عنوان: پاکستانی زائر سید اسد نقوی کی فریاد کرونا وائرس کے موذی اثرات نے اب پوری دنیا
عنوان: پاکستانی زائر سید اسد نقوی کی فریاد
کرونا وائرس کے موذی اثرات نے اب پوری دنیا
کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے، ایک بھوکے گد کے مانند دنیا بھر کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو دبوچ لیا ہے، دانا اور عقل مند لوگ ہی اس ظالم بھوکے قاتل سے محفوظ ہیں جنھوں نے حفاظتی اقدامات اپناتے ہوئے خود کو اور اپنے گھر والوں کوگھروں میں محصور کیا ہواہے، زندگی ہے تو سب کچھ ہے زندگی نہیں تو کچھ بھی نہیں، زندگی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔۔۔۔
معزز قارئین!! آج میں اس زائر کی بپتا اپنے کالم میں شامل کررہاہوں جوہمارے لیئے ایک سبق بھی ہے ۔۔۔معزز قارئین!! سوشل میڈیا میں پاکستانی زائر لکھتے ہیں کہ ” میں سید اسد نقوی ایرانی زائر ہوں میرا تعلق سکھر سے ہے میرے ساتھ دو سو کے قریب سکھر سے پاکستانی زائرین اور تقریبا پانچ ہزار کےقریب زائرین پورے پاکستان سےتھے،
ہمارے ساتھ ایران میں کیا ہوا ملاحظہ فرمائیں، ایران کے شہر قم میں ہم موجود تھے ہم زیارات میں مصروف تھے کہ اچانک ایرانی فورسز نے ہم کو حکم دیا اپنے اپنے پاسپورٹ دکھاؤ ہم کو کہا کہ فورناآپکو پاکستان واپس جانا ہے وجہ پوچھی تو کہا کہ کرونا وائرس پھیل چکا ہے اس لیے سب کو واپس جانا ہوگا ہم گھبرا گئے اب کیاہوگاہم سب کوشام کو ہوٹل سےنکال دیاگیا اور کمروں سےسامان نکال کر روڈ پر پھینک دیاسوارہونے کیلئے
بسوں کا شیڈول ہوتا ہے ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی ساتھ تھے، ایرانی فورسز نےدوسرے ممالک جنمیں انڈیا،عراق اور افغانستان کے زائرین کو کچھ نہیں کہا،اب رات کا وقت تھا،اب کہاں جائیں بھوکے اور پیاسے تھے تیس زائر بیمار تھے خدشہ تھا ان کو کرونا وائرس ہے صبح کے وقت ڈبل پیسے دے کر تفتان کے لیے روانہ ہوۓ راستہ میں روٹی کے لیے ڈرائیور نے ہوٹل پر بریک لگائی ہوٹل کا عملہ آیا اور کہا کہ نیچے نہیں اترنا شاپر میں روٹی اور سالن دیا گیا بس میں ہماری بری حالت تھی بیمار زائر ایرانیوں کو بددعائیں دے رہے تھے ۔مولا ایران کو تباہ کردے ہم نے انکے لیے ہم اپنے ہم وطنوں سے لڑتے رہے،
ہم نےجائز ناجائز ایران کو ہمیشہ سپورٹ کیا آج یہ ہمیں یہ صلہ دے رہے ہیں، راستہ میں اسپتال میں چیک اپ کیلئے رک گئے وہاں ہمارے ٹیسٹ ہوۓ ایک ایک ٹیسٹ کاانہوں نے ہم سے فی ٹیسٹ دس دس ہزار روپے لیے۔دو سو میں سے ساٹھ کے ٹیسٹ میں کرونا وائرس مثبت آگیا قریب کی بستی سے مولوی اور بستی والے آ گئے ڈنڈے سوٹے چاکو چھریاں لیکر انہوں نے کہا یہاں سے نکل جاؤ ہم کو بھی بیمار کرو گے ہمیں مارا پیٹا اور اسپتال کو آگ لگا دی ہم ڈرے ہوۓ تھے اب کہاں جائیں اپنے گھر کی یاد آ رہی تھی بیماروں کو دھکے دے رہے تھے پردہ دار ہماری بہنوں کےسرسےدوپٹےتک ظالموں نےاتار لیئے، بڑی مشکل سے بس میں سوار ہوۓ اور بسیں بھی آ گئیں تھیں ان بسوں میں سوار زا ئرین کا بھی یہی حال تھا ان کی بسوں پر پتھراو کیا گیا تھا اکثر بسوں کے شیشے ٹوٹے ہوۓ تھے اور مسافر زخمی تھے،کربلا کی طرح یہ بھوکا پیاسا لٹا پٹا قافلہ تفتان باڈر پر پہنچا پاکستان میں یہ خبر پہنچ چکی تھی لیکن باڈر پر موجود عملہ پریشان تھا اب کیا کریں ایرانی فورسز کیساتھ بات شروع ہو گئی
