عنوان:متاثرین صحافی کیلئے تنظیموں کی کوششیں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:متاثرین صحافی کیلئے تنظیموں کی کوششیں
دنیا بھر کیطرح پاکستان میں بھی متاثرین حکام بالا کی توجہ حاصل کرنے کیلئے بھرپور مثبت اقدامات اٹھاتے ہیں۔ ہم صحافی حضرات ان متاثرین کی گاہے بگاہے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ متاثرین کی تنظیمیں اس بابت فرنٹ لائن میں کھڑے ہوکر قدمی انتظامیہ کی جانب سے ہر زور جبر سختی کو برداشت کرتے ہیں اور اپنے اصولی موقف کو منواکر ہی اپنا احتجاج ہو یا عدالت میں پیٹیشن کو منزل مقصود تک پہنچاکر دم لیتے ہیں متاثرین جمہوری عمل کو اپناتے ہوئے آئینی اور قانونی حقوق کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ متاثرین کے اتحاد و اتفاق کے آگے بڑی سے بڑی حکومت ہو یا طاقتور اشخاص گھٹنے ٹیک دیتے ہیں لیکن افسوس صد افسوس وہ میڈیا جو ملک بھر کے متاثرین کی حقوق کا حصہ بنکر ایوانوں کی دیواروں کو ہلا دیتا ہے شب و روز پروگراموں میں بار ہا بار بے حس حکمرانوں اور ذمہداروں کو انکے ضمیر کو جگا دیتے ہیں لیکن جب میڈیا کے مالکان نے شب خون معاشی قتل کرنا شروع کیا تو بڑے بڑے عہدوں پر فائز مشہور و معروف اینکرز ہوں یا نیوز کنٹرولرز یا ڈائریکٹر نیوز اور صحافتی تنظیموں کے بڑے بڑے عہدوں پر برجمان رہنے والوں نے اُن کم تنخواہ دار ملازمین کیلئے مضبوط عملی مظاہرہ پیش نہیں کرسکے البتہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں راشن تقسیم کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔ معزز قارئین!! بڑی توجہ اور دھیان کے ساتھ برملا اس بات کا اظہار کرسکتا ہوں کہ اگر ہم صحافیوں نے اتحاد قائم نہ کیا تو ہم پاش پاش ہوجائیں گے ہمیں خودغرضی لالچ موقع پرستی اور بے ضمیری سے نکل کر نافع بننا پڑیگا بصورت صحافت سڑھے ھوئے مردہ کیطرح رہ جائے گی جس کو گِدھ کیطرح ضیافتی صحافی نوچ نوچ کر کھا جائیں گے۔ ہمیں اپنے صحافی اساتذہ کی تعلیم اور اصولوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ہے انکی ہدایت کے تحت شعبہ صحافت تروتازہ اور زندہ جاوید اس وقت رہتا ہے جب اس میں سچ و حق۔ ایمانداری و ایثار و قربانی اور جمہوری اقدار کا جذبہ موجود رہے۔ ایک صحافی با ضمیر عزت نفس درد دل سے مالا مال رہتا ھے اگر یہ خواص نہ ھوں تو اس میں منافقت اور خودغرضی جیسے امراض پیدا ھوجاتے ہیں جو صحافی کو صحافت سے دور ضیافت کا عادی بنادیتے ہیں یہ بیماری صحافتی برادری کیلئے زہر ثابت ہوتی ہے۔ مالکان اور انکے چیلوں کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ صحافت سے جڑے اعلیٰ منصب کے افسران اور صحافتی تنظیموں کے عہدیداروں کو ہر طرح دباؤ میں لایا جاتا ہے جو ان کے دباؤ میں آجاتے ہیں ان پر نوازشوں کی بارش عائد کردی جاتی ہیں اور جو متاثرین کیساتھ کھڑے رہتے ہیں ایک جانب انہیں بھی ادارے سے فارغ کردیا جاتا ہے یا پھر انکی مراعات میں کمی کردی جاتی ہیں۔ دوسری جانب وہ صحافتی تنظیموں کے عہدیداران بھی شدید کوفت اور اذیت کا شکار ہوجاتے ہیں جو حق و سچ اور متاثرین میڈیا کیساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ مجھے خوشی اور فخر ہے کہ میں ایک صحافی ہوں اور میری برادری سچے ایماندار نڈر با ضمیر عزت نفس رکھنے والے بیشمار ہیں چند ایک پٹھڑی سے اگر اتر بھی گئے ہیں تو انشاءالله انکا ضمیر اور احساس انہیں ضرور بیدار کریگا آمین ثما آمین۔ یقیناً میری اس تحریر کے بعد جو کچھ بھی ہماری صحافتی دنیا میں کمی بیشی ہوگئی ہے وہ ضرور دور ہوجائیگی جس کو جمہوری روایات کیساتھ ہمیں مضبوط بنانا ہے۔ غیر صحافتی اقدامات کو نکال باہر کرنا ہے تاکہ صحافت صاف و شفاف انداز میں آگے بڑھے ہمیں اپنی آئندہ صحافتی نسل کیلئے روشن و تابناک بنانا ہے یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ہم اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق اور سچ و حق پر کھڑے رہیں۔ ہر تنظیم اسی وقت کامیابی و کامرانی سے ہمکنار رہی ہیں جب انھوں نے ان باتوں کو ملحوظ خاطر رکھا۔۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



