اسپتال کو فلاحی طور پر اجازت نامے اور سستی ترین املاک و زمینیں اس لیئے دی گئیں تھیں کہ پاکستانی قوم کو معیاری اعلیٰ اور کم ترین فیس کی مد میں خدمات پیش کی جائیں گی مگر حقیقت بالکل برعکس ھے پاکستان کبھی نہیں بدلے گا کبھی نہیں سدھرے گا کیونکہ قوم نعروں، تقریروں اور بیانات کی عادی ھوچکی ھے۔ بے حس اور سوئے ھوئی قوم کو اب کوئی علامہ اقبال اور ایم اے جناح بیدار کرنے نہیں آئیں گے جب قوم تعصب، نفرت، عصبیت، حق تلفی، اقربہ پروری سے باز آجائیگی تب ہی ان میں بیداری کا عمل پیدا ھوگا بصورت بدقسمت قوم ہی رہیگی۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



