ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
حیا، سخاوت اور وفاداری کا روشن مینار
تحریر:
سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی
(حصہ دوم و آخری)
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ نے اپنے مال کو کبھی اپنی عزت و وجاہت کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کی سخاوت محض فیاضی نہیں تھی بلکہ ایمان، یقین اور آخرت پر کامل اعتماد کا عملی اظہار تھی۔
غزوۂ تبوک اسلامی تاریخ کا وہ عظیم مرحلہ ہے جسے قرآن مجید نے “سختی کی گھڑی” قرار دیا۔ شدید گرمی، طویل سفر، وسائل کی قلت اور طاقتور رومی سلطنت کا مقابلہ مسلمانوں کے لیے ایک کڑا امتحان تھا۔ ایسے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ قرآنِ مجید نے ان اہلِ ایمان کی تعریف فرمائی جنہوں نے اس مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت نازل فرمائی۔
ترجمہ:
“یقیناً اللہ نے نبی پر، مہاجرین پر اور انصار پر اپنی رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی، جنہوں نے تنگی کے وقت میں رسول اللہ کا ساتھ دیا…”
(سورۃ التوبہ، آیت: 117)
اسی موقع پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی بے مثال سخاوت کا ثبوت دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کی گود میں رکھ دیے۔ رسول اللہ ﷺ ان دیناروں کو اپنے دستِ مبارک سے الٹ پلٹ کرتے ہوئے خوشی کا اظہار فرما رہے تھے، پھر ارشاد فرمایا:
“آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں، وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔”
آپ ﷺ نے یہ جملہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا۔
(جامع ترمذی، حدیث: 3701، حسن)
محدثین نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ احکامِ شریعت سے مستثنیٰ ہو گئے تھے، بلکہ اس سے مراد ان کے اخلاص، ایثار اور عظیم قربانی کی قبولیت کی خوشخبری تھی۔
مدینہ منورہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت تھی۔ ایک کنواں، بئرِ رومہ، ایک یہودی کی ملکیت تھا اور لوگ اس سے پانی خریدنے پر مجبور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص بئرِ رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرے، اس کے لیے جنت ہے۔”
یہ اعلان سنتے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ کنواں خرید لیا اور ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے نام وقف کر دیا۔
(جامع ترمذی، حدیث: 3703)
یہ خدمت آج بھی تاریخِ اسلام میں رفاہِ عامہ اور دائمی صدقۂ جاریہ کی عظیم مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ ہی میں آنے والے فتنوں کی خبر دی اور ان میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حق پر ہونے کی گواہی بھی عطا فرمائی۔ حضرت مُرَّة بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ اسی دوران ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے وہاں سے گزرا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“اس دن یہ شخص ہدایت پر ہوگا۔”
راوی کہتے ہیں کہ میں نے قریب جا کر دیکھا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔
(جامع ترمذی، حدیث: 3704، حسن صحیح؛ سنن ابن ماجہ، حدیث: 111)
یہ حدیث اس حقیقت پر واضح دلیل ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اٹھنے والا فتنہ حق پر مبنی نہیں تھا، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی ان کی حقانیت کی گواہی دے دی تھی۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا سب سے بڑا علمی اور دینی کارنامہ قرآنِ کریم کی حفاظت ہے۔ اسلام کی سرحدیں وسیع ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں قراءت کے اختلافات پیدا ہونے لگے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ سے مشورہ کرکے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جمع شدہ مصحف کی بنیاد پر معیاری مصاحف تیار کیے اور انہیں اسلامی مراکز میں روانہ کیا۔ اس عظیم خدمت کے نتیجے میں امت ایک ہی مصحف پر متحد رہی اور قرآنِ کریم اپنی اصل شکل میں محفوظ رہا۔ آج دنیا بھر میں پڑھے جانے والے مصاحف اسی عظیم خدمت کی یادگار ہیں۔
آپ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست مشرق و مغرب میں وسعت اختیار کرتی گئی۔ آرمینیہ، آذربائیجان، خراسان، شمالی افریقہ اور قبرص تک اسلامی فتوحات پہنچیں۔ اسلامی بحریہ کو مضبوط بنیادیں ملیں اور مسلمانوں کی سیاسی و عسکری قوت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
بدقسمتی سے آپ کے آخری دورِ خلافت میں بعض شرپسند عناصر نے امت میں انتشار پیدا کیا۔ انہوں نے جھوٹے الزامات اور افواہوں کے ذریعے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ اس نازک موقع پر بھی آپ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنی خاطر قتال کرنے سے منع فرمایا۔ آپ بخوبی جانتے تھے کہ اگر مدینہ میں تلوار اٹھ گئی تو مسلمانوں کا خون بہے گا اور امت کا اتحاد مجروح ہوگا۔
آپ نے اپنی جان قربان کر دی، مگر مسلمانوں کو آپس میں لڑنے نہ دیا۔ آخرکار آپ روزے کی حالت میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیے گئے۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کی وہ پیش گوئی پوری ہوئی جس میں آپ کو آزمائش اور شہادت کی بشارت دی گئی تھی۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایمان صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ حیا، سخاوت، صبر، حلم، عفو، اتحادِ امت، خدمتِ دین اور اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی پیش کرنے کا نام ہے۔ انہوں نے اقتدار کو خدمت سمجھا، دولت کو امانت جانا، اور عزت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھ کر ہمیشہ عاجزی اختیار کی۔
آج امتِ مسلمہ اگر اپنے اختلافات پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت سے سبق لینا ہوگا۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عظمت طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ کردار کی پاکیزگی، اخلاق کی بلندی اور اللہ پر کامل توکل میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، خصوصاً سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کی سیرت کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


