کالم/مضامین

عنوان:شرم تمہیں آتی نہیں مگر اے سندھ حکومت۔

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:شرم تمہیں آتی نہیں مگر اے سندھ حکومت۔۔۔!!

ایک دور وہ تھا جب پاکستان کے وسائل نہایت کم تھے لیکن تعلیم بہت بہتر نظام میں رائج تھی کوسوں دور تعلیم تجارت اور لوٹ مار سے محفوظ تھی۔ اسی فیصد سے زائد ماہر تعلیم حقیقی معنوں میں ماھر تھے کیونکہ ان ماہروں کا تعلق ہجرت یافتہ مہاجرین سے تھا جنھوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور وہ اس آزاد وطن کی قدر و منزلت سے بخوبی واقف تھے یہی وجہ ھے کہ انھوں نے اپنے پیشہ تعلیم میں عبادت کی طرح خشوع و خضوع کیساتھ پوری زندگی صرف کردی۔ علم بیچا نہیں بلکہ ثواب کے خاطر تقسیم کیا ان وقتوں میں یہ زیادہ عرصے کی بات نہیں ستر اور اسی کی دھائی تک حکومتی سطح کے تعلیمی ادارے بہترین خدمات پیش کرتے آرھے تھے لیکن ضیاء الحق شہید کے بعد تاجروں اور نااہلوں کے ہاتھ تعلیم کا محکمہ آگیا پھر کیا تھا سب سے پہلے میرٹ کا قتل کوٹہ سسٹم کے تحت جاہلوں نقل یافتہ من پسندوں کی تقرریوں نے ستیاناس کرڈالا۔ اب صورتحال گھمبیر حد تک برباد ھوگئی ھے۔ مزید تحریر کرنے سے پہلے بے شرم سندھ حکومت کو آئینہ دکھاتا ھوں کہ شائد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر تعلیم سعید غنی کو شرم آجائے یوں تو یہ صاحبان اور انکے آقا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو دنیا بھر دیکھ چکے ہیں مگر شائد یہ غافل ھیں کہ دنیا میں ایک ملک فن لینڈ بھی ھے جی ہاں فن لینڈ جہاں فن لینڈ کے والدین کو یہ فکر بالکل نہیں ہوتی کہ بچہ اب اسکول جانے لائق ہوگیا ہے تو کس اسکول میں داخلہ کرائیں. کیونکہ فن لینڈ کے سارے پرائمری اسکول ایک جیسے ہیں. عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں، یکساں فنڈ لیتے ہیں. وہاں رزلٹ کارڈ بچوں کیلئے نہیں اساتذہ کیلئے بنتے ہیں. یہ دیکھنے کیلئے کہ اس کی کلاس کا کونسا بچہ مزید محنت مانگ رہا ہے. ویرا کو پرائمری اسکول ٹیچر بننے کا بڑا "شوق” تھا. فن لینڈ میں پرائمری ٹیچر کیلئے اہلیت یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم ہے. ویرا نے وہ امتیازی نمبرز کے ساتھ پاس کی اور فوری ٹیچر کیلئے اپلائی کیا. پہلا ٹیسٹ تھیوری کا تھا. وہ پاس کرلیا. دوسرا گروپ پلاننگ کا تھا. ویرا چونکہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی گروپ ایکٹیویٹی پلان کرتی تھی تو اس نے یہ امتحان بھی پاس کرلیا. تیسرا پینل انٹرویو تھا. جس کا پہلا سوال ہوا آپ ٹیچر کیوں بننا چاہتی ہیں.؟ ویرا نے کہا مجھے بڑا "شوق” ہے. پینل بورڈ نے پوچھا یہ شوق کیسے ہوا. ویرا نے کہا چونکہ ہماری فیملی میں ٹیچر کافی ہیں تو مجھے بچپن سےٹیچر بننے کا شوق ہوگیا اور ویرا کو فیل کردیا گیا. ویرا فن لینڈ میں ٹیچرز ٹریننگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پاسی سالبرگ کی بھانجی تھی. اس نے اپنے ماموں کو روتے ہوئے فون کیا. ڈاکٹر صاحب نے کہا بیٹا انٹرویو پینل بچوں کا مستقبل کسی کے شوق کے سپرد نہیں کرسکتا. تم ایک سال کسی اسکول میں اسسٹنٹ کی جاب کرو تاکہ تمہیں انٹرویو کرنے والوں کے سوالات کے جوابات مل جائیں. اگلے سال دوبارہ کوشش کرلینا ۔۔۔ معزز قارئین!! ہماری تعلیم کا مسئلہ بھی پرائمری لیول سے ہی شروع ہوتا ہے نہ اسکول سسٹم یکساں ہے. نہ کورس یکساں ہے. نہ پرائمری اساتذہ کا اپنا تعلیمی معیار اعلیٰ ہوتا ہے نہ ان کو شوق ہوتا ہے نہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کو پڑھانے کی تکنیک کیا ہے تو آپ خود سوچیں یہ تعلیمی نظام ہمارے کل کو کیا بنیاد فراہم کر رہا ہے ہاں بس آئے روز ہم زبان ناکارہ نااہل کبھی حقوق کے نام پر احتجاج کرتے پریس کلب پر دھرنا دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی بائیکاٹ کرتے ھوئے۔ بس انہیں مفت خوری کی لت پڑی ھے نہ محنت کرنا جانتے ہیں اور نہ ہی پڑھانے سے دل لگاتے ہیں البتہ ہر سال انکی تنخواہوں میں اضافہ کردیا جائے انہیں سال بھر میں چھ ماہ چھٹی دیدی جائے سب کچھ جانتی ہے سندھ حکومت مگر کبھی بھی کاغذات کی چیکنگ, اہلیت کی چیکنگ اور پروموشن سے پہلے میرٹ کا امتحان لینا یہ سب کچھ معاف کیونکہ سیاسی سپورٹ کیلئے ہر ناجائز کام کرنے سے سندھ حکومت کو نہ شرم کرنا اور نہ ہی احساس ندامت پیدا کرنا ھے یہ عوام کی محنت کا ٹیکس ھوتا ھے جو انہیں تنخواہ کی مد میں دیا جاتا ھے بہتر یہی ھے کہ سندھ بھر کے تمام محکموں کی اسناد چیک کی جائیں اور جوائنٹ کمیٹی جو ریٹائرڈ ججز’ ریٹائرڈ فوجی افسران’ ریٹائرڈ ماہر تعلیم’ محققین’ مفکر’ ادیب اور سندھ سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا ایک ایک فرد پر مشتمل ھوں تاکہ بددیانتی اور ناانصافی کا عنصر پیدا نہ ھوسکے۔۔۔۔معزز قارئین!! سندھ حکومت آج کل اپنے میڈیا سیل سے خواب و خیال والے اشتہار چلا کر گاؤں دیہات کے سیدھے سادھے لوگوں کو تو بے وقوف تو بناسکتے ہیں مگر دنیا کو نہیں کیونکہ دنیا ان کی پست ترین اور خباثت سے بھری سوچ سے بہت آگے اعلیٰ ظرف کیساتھ نکل چکی ھے یہ اپنی گھٹیا سوچ کے سبب نہ صرف سندھ کو برباد کررہے ہیں بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچانے سے زرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے اب دیکھنا یہ ھے کہ صاحبِ نظر کب تک ان حالات سے نظر چراتے ہیں یقیناً بربادی پر آنکھیں بند نہیں بلکہ کھلی رکھنی چاہئیں۔ تعصب و عصبیت سے بالاتر ھوکر خدارا سندھ کو تباہی سے بچائیں اور میرٹ کو فوقیت دیتے ھوئے اہلیت و قابلیت کو فروغ دیں قابل لوگ ہی اس صوبے کی روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ میرٹ کا عمل سندھ بھر کے تمام محکموں میں لازم و ملزوم کردیا جائے۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You