کہ ان سب کے پہلے ٹیسٹ کیئے جائیں گے لیکن ایرانیوں نے یہ بات نہیں مانی اور ہم پر لاٹھی چارج شروع کردیا ایسا تو یزید نے حسیںن کیساتھ بھی سلوک نہیں کیا تھا جو ایرانی ہمارے ساتھ کر رہے تھے۔ پاکستان کو غلیظ گالیاں نکال رہے تھے ہم پر تشدد کرنے پر ہماری عورتیں اور بچے چیخنے لگے عورتوں اور بچوں کو بھی مارا گیا، ہم علی کے واسطے دیتے رہے ہم کو نا مارو بچوں کا کیا قصور ہے، انہوں نے زبردستی پاکستان کے گیٹ میں ہمیں زبردستی دهكیل دیا۔ پیچھے بھی ستر بسوں کا قافلہ آرہا تھا انکے ساتھ بھی ایرانی بڑے برے طریقے سے پیش آئے پاکستان کی فورسز نے ہم کو چیک کیا کھانا دیا پانی دیا اور كیمپ سے اپنے اپنے صوبوں کو بھیج کر قرطینہ میں رکھا کچھ زائرین بھاری رقم رشوت میں دیکر اپنے گھروں کو چلے گئے
اب یہاں ہمارا علاج جاری ہے میں اپنے شیعہ حضرات سے درخواست کرتا ہوں علی کا واسطہ ہے ایران پر کبھی اعتبار نہ کرنا ایران میرے ملک پاکستان اور پاکستانیوں سے سخت نفرت کرتا ہے ملاؤں پر بھی اعتبار نہ کرنا ایرانی ملا پاکستان کے سخت دشمن ہیں اگر ہمیں ایران اپنے ملک میں علاج کرتا تو یہ وائرس کبھی پاکستان میں نہ پھیلتا اور آخری پیغام ایران کے کہنے پرسنیوں کا قتل عام نہ کرو یہ انڈیا کا دوست ہے اور رہےگا مولا پنجتن پاک ہم سب کی حفاظت کرے۔ آمین آپ کا اپنا سید اسد نقوی کارکن فقہ جعفریہ ۔۔ معزز قارئین!! الله تبارک تعالی سچ و حق کو بلآخر بے نقاب کردیتی ہے یہاں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چند وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے وزرا حضرات کا کردار مشکوک اور افسوسناک رہا ہے، موجودہ حالات کے تناظرمیں مسلک عصبیت اور لسانیت کو پس پیش کردینا ہے
ہماری کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے ان حالات میں اپنوں اور غیروں کی تمیز کریں کسی بھی مذہبی تفرقے میں نہ آئیں جس طرح مساجد میں احتیاط برتی گئیں ہیں اسی طرح امام بارگاہوں کو بھی عام مومنین کیلئے بند کردینا چاہئے ان حالات میں امام بارگاہوں میں اجتماعات سے ہمارے پاکستانی ہمارے لوگ کرونا وائرس کے اثرات سے متاثر ہوسکتے ہیں کیوں نہیں سمجھتے کہ ایرانی علما ہوں یا حکومت انتہائی بے وقوف ہیں
جو بھارت اسرائیل کی سازشوں کا آلہ کار بنتے ہوئے اپنے ہی مسلم بھائیوں کیلئے مشکل کا باعث بنتے ہیں، ہر مسلک کے انتہا پسند حلقے نے ہمیشہ دین اسلام کو نقصان پہنچایا ہے خدارا انتہا پسندیدگی کی باز آجائیں مدلل ہوش مندی اور میانہ روی کیساتھ اپنے زندگی گزاریں الله ہم سب میں اتفاق و اتحاد پیدا کرے آمین اس موقع پر علامہ اقبال رحمت الله علیہ کا یہ شعر یاد آتا ہے۔۔۔
ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لیکرتابخاک کا شجر
کالم کار۔جاوید صدیقی



