سوہاوہ

اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز میں یہ کہا جائے کہ سودی نظام کے بغیر ہماری معیشت نہیں

اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز میں یہ کہا جائے کہ سودی نظام کے بغیر ہماری معیشت نہیں چل سکتی یہ ایسا فقرہ ہے

جو انکار کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔اگر ایسی سو چ کے حامل لوگ ہمارے معاشی نظام کو ترتیب دیں گے تو پھر غریب اور متوسط طبقے کا جو حال آج ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے غریب عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ہمیں وہ اسلامی اصول اپنانے کی ضرورت ہے جنہیں اپنا کر دنیائے کفر بھی دنیاوی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے آپ کو پرکھتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے اور معاشرے میں آپ کا کردار بہتری کی طرف ہو اگر بحیثیت مجموعی ہم اپنے اعمال اور معاملات کو درست کر لیں تو یاد رکھیں ہمارے ملنے سے ہی معاشرہ ترتیب پاتا ہے جس سے بہتری نظر آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج لوگ استخارہ کے لیے دو نفل پڑھ لیتے ہیں لیکن فرض نماز پڑھنا بوجھ سمجھتے ہیں کیونکہ ہم نے دین کو بھی دنیاوی ضروریا ت کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔جو فرائض چھوڑ کر استخارے کے لیے نوافل ادا کر رہا ہے اس کے نوافل کیا اور اس کا استخارہ کیا؟ فرائض بنیاد ہیں اگر بنیاد ہی نہیں ہے تو کیا حاصل ہوگا۔دین میں بھی ہم اپنی خواہشات ذاتی کو لے آئے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔
یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 36 روزہ سالانہ اجتماع جاری ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے آرہے ہیں اور اللہ اللہ سے اپنے قلوب منورکر رہے ہیں اس اجتماع میں ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق شب وروز گزارے جاتے ہیں جس میں ذکر اذکار اور تربیتی کلاسز بھی ہوتی ہیں تا کہ جب یہ لوگ اپنی عملی زندگی میں واپس جائیں تو ذاتی حیثیت کے ساتھ ساتھ قومی اور امتی ہونے کا کردار بھی معاشرے میں ادا کریں۔شیخ سلسلہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان روزانہ دن 12 بجے خصوصی خطاب بھی فرماتے ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